پاکستان ایمبیسی ساوتھ کوریا کی کھلی کچہری
پاکستان ایمبیسی ساوتھ کوریا نے اپنے سہ ماہی شیڈول کے مطابق اس بار کمیونٹی کے مسائل، شکایات اور تجاویز سننے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کوریا کے شہر انچھن میں کیا۔ اس کھلی کچہری کا انعقاد پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے تعاون سے کیا گیا۔ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے کھلی کچہری میں شرکت کی اور اپنے مسائل اور تجاویز سے ایمبیسی کو آگاہ کیا۔
جنوبی کوریا میں پاکستان ایمبیسی کی طرف سے شروع کی گئی کھلی کچہری کی جو سب سے خاص بات ہے وہ یہ کہ سفیر محترم خود بنفس نفیس کچہری میں شریک ہوتے ہیں اور کمیونٹی کی شکایات و تجاویز کو سن کر اس کے حل کے لیے احکامات بھی جاری کرتے ہیں۔ رواں کھلی کچہری کا انعقاد 18 فروری بروز اتوار کو انچھن شہر کے سنگدو ایریا میں ڈیرہ ریسٹورنٹ پر کیا گیا۔
ایمبیسی کی طرف سے عزت مآب سفیر نبیل منیر صاحب اور ویلفیئر اتاشی محمد عادل خان مقررہ وقت پر ٹھیک 12 بجے تشریف لے آئے۔ بزنس ایسوسی ایشن کوریا کی طرف سے پی بی اے کوریا کے صدر جہانزیب خان اور جنرل سیکرٹری میاں صغیر احمد نے سفیر محترم اور ویلفیئر اتاشی کا پھولوں سے استقبال کیا۔ اس موقع پر پی بی اے کوریا کے چیرمین اور سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ، سینئیر وائس چیرمین صابر خان خٹک، وائس چیرمین محمد اصغر بانگی، سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ محمد شکیل، ثقافتی سرگرمیوں کے ہیڈ انور کم، ویلفیئر افیئرز کے ہیڈ مردان قادری، فنانس سیکریٹری عامر کولار اور کاروباری شخصیات محمد شفیع، افضال شاہد، حاجی رانا سیف اور دلدار حسین بھی موجود تھے۔
کچہری کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اس کے بعد عزت مآب سفیر نے کمیونٹی کے لیے گزشتہ ششماہی میں اٹھائے گئے اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایمبیسی ہمہ وقت آپ کی خدمت کے لیے سرگرم ہے انہوں نے کشمیر ڈے اور خصوصی طور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایمبیسی نے مختلف کورین جامعات سے اس حوالے سے باہمی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور ہم پرامید ہیں کہ پاکستان سے نوجوان بچے یہاں ہنر مندی کی تعلیم حاصل کر کے معاشرے کے لیے بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
سفیر صاحب کی گفتگو کے بعد ویلفیئر اتاشی محمد عادل خان نے مائیک شرکاء کھلی کچہری کے حوالے کیا جس میں لوگوں نے بات کرتے ہوئے ایمبیسی کی توجہ پیش آنے والے مختلف مسائل بارے دلوائی اور شکایات کے ازالے کے لیے براہ راست جناب سفیر سے گفت و شنید کی۔ کمیونٹی اتاشی نے کھلے وقت میں پرتپاک انداز میں اس بات کو یقینی بنایا کہ کھلی کچہری میں شامل ہونے والا ہر فرد اپنا مسئلہ یا شکایت براہ راست سفیر صاحب کے ساتھ شیئر کرے۔ اور ساتھ ساتھ پیش کی جانے والی تجاویز، مسائل اور شکایات کو نوٹ بھی کرتے گئے۔
اس موقع پر کوریا میں تعینات سرمایہ کاری کے اعزازی کونسلر مدثر علی چیمہ جو کہ پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے چیرمین بھی ہیں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جائے کہ حکومت پاکستان مختلف اضلاع میں تکنیکی تعلیم کے کچھ ادارے بنائے اور حکومتی سطح پر کورین ہنر مند انسٹرکٹرز ان اداروں میں پاکستانی بچوں کو مختلف ہنر سکھائیں تا کہ مستقبل قریب میں وہ بچے اپنے پاؤں پڑ کھڑے ہو کر باعزت روزگار کمانے کے ساتھ ساتھ ملک کی خدمت بھی کر سکیں۔
ڈاکٹر میاں صابر حسین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایمبیسی کو چاہیے کہ کوریا میں پاکستانی ملٹی کلچر فیملیز کے بچوں کے لیے پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ بارے سالانہ کوئز کا انعقاد کیا جائے۔ کیونکہ کثیر ثقافتی خاندانوں کے بچوں کے پاس پاکستان کے بارے معلومات نا ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اگر ایمبیسی ایک کوئز کا آغاز کرے اور اس پر کامیاب طلبا کے لیے ”قائد اعظم ایوارڈ“ کے نام سے سرٹیفیکیٹ دے کر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ بچے بہت خوشی اور جوش و خروش سے پاکستان کی ثقافت اور جغرافیے کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ سفیر نبیل منیر صاحب نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قابل عمل ہے ہم اس پر کام شروع کرتے ہیں۔
کھلی کچہری میں ورکرز کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکرز کی زیادہ تر شکایات ورکرز کی پاکستان سے کوریا آنے کی سست روی کے بارے میں تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ڈرائیونگ لائسنس کے امتحان کی تیاری کے لیے حکومت کوریا کی جانب سے جاری کردہ معلومات کا اردو زبان میں بھی ہونے کے حوالے سے تھیں۔ کچہری میں موجود کچھ طلبا نے اپنی یہ پریشانی بھی سفیر صاحب کے گوش گزار کی کہ پاکستان سے اپنی یونیورسٹی کی فیس منگوانے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کچہری کے آخر میں عزت مآب سفیر نبیل منیر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ آپ اتوار والے دن جو کہ آپ کی فیملی کا دن ہے اس دن تشریف لائے۔ انہوں نے انچھن میں کچہری کی میزبانی کرنے پر پی بی اے کوریا کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد کمیونٹی اتاشی محمد عادل خان نے باقاعدہ طور پر کھلی کچہری کے اختتام کا اعلان کیا۔ پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا نے کچہری میں شامل ہونے والے شرکاء کو پرتکلف ظہرانہ بھی دیا۔ کھانے کے بعد پی بی اے کوریا کے صدر جہانزیب خان اور جنرل سیکرٹری میاں صغیر احمد نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں رخصت کیا۔


