مبین مرزا کے ہاں روشنیوں کے شہر کراچی کا نوحہ


شہروں کے بسنے اور اجڑنے کی داستان کوئی نئی نہیں ہے، یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔ دنیا میں کتنے ہی ایسے شہر ہیں جنھیں لوٹنے والوں نے انھیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ان کے باسیوں کو بے گھر کر دیا۔ صرف کراچی ہی وہ شہر نہیں ہے جہاں لوٹ مار کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ موجود ہے۔ دہلی، ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی بڑی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ دہلی کو جس طرح بار بار لوٹا گیا یا ہیروشیما اور ناگاساکی کو جس طرح ایٹمی دھماکوں سے مکمل طور پر اڑا دیا گیا اس سے بڑا ظلم کسی شہر کے ساتھ بھلا کیا ہوا ہو گا۔ ہر ادیب نے اپنے خطے کے اجڑنے کا نوحہ اپنے انداز سے بیان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دلی کے اجڑے کو دل کے اجڑے سے تعبیر کیا گیا۔

صرف دلی کی تباہی اور درد و الم کی داستان کو لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دلی کے مقدر میں بار بار اجڑنا لکھا تھا۔ پہلے پہل افغانیوں نے دلی کو کھدیڑا، تیمور اور نادر شاہ کے ہاتھوں دلی کی جو تباہی ہونی تھی ہوئی، مگر جو تباہی انگریزوں نے مچائی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دلی میں انسان ڈھونڈے نہیں ملتا تھا۔ البتہ لاشیں اور گلی کے آوارہ جانوروں سے جو بچ رہا ان کے بھنبھوڑے لاشے جا بجا دکھائی دے جاتے۔ ناصر کاظمی نے ان حالات کو یوں بیان کیا:

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فن کار
بھور بھیئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ

یعنی دلی کو لوٹنے والوں نے اس کا جو حال کر دیا اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ اس صورت حال کا بیان کئی شعرا اور ادیبوں کے ہاں ملتا ہے۔ لیکن عہد حاضر میں کراچی کی جو صورت حال ہو چکی ہے وہ پرانے دلی سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اور اگر وہ شعرا عہد حاضر میں ہوتے تو کراچی کے بارے میں یہی لکھ رہے ہوتے جو منظر نامہ انھوں نے دلی کا پیش کیا۔ ایک وقت تھا جب کراچی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج وہ کھنڈروں میں بدل رہا ہے اور اس کی روشنیاں ماند پڑ چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کے ادیب شہر کراچی کی ابتر ہوتی صورت حال سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان میں ایک نمایاں نام مبین مرزا کا ہے۔ چونکہ وہ براہ راست کراچی شہر سے وابستہ ہیں اس لیے وہ کراچی کے حالات سے متاثر اور ان پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔ کراچی شہر کے منظر نامے پر انھوں نے سب سے زیادہ لکھا۔ اس ضمن میں ان کے افسانے ”خوف کے آسمان تلے“ ، ”دام وحشت“ اور ”ٹھہرے ہوئے وقت میں“ قابل ذکر ہیں۔

افسانہ ”خوف کے آسمان تلے“ سے ایک اقتباس دیکھیں :

”اس کے بعد وہ اپنے شہر کے سیاسی، گروہی اور لسانی مسائل کے بارے میں سوچنے لگے۔ وحشیوں کا، درندوں کا شہر ہو چکا ہے کراچی، انسان نہیں بستے یہاں۔ انسان ایک دوسرے کے ساتھ نہیں کر سکتے یہ سب کچھ۔ یہ بربریت۔ یہ سفاکی۔ بالکل غیر انسانی صورت حال۔“

افسانے کا کردار غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے کہ جو کراچی میں ہو رہا ہے ایسا انسان ایک دوسرے کے ساتھ کبھی کر سکتے ہیں۔ وہ کردار یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ بربریت اور سفاکی، غیر انسانی عمل ہی ہو سکتا ہے۔ کم از کم انسان تو ایک دوسرے کے ساتھ یہ سلوک روا نہیں رکھ سکتے۔

شوکت صدیقی کے ناول ”خدا کی بستی“ میں بھی ہمیں کچھ ایسی ہی صورت حال نظر آتی ہے۔ اس ناول میں کراچی شہر کی زندگی کے مصائب بیان کیے گئے ہیں۔ اس نظام میں جہاں زندگی کو گزارنے کی تگ و دو دکھائی گئی، وہیں نا انصافیوں، جرائم اور معاشرتی استحصال کے پہلو بھی نظر آتے ہیں۔ کراچی شہر کے تناظر میں لکھے گئے اس ناول میں تین کردار جب انسانی ہاتھوں سے بری طرح کچلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک کردار (راجہ) انسانوں سے کٹ کر اپنے ساتھ ایک کتا رکھ لیتا ہے :

”رات کے پچھلے پہر نوشا کی آنکھ کھل گئی۔ کتا بارش سے بھیگ کر کوں کوں کرتا ہوا اس کی ٹانگوں کے اندر گھس گیا تھا۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا اور کتے کو گالیاں دینے لگا۔“ تو نے بھی کیا جھمیلا پال رکھا ہے ”۔ راجہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔ ”یار انسانوں کا ساتھ تو چھوٹ گیا۔ اب جانوروں سے بھی دوستی نہ کروں“

ناول ”خدا کی بستی“ کے کردار بھی کراچی کی مجموعی صورت حال اور وہاں کے درندوں کے ہاتھوں ہونے والے استحصال کی وجہ سے بے یقینی کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس شہر کے انسانوں کے بجائے ایک کتے سے دوستی کو ترجیح دیتے ہیں۔

مبین مرزا بھی جب کراچی شہر کی ابتری کو دیکھتے ہیں تو اس پر افسردہ نظر آتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ شہر پاک سر زمین کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ اسے روشنیوں کا شہر اور عروس البلاد کہا جاتا تھا۔ اس شہر کی چکا چوند آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ لیکن پھر یہاں لوٹ مار کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے کبھی تھمنے کا نام ہی نہیں لیا۔ بھتہ خوری کا بازار گرم ہوا۔ لوگوں کو دن دیہاڑے اغوا کیا جانے لگا۔ اس اجتماعی صورت حال نے کراچی کے باسیوں کو ایسی بے یقینی کی طرف دھکیل دیا جہاں سے نکلنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ مبین مرزا کے افسانہ ”خوف کے آسمان تلے“ کا ایک کردار پروفیسر اس شہر کا منظر نامہ یوں بیان کرتا ہے :

”یہاں تو کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس شہر کے باسی یرغمال بنا لیے گئے ہیں۔ مختلف سیاسی گروہوں نے شہر کے مختلف حصوں پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ سب۔ ہم سب قیدی ہیں یہاں۔ کوئی اپنی مرضی سے نہیں جی سکتا۔ جنگل کا قانون ہے یہاں“

اس افسانے میں پروفیسر نے کراچی کا جو منظر نامہ بیان کیا ہے اس سے اس شہر کی حالت زار کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یعنی کسی بھی لمحے اس شہر کے باسیوں کے ساتھ کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں کہ آنے والی گھڑی ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ کیونکہ شہر پر مختلف سیاسی گروہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور شہر کے باسی ان جنگی قیدیوں کی طرح ہیں جن کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ ان کی حیثیت جانوروں سے زیادہ نہیں ہے، جنھیں جس سمت بھی ہانکا جاتا ہے وہ ادھر ہی چل پڑتے ہیں۔

انتظار حسین کا ناول ”آگے سمندر ہے“ کراچی کے اسی منظرنامے پر ہے۔ اس میں انھوں نے دکھایا ہے کہ جدید عہد کی مادیت پسند سوچ کی وجہ سے کراچی میں سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اس تہذیبی اتھل پتھل سے ہولناک بحران پیدا ہو چکا ہے۔ معاشرتی فضا خراب ہو چکی ہے۔ خود غرضی اور مفاد پرستی نے انسانی رشتوں اور قدروں کو پامال کر دیا ہے۔ بے اطمینانی اور افراتفری نے اس شہر میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ انسان کے دل و دماغ پر تعصبات، نفرتوں، فرقہ واریت اور ذات برداری کا قبضہ ہے۔ یہ شہر کبھی امن و سکون کا گہوارہ تھا۔ لیکن اب صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ناول ”آ گے سمندر ہے“ سے ایک اقتباس دیکھیں :

”اے عبداللہ میں یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ یہ تیرا شہر تو بڑا مہربان شہر تھا۔ پالنے والے کی قسم! میں نے اسے سمندر سے زیادہ وسیع القلب پایا تھا مگر اس نے مجھے ڈرانا کیوں شروع کر دیا ہے“ ۔ ”ایک ڈر میرے اندر منڈلا رہا ہے۔ کبھی کبھی تو میں زیادہ ہی ڈر جاتا ہوں پتا نہیں کہ میرا محض وسوسہ ہے“

اب اس شہر کے باسی اس سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ وہ اس وقت کو یاد کر رہے ہیں جب یہ شہر امن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔ جب یہ سمندر سے بھی زیادہ وسیع القلب تھا۔ لیکن اب اس نے اپنے باسیوں کو ایک ایسی تصویر کی جانب دھکیل دیا ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی وقت کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے۔ ایک خوف ہے جس نے ان کے اندر مستقل ڈیرے جما لیے ہیں۔ اس شہر میں کوئی بھی شخص کس وقت دوسرے کی گولی کا نشانہ بن جائے یہ کسی کو بھی معلوم نہیں۔ کتنے ہی بے قصور لوگ لوٹ مار کرنے والوں کی بھینٹ چڑھے۔ جو کسی کھاتے میں نہیں گئے۔ وہ کسی گنتی میں شمار نہیں ہوئے۔ اور نہ ہی انھیں کسی گولی کا نشانہ بنانے سے پہلے یہ بتایا گیا کہ ان کا قصور کیا تھا۔

اس شہر کی مجموعی صورت حال نے ہر طبقے اور انفرادی طور پر ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی اور بم دھماکوں سے شہر کا کوئی بھی کونا نہیں بچ پایا۔ یہاں تک کہ اس نے عبادت گاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس صورت حال سے کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ کتنے ہی گھر اور محلے ایسے ہیں جو اس شہر کی دہشت گردی نے اجاڑ دیے ہیں۔ اور کتنے ہی ان بم دھماکوں کی زد میں آ کر معذور ہو گئے۔

کراچی شہر میں کبھی مروتیں اور محبتیں ہوا کرتی تھیں۔ مادی ترقی نے لوگوں کی روایات ترجیحات اور رویوں میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ وہ لوگ جن کو اس شہر نے نئی پہچان دی وہ بھی سیاسی، تہذیبی اور تمدنی ڈھانچے کے زوال پذیر ہونے کے غم میں بے بس اور مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ کراچی شہر جدید دور کی نئی مصیبتوں اور مشکلات کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے سارا معاشرہ اذیت اور خوف میں مبتلا ہے۔ بے قصور لوگ گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ خوف اور دہشت کی فضا سے سارا ماحول افسردہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال نے جہاں ہر طبقے کو متاثر کیا، وہاں ادیب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے۔ مبین مرزا ان ادیبوں میں سر فہرست ہیں جنھوں نے کراچی کی اس ابتر صورت حال کو محسوس کیا اور اسے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔

Facebook Comments HS