ایک افسانوی و رومانوی شہر روغان

قارئین کرام آج آپ کی خدمت میں ماضی کے ایک افسانوی و رومانوی شہر، شہر روغان کی داستان بیان کریں گے۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگ اس طلسماتی شہر سے واقفیت نا رکھتے ہوں۔ آئیے قدرتی حسن کے اس شاہکار شہر کی سیر کرتے ہیں۔ اس شہر میں ہم آدم خور جنوں کے خوفناک وحشی پن کے ساتھ ساتھ حسین و جمیل شہزادیوں کی قید اور ان کے عشق و محبت کی طلسم ہوش ربا داستانیں دیکھیں گے تو دوسری طرف ماضی کی دھول میں کئی صدیاں قبل غرق کسی قوم کے رہن سہن کو محسوس کریں گے۔

Read more

پنجاب کے ہیروز اور مذہبی منافرت

گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات نے ایک بیان جاری کیا کہ برطانیہ سانحہ جیلیانوالہ باغ پہ معافی مانگے اور ساتھ ہی کوہ نور ہیرے کہ واپسی کا مطالبہ بھی کر دیا۔ جہاں تک تو کوہ نور ہیرے کی واپسی کا تعلق ہے اس پہ تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ آئی ایم ایف کی قسط کے ساتھ آئے گا یا پھر برطانیہ کی طرف سے جاری ہونے والے کسی خیراتی فنڈ کے ساتھ۔ میں تو صرف وزیر صاحب کے سانحے جیلیانوالہ باغ پہ برطانیہ سے معافی مانگنے کی دھمکی نما درخواست پہ اپنی معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

Read more

صدارتی طرز حکومت کی جاری حالیہ بحث

انسانی تاریخ کے مطابق معاشروں، بستیوں اور ملکوں میں رہنے کے کچھ طور طریقے طے کیے جا چکے تھے۔ ان طور طریقوں کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب کمزور انسان کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس نا انصافی اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی دھونس قائم…

Read more

سوشل میڈیا کا متوازن استعمال

موجودہ دور میں سوشل میڈیا خصوصی طور پر فیس بک اور ٹویٹر نے لوگوں کو آپس میں بہت قریب کر دیا ہے۔ اب آپ کی تعلق داریاں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کے علاوہ ان لوگوں سے بھی بن جاتیں ہیں جنہیں آپ زندگی میں کبھی نہیں ملے ہوتے۔ یہ باہمی رابطے انگریزی میں سوشل نیٹ ورکنگ کہلاتے ہیں یا ہم انہیں سماجھی میل جول بھی کہہ سکتے ہیں جو موجودہ دور میں خصوصا شہری زندگی کا جز لاینفک بن چکا ہے۔ ان باہم سماجھی روابط کے فوائد و نقصانات اور ان کے مضمرات پہ ان علوم کے فاضل ماہرین کی طرف سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لہذا ان موضوعات کو احترام سے ایک طرف رکھتے ہوئے ہم سوشل میڈیا کے متوازن استعمال کی فکر کو زیر بحث لائیں گے یا اس رویے پہ بات کریں گے جو ہم ایک دوسرے کے کمینٹس یا خیالات پہ بات کرتے ہوئے اپناتے ہیں۔

Read more

جنوبی کوریا میں پاکستان ایمبیسی کے زیر اہتمام یوم پاکستان

23 مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے۔ آج سے 80 سال قبل 23 مارچ کو لاہور منٹو پارک (اب اقبال پارک) میں منعقدہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراداد پاکستان پیش کی گئی۔ اس اجلاس میں باقاعدہ طور پہ مسلم اکثریت پہ مشتمل علاقوں پہ…

Read more

پاکستان مسلم لیگ نون

30 دسمبر 1906 کو نواب سلیم الملک کے گھر مسلم لیگ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔ سر آغا خان مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور بعد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں مملکت خداداد وجود میں آئی۔ قیام پاکستان کے بعد ہر آمر نے اپنی سیاسی…

Read more

چوڑے کون ہیں؟ ایک مختصر تعارف

لفظ ”چوڑا“ کے بارے میں ایک مغالطہ عام ہے کہ یہ لفظ صرف عیسائیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اور نا ہی یہ لفظ کسی بھی مذہب کے بارے میں نفرت انگیز ہے۔ جیسا کہ ہم اپنے معاشرے میں لفظ چوڑے کو حقیر اور نیچ سمجھتے ہیں جو کہ کسی طور مناسب نہیں ہے۔

اس لفظ کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ شمالی ہند میں صفائی کرنے والے لوگوں کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا، جن میں چوڑا بھی شامل تھا یہ مختلف نام مندرجہ ذیل ہیں،

Read more

فلسطین، اسرائیل اور پاکستان کا رویہ

کیا زندگی میں ہمہ وقت جمود رہنا چاہیے؟ یا اس طرح کہہ لیجیے کہ کیا دنیا کے معملات ایک ہی رخ پہ چلتے ہیں؟ اوسط درجے کی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس بات کا جواب نفی میں دے گا۔ کیونکہ یہ اعجاز اللہ تعالی نے صرف انسان کو ہی ودیعت کیا ہے کہ وہ عقل کو برو کار لا کر مسائل کا حل ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اور اگر ان مسائل کا تعلق انسانی جانوں سے متعلق ہو تو پھر ایسے حالات میں سے فہم اور تفہیم سے راستہ نکالنا لازم ہو جاتا ہے۔ ان چند جملوں کی تمہید اپنے موضوع کو سمجھنے کے لئے باندھی گئی ہے۔ اب آتے ہیں اس موضوع کی طرف جہاں بات کرنا قدرے مشکل بنا دیا گیا ہے۔

آسان الفاظ میں بات کرتے ہوئے اگر کہا جائے کہ فلسطین جو کہ دنیا کا ایک گھمبیر اور انسانی المیے سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے، خصوصا مسلم امہ اسے مذہب کے حوالے سے جذباتی مسئلہ قرار دیتی ہے جبکہ فریق ثانی یعنی ایل یہود بھی ایسے ہی سوچتے ہیں۔ اپنے قیام کے بعد اسرائیل نے اپنی طاقت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی زمین اور وطن سے بے دخل کیا ہے۔ اس قضیے پہ عرب اسرائیل جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن فلسطین کے حق میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کئی دہائیوں سے سسکتا اور بلکتا یہ خطہ دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے لیکن آواز صرف توانا فریق یعنی اسرائیل ہی کی سنی جاتی ہے۔

Read more