مبین مرزا کے ہاں روشنیوں کے شہر کراچی کا نوحہ

شہروں کے بسنے اور اجڑنے کی داستان کوئی نئی نہیں ہے، یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔ دنیا میں کتنے ہی ایسے شہر ہیں جنھیں لوٹنے والوں نے انھیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ان کے باسیوں کو بے گھر کر دیا۔ صرف کراچی ہی وہ شہر نہیں ہے جہاں لوٹ مار کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ موجود ہے۔ دہلی، ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی بڑی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ دہلی کو جس طرح بار بار لوٹا گیا یا ہیروشیما

Read more

حضور والا ایک نظر ادھر بھی

ترک وطن انسانی المیہ ہے۔ ایسا المیہ جو ہمیشہ سے رہا ہے۔ کہتے ہیں انسان کو ہمیشہ اپنی مٹی سے محبت رہتی ہے اور وہ کسی طور بھی اس سے جدا ہونے کو ترجیح نہیں دیتا۔ اپنی مٹی سے لگاؤ کا یہ امر فطری ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ بیشتر انسان اپنی دھرتی کو چھوڑنے پر مجبور ہیں؟ کیا دھرتی ماں سے ان کی محبت ختم ہو چکی ہے؟ یا اس خطے کے مجازی خدا انھیں ان کے بنیادی

Read more

اقبال کی عصری معنویت

علامہ محمد اقبال جس عہد میں شاعری کر رہے تھے صرف اسی تک محدود نہیں رہے۔ وہ اپنے عہد سے ماورا اور دور اندیش تھے۔ اور مستقبل میں دیکھنے والی نظر رکھتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں شاعری کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے انھوں نے اکیسویں صدی کے موجودہ حالات کو بھانپ لیا تھا۔ اقبال کی شاعری ہمارے عہد کی عکاس ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اقبال اکیسویں صدی کے شاعر ہیں۔ اور ہمارے عہد حاضر کے حالات و

Read more

اقبال اور تہذیب مغرب

علامہ اقبال نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مغربی دنیا کا سفر کیا۔ مغربی علوم اور جدید فلسفہ و ادب سے تو انھوں نے استفادہ کیا لیکن مغربی تہذیب سے وہ متفق نہ ہو سکے۔ وہ جس قدر مغربی تہذیب کے قریب تر ہوتے گئے ان کے ذہن جب اس کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا گیا۔ قیام یورپ کے دوران ہی مغربی تہذیب کے بارے میں اقبال نے یہ رائے قائم کر لی تھی: تمہاری تہذیب، اپنے خنجر سے

Read more

غلام عباس کا افسانہ ”اوور کوٹ“

غلام عباس کے افسانہ ”اوور کوٹ“ پر ژونگ کی پہلی آرکی ٹائپ Persona کے اثرات ہیں۔ یہ وہ آرکی ٹائپ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہے۔ مثال کے طور پر ہم شروع سے ایک بات سنتے آ رہے ہیں ”با ادب با نصیب“ یہ چیز نسلوں سے گزر کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ Persona کو ہم ماسک کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا Public face ہے۔ یہ آرکی ٹائپ ہم نے اپنے اجتماعی لاشعور سے لی ہے۔ افسانہ

Read more

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مرزا اسد اللہ خاں غالب نے کہا تھا: بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے ایسا کون سا تماشا باقی ہے جو اس مملکت خدا داد کے باسیوں نے نہیں دیکھا۔ آئے دن کوئی نیا تماشا ان کا منتظر ہوتا ہے۔ اور اس کی بھینٹ چڑھنے والے بھی ہمیشہ سے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دھرتی میں جب بھی کسی نے خود کو اصلی وزیر اعظم سمجھا، یا سمجھنے کی کوشش

Read more

ادب کے فروغ میں ریڈیو کا کردار

برصغیر میں ریڈیو دوسری جنگ عظیم سے قبل آیا۔ لیکن امریکہ میں اس کا استعمال 1920 میں شروع ہو گیا تھا۔ نشریات سننے کے لیے کرسٹل ریڈیو بنایا گیا جو بیٹری یا کسی دوسری طاقت کے بغیر کام کرتا تھا۔ اس ریڈیو سیٹ میں اسپیکر نہیں تھا اور سننے والوں کو ایر فون لگانا پڑتا تھا۔ اس عشرے کے وسط میں سائنسدانوں نے ایسا ریڈیو تیار کر لیا جو بجلی کی قوت سے چلتا تھا۔ ریڈیو ایک ایسی ایجاد ہے

Read more

سیاست یا انتقام؟

سابق وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقتدار تو بلند و بانگ دعووں کے ساتھ سنبھالا تھا۔ اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ اب ان کی تقدیر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ موروثی سیاست دانوں کی کرپشن سے ستائے ہوئے عوام نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کا ساتھ دینے کے لے کمر کس لی۔ مگر خدا جانے ایسا کیا ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ سب دعوے دھیمے پڑتے گئے۔ اور خان صاحب نے

Read more

شاہد احمد دہلوی کے گنجینہ گوہر

”گنجینہ گوہر“ شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے عہد کی منتخب شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔ شاہد احمد دہلوی نے ادبا کے کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ مولوی نذیر احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد ایک نابینا جید عالم کو نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا۔ اس میں ڈھائی سال لگ گئے لیکن تب تک اسے شائع نہ کیا جب

Read more

افسانہ: زنجیر

کل اسے بھرے مجمعے میں داستان سنانا تھی۔ آنے والے کل کو ذہن میں لا کر وہ سوچنے لگا کہ وہاں لوگوں کی کس قدر بھیڑ ہو گی۔ لوگ اسے داد دے رہے ہوں گے۔ تالیوں کا ایک شور ہو گا جو تھمنے کا نام نہیں لے گا۔ اسی کش مکش میں اس نے کاغذ نکالا اور داستان لکھنا شروع کی۔ یہ قصہ ہے اک ایسے بھلے مانس بادشاہ کا جو اپنی زندگی میں ویسا ہی پارسا اور نیک نام

Read more

جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے

ہمارے استاد محترم نے ایک بار ہمیں ایک لطیفہ سنایا تھا۔ کہنے لگے کسی ملک پر ایک ظالم بادشاہ مسلط تھا۔ وہ عوام پر ظلم و ستم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ مگر عوام یہ سب کچھ سہتے ہوئے خامشی سے اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ بادشاہ بڑا پریشان تھا کہ یہ اتنے صابر کیوں ہیں میرے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ بالآخر اس نے تنگ آ کر حکم دیا کہ کل سے ہر ایک کو پکڑ

Read more

محمود نظامی کا سفر نامہ ”نظر نامہ“

اردو سفر ناموں کی روایت یوسف حسین کمبل پوش کے سفر نامہ ”عجائبات فرنگ“ سے شروع ہوتی ہے۔ سرسید نے اپنے بیٹے کے ساتھ انگلینڈ کا سفر کیا تو اس سفر کی روداد ”مسافران لندن“ کے عنوان سے لکھی۔ اسی طرح مولانا جعفر تھانیسری کو انگریزی حاکموں کی طرف سے کالے پانی کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے اس سفر کی روداد ”کالا پانی“ کے عنوان سے مرقوم کی۔ بیسویں صدی میں سفر نامے کی صنف پر پہلے سے

Read more

احسان دانش کی آپ بیتی ”جہان دانش“، غریب طبقہ اور جہد مسلسل

احسان دانش کا تعلق چونکہ خود غریب طبقے سے تھا اس لیے انھوں نے اس طبقے کی حالت زار کو قریب سے دیکھا اور آپ بیتی میں بیان کیا۔ انھوں نے اپنے قصبہ ”کاندھلہ“ کے باسیوں کی محنت، مشقت اور مشکلات کا تذکرہ کیا۔ احسان دانش کو غربت اور مزدوری گویا وراثت میں ملی تھی۔ چوتھی تک تعلیم حاصل کی پھر والد کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ ان کے اخراجات اٹھا سکتے۔ تعلیم ترک کی اور والد کے

Read more

”آواز دوست“ کے گم شدہ چراغ

مختار مسعود نے ”آواز دوست“ کے دوسرے مضمون ”قحط الرجال“ کا آغاز ولندیزی بچے کی کہانی سے کیا۔ جس نے ایک شام سمندری پشتے پر جاتے ہوئے ایک چھوٹے سے سوراخ کو دیکھا تو گاؤں جا کر اس کی خبر کرنے کی بجائے خود اس سوراخ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔ رات ہوئی وہ سو گیا اور سردی کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ لیکن اس نے اپنے حصے کا کام کر دیا تھا۔ اس حکایت

Read more

آواز دوست: تاریخ اور قحط الرجال

” آواز دوست“ کے پہلے حصے میں مختار مسعود نے تاریخ کو موضوع بنایا۔ وجہ شاید یہ ہے کہ وہ چونکہ خود بیوروکریٹ تھے اور تاریخ کا خاصا مطالعہ رکھتے تھے۔ جب مینار پاکستان تعمیر ہوا تو وہ تعمیری کمیٹی کے صدر تھے۔ انھوں نے مینار پاکستان کے ذریعے سے تعمیر پاکستان کے حالات کو پیش کیا۔ پھر دنیا میں موجود اور بہت سے میناروں کا تذکرہ بھی کیا۔ ان میناروں کی پائیداری اور ناپائیداری پر بحث کی۔ ان کی

Read more

تصورِ خودی اور علامہ محمد اقبال

”خودی“ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خود مختاری، خود پرستی، انانیت، خود سری اور خود رائی۔ اقبال کے ہاں خودی کا لفظ تکبر یا غرور کے معنوں میں نہیں آیا۔ ان کے ہاں خودی احساس غیرت مندی کا نام ہے۔ اپنی انا کو شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا نام ہے۔ تصور خودی کو اقبال

Read more

اقبال کا تصورِ عشق

مسلمانوں کے ہاں صدیوں سے عشق کی دو اصطلاحیں رائج ہیں عشق حقیقی اور عشق مجازی۔ عاشق حقیقی سے مراد وہ عشق لیا جاتا ہے جو پاک ہو اور اس کے اندر جنسیت کا کوئی شبہ نہ ہو۔ یعنی خدا تعالیٰ کی ذات سے عشق۔ کلاسیکی شاعری میں عشق سے مراد عاشق اور محبوب کے درمیان تعلق کا ہونا ہے۔ اس میں ہجر و وصال کے قصوں کا بیان تھا۔ رونے دھونے کا عمل تھا۔ نالے اور آہوں کا بیان

Read more

اقبال کا تصور مردِ مومن (نطشے سے تقابل)

علامہ اقبال کے ہاں انسان کامل کے حوالے سے جابجا اشارے ملتے ہیں۔ اسلام نے انسانی کمال اور فضیلت کو تسلیم کیا۔ اور اس کی ذات کو تخلیق اقدار کا سر چشمہ ٹھہرایا۔ چونکہ انسان کائنات ہستی کا بلند ترین نمونہ ہے اس لیے اسے زمین پر نیابت الٰہی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اقبال کا مرد مومن کا تصور بھی اسی اسلامی تصور پر مبنی ہے۔ انسان خود ایک عالم ہے۔ اور ذات مطلق اور کائنات فطرت کے درمیان

Read more

اقبال اور اشتراکیت

اشتراکیت ایک مکمل نظریہ حیات کا نام ہے جس کے اندر سب کو مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اشتراکیت کا یہ نظام کیپٹلزم کے خلاف سامنے آیا۔ اس نظام کا خواب 1844 میں کارل مارکس نے دیکھا۔ جو آگے چل کر مارکس ازم کے نام سے منسوب ہو گیا۔ اس نے کسان اور محنت کش کو اہمیت دی۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ کسان اور محنت کش کو اس کا حق ملنا چاہیے۔ کارل مارکس نے اس کے

Read more

فرائیڈ کا نظریہ لاشعور اور تحلیل نفسی

بعض مصنفین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ لاشعور فرائیڈ کی دریافت نہیں، اور نہ ہی یہ اصطلاح اس کی وضع کردہ ہے۔ بلکہ یہ تصور اور اصطلاح دونوں فرائیڈ سے پہلے تحریر میں آ چکی تھیں۔ جرمنی، انگلینڈ اور فرانس میں کم از کم پچاس ایسے مفکر اور اہل موجود تھے جن کی تحریروں میں 1680 سے لے کر 1880 تک لاشعور کی دریافت کے عمل کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ان دو سو سالوں میں

Read more

اقبال اور جمہوریت

جمہوری نظام جب دنیا میں قائم ہوا تو لوگوں کو اس سے امیدیں وابستہ ہوئیں۔ علامہ اقبال بھی اس فکر میں شامل تھے۔ انھوں نے اس نظام کا استقبال کیا۔ جمہوریت کی خوبیوں کی تعریف اور خامیوں پر تنقید کی۔ اقبال جمہوریت کے جتنے مدح ہیں اس سے کہیں زیادہ اس کے نقاد ہیں۔ اقبال چونکہ گہری نظر رکھتے تھے اس لیے جب یہ نظام نافذ ہوا تو جلد ہی اقبال کو اندازہ ہو گیا کہ یہ نظام بھی محض

Read more

ادب پر فرائیڈ کے اثرات

ادب پر فرائیڈ کے اثرات میں اگر مغربی ادب کا جائزہ لیا جائے تو یہ اثرات انیسویں صدی میں نمایاں اور واضح صورت میں سامنے آتے ہیں۔ جن فکشن نگاروں نے فرائیڈ کا مطالعہ کر کے ان کے اثرات کو قبول کیا ان میں ڈی۔ ایچ۔ لارنس، جیمز جوائس، ورجینیا وولف، مارشل پروست، فلابیئر، موپساں اور ایملی زولا وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ نفسیات کے زیر اثر جو ادب تخلیق ہوا، اس کی مثالیں اگر عالمی ادب سے دیکھی

Read more

فرائیڈ اور ژونگ کے تصورِ ادب کا تقابل

فرائیڈ نے تحلیل نفسی کی روشنی میں جو ادبی نظریہ پیش کیا وہ عام قاری کو شاید درست نظر نہ آتا ہو، لیکن فرائیڈ کی حد تک یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ نے جس طرح ذہنی صحت کے اصول ذہنی مریضوں سے اور اعصابی توازن کے اصول اعصابی خلل کی علامات سے حاصل کیے۔ اسی طرح ادب کا نظریہ اس نے مریضوں کی سرگزشتوں سے حاصل کیا۔ فرائیڈ کی بیشتر کتابوں میں ادب

Read more

اردو ناول پر فرائیڈ کے اثرات

اردو ادب میں فرائیڈ سے براہ راست اثرات قبول کرنے والے ناول نگاروں میں مرزا ہادی رسوا، سعادت حسن منٹو، عزیز احمد، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، ممتاز مفتی، حجاب امتیاز علی، بانو قدسیہ اور اکرام اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ جنھوں نے فرائیڈ کے افکار و نظریات کے اثرات کو قبول کیا اور نفسیاتی الجھنوں اور جنسی مسائل کو سامنے لانے کی شعوری کوشش کی۔ مرزا ہادی رسوا کو اس حوالے سے اولیت کا درجہ حاصل ہے جنھیں

Read more

مابعد نوآبادیات کے ادب پر اثرات

مابعد نوآبادیات جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے، نوآبادیات کے بعد کا دور کہلاتا ہے۔ یعنی نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارے کا دور۔ اس اصطلاح اور سوچ کو ایڈورڈ سعید کی 1978 میں شائع ہونے والی کتاب ،،اورنٹیل ازم، سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن ان سے کہیں پہلے ایمی سیزائر اور فرانز فینن نے یہ تصور اور اس کے اثرات کو پیش کیا۔ فرانز فینن کی کتاب ،،ریچڈ آف ارتھ، کا اردو ترجمہ ،،افتادگان خاک، کے عنوان سے 1978

Read more

لیگیوں کی بے صبری انھیں لے ڈوبی

کہتے ہیں بے صبری بسا اوقات انسان کو لے ڈوبتی ہے۔ اس ضمن میں موجودہ حکومت کی صورت حال ہمارے سامنے ایک بڑی مثال ہے۔ اگر کوئی چیز ان کی کشتی میں چھید کر گئی ہے تو وہ ان کی بے صبری کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ سابقہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک کو ہر طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ انھوں نے نعرہ لگایا کہ وہ عوام کو اس مشکل سے ضرور نکالیں گے۔ انھوں

Read more

شربتاں والے گئے تے خربوزیاں والے آ گئے

موجودہ سیاسی صورت حال نے عوام کو بے یقینی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ اب یہ سیاسی گرد ذرا بیٹھی ہے تو چلیں عوام نے کوئی راہ تو متعین کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کچھ ایسے حالات پیدا ہوتے جن میں عوام ذرا سکھ کا سانس لے پاتے، لیکن خیر سے یہ نوبت کبھی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومتوں کے آنے یا جانے سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس خطے میں کبھی کوئی

Read more