ویلنٹائین ڈے، محبت اور سائنس
یادش بخیر، ہمیں پہلی محبت اس وقت ہوئی جب ہم پہلی جماعت کے طالب علم تھے اور دل و جان سے اپنی ہی ہم عمر اور ہم جماعت عفیفہ پر دل و جان سے فدا ہو گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ جذبہ محبت کہلاتا ہے۔ وہ تو بعد میں فلمی گیتوں میں دی گئی علامات (دل کا دھڑکنا یہ بھی چاہت ہے، نیند نہ آنا یہ بھی چاہت ہے ) سے اپنی علامات کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دھڑکنوں کی بے ترتیبی، ہتھیلیوں کے پسینے اور گالوں کی سرخی کے پیچھے محبت ہو سکتی ہے۔
نہ محبت بچوں کا کھیل ہے اور نہ اسے اور اس کے دیگر ہم معنی لفظوں کو سمجھنا۔ محبت کے ساتھ مجازی، حقیقی، پاک اور سچی جیسے سابقے اور لاحقے ہمارے تذبذب میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ رہی سہی کسر، اردو شاعری پوری کر دتی ہے جہاں ایک شاعر محبت کو بارش کے بغیر چلنے اور چڑھنے والے دریا سے تشبیہ دیتے ہیں تو ایک دوسرا نہ لگنے بجھنے والے آگ سے تعبیر کرتا ہے۔ کوئی اسے کام سمجھتا ہے تو کوئی کھیل، کوئی ”سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے“ کہتا ہے تو کوئی آگ کا دریا۔
گو محبت کرنے والی شے ہے سمجھنے والی نہیں مگر اپنی قنوطی طبیعت کے باعث ہم اسے سمجھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ سو جب شاعری سے بات نہ بنی تو ہم نے سائنس سے رجوع کیا (جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا) ۔ جو کچھ معلوم ہوا وہ موقع کی مناسبت سے آپ کے گوش گزار کیے دیتے ہیں۔
سائنسدان اور ماہرین نفسیات محبت یا اس سے ملتے جلتے احساسات کی تین اقسام بتاتے ہیں۔
پہلی قسم ہوس ہے جس پر ماجد محمود ماجد کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے :
ہوس ہوتی تو پوری کر بھی لیتے
محبت تھی ادھوری رہ گئی ہے
ہوس جیسے جذبے کے پیچھے مردانہ (ٹیسٹو سٹیران) اور زنانہ جنسی ہارمون (ایسٹروجن) ہوتے ہیں جو جنسی اشتعال کی وجہ بنتے ہیں۔ یہ جذبہ عارضی ہوتا ہے اور ارتقائی پہلو سے اس کے پیچھے افزائش نسل کے ذریعے اپنی نسل کی بقا ہے۔
دوسری قسم کو ہم رومانوی محبت یا لگاؤ کہہ سکتے ہیں۔ اس میں ہمیں کوئی خاص شخص نہایت پرکشش معلوم ہوتا ہے جس کو بار بار دیکھنے، اس سے باتیں کرنے اور وقت گزارنے کو دل کرتا ہے۔ دراصل اس کے پیچھے ہمارے دماغ کا انعامی نظام ہے۔ جب جب ہم محبوب کو دیکھتے ہیں، دماغ، ڈوپامین اور نار اپینفرین ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمارے احساسات لطیف ہو جاتے ہیں۔ محبوب کو بار بار دیکھنے کی خواہش بھی اسی لیے پیدا ہوتی ہے۔
محبت کو نشہ کہنے والے کچھ غلط بھی نہیں کہتے کہ جس طرح نشہ کرنے پر جسم میں ڈوپامین کی مقدار بڑھنے پر ہم اچھا محسوس کرتے ہیں۔ اور نشہ نہ ملنے پر ڈوپامین کا عادی جسم ٹوٹنا اور بے چین ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح محبوب کے وصال کے لیے دل تڑپتا رہتا ہے اور فراق میں بے چینی، بھوک اور نیند روٹھ جاتی ہیں۔ شادی شدہ جوڑوں کا ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکنے کے پیچھے بھی ڈوپامین ہارمون ہے۔ اس طرح کی محبت میں سروٹانن ہارمون کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بھوک میں کمی اور رویے میں تبدیلی آتی ہے۔
محبت کی تیسری اور آخری قسم طویل میعادی ہے۔ طویل دورانیے کے تعلقات میں لگاؤ مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو ہمیں اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں یا وطن سے ہوتی ہے۔ اس طرح کی محبت میں دو ہارمون آکسیٹوسن اور ویسوپریسن کا مرکزی کردار ہے۔ جب والدین اپنی اولاد کو گلے لگاتے ہیں یا پیار سے دیکھتے ہیں تو دونوں کے خون میں آکسیٹوسن کی مقدار بڑھتی ہے جس کی وجہ سے انھیں ایک خاص طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ اپنے پیاروں سے دوری پر انسان اسی لیے بے چینی اور بے قرار ہوتا ہے۔ آکسیٹوسن ہارمون جوڑوں میں لگاؤ، طمانیت، سکون اور تحفظ کے احساسات کو پختہ کرتا ہے۔ جبکہ ایک ہی شخص سے طویل میعادی تعلق میں ویسوپریسن ہارمون کا مرکزی کردار ہے جس کی وجہ سے فراز صاحب محبت میں توحید کے قائل ہوئے۔
ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا ہے
کیا محبت اندھی ہوتی ہے؟
یوسفی صاحب نے لکھا ہے کہ بعض مردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلتیں اٹھانی پڑتی ہیں کہ کہ محبت اندھی ہوتی ہے کا مطلب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔ محبت میں اندھا ہونے کی سائنسی وجہ موجود ہے۔ جسم میں جب جنسی ہارمون بڑھتے ہیں تو دماغ کا وہ حصہ جو منطق اور رویے کو کنٹرول کرتا ہے وہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے مبتلا محبت احمقانہ سے حرکتیں سرزد ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے عیب بھی نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح منفی جذبات مثلاً خوف اور لوگ کیا کہیں گے جیسے جذبات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
محبوب کی دید پر دل کی دھڑکنوں کا بڑھنا یا بے ترتیب ہونا، گالوں کی سرخی اور ہاتھوں پہ پسینہ آنا عموماً رومانوی محبت کے ابتدائی دنوں میں ہوتا ہے جس میں سٹریس ہارمون کارٹیسول کی مقدار بڑھتی ہے جب کہ سیروٹونین کی مقدار کم ہو جاتی ہے جو ہماری بھوک اور موڈ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ ساری سائنسی تاویلات اپنی جگہ، اپنے تئیں ہم اپنے لیے (اور آپ بھی ہمارے لیے ) بس یہی کہیں گے کہ:
قاصدا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے


