آخری ماہواری، خالی رحم اور پیٹ درد کی تکون


اگر حمل ابتدائی مرحلے میں ہو اور پیٹ میں ناقابل برداشت درد اٹھے تو فوراً کسی بڑے / سرکاری ہسپتال جانا چاہیے۔

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائیں، ایک مریضہ کی کہانی پڑھیے ؛

کل ہم پر نہایت کڑا وقت تھا۔ ہماری نوجوان بھتیجی موت کی دہلیز سے جس طرح پلٹی ہے ناقابل یقین تھا۔ پیٹ درد کی شکایت لے کر ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں گئی تو انھوں نے محض ڈرپ لگا کر اسے ٹھیک قرار دے دیا اور گھر لے جانے کا کہا مگر وہ خود اتنی تکلیف محسوس کر رہی تھی کہ اس نے گھر جانے سے انکار کر دیا اور ایمبولینس منگوا کر ایم ایچ پنڈی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی جہاں سارا دن مختلف ٹسیٹوں کے بعد بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔

اور جب آیا تو اس کی نبض اور ایچ بی چار رہ گیا تھا۔ جس پر سینئر ڈاکٹر بلوائی گئی۔ جس نے دیکھتے ہی کہا فوراً سرجری کی تیاری کریں وقت بہت کم ہے اور ہم لوگوں کو دس بوتلیں خون کا کہہ دیا۔ بس پھر ہسپتال کے کاریڈور لیب اور بلڈ بینک تھے اور ہم اور ہمارے بھتیجے کی دوڑیں۔ آپریشن کے دوران ایچ بی صرف دو رہ گیا۔ ڈاکٹروں نے خود فون کر کے ہسپتال ہی سے سرخ سفید خون اور پلیٹ لیٹس کا بندوبست کیا۔ شاید ہمیں پانچ یا دس فیصد سے زیادہ امید نہیں تھی۔

پھر اللہ کا کرم ہوا اور ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں سے وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی اور آپریشن کامیاب ہو گیا۔

یہاں ہم حیرت سے انگلی منہ میں داب لیتے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال کی ڈرپ اور ایم ایچ میں دن بھر ہوتے رہے ٹیسٹس ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔

گائنی کی دنیا کی سب سے عام ایمرجنسی کے لیے اکیسویں صدی کا کوئی ہسپتال یا ڈاکٹر تشخیص میں اتنی دیر لگائے کہ گھنٹوں گزر جائیں اور ہیموگلوبن چار پر پہنچ جائے تو سوائے سر پیٹنے کے کیا کیا جا سکتا ہے؟

آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا کیا جا سکتا تھا؟

جب وہ بچی پرائیویٹ ہسپتال پہنچیں اور پیٹ درد کی شکایت کی۔ سب سے پہلا سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ ماہواری آخری بار کب آئی تھی؟

یہ سوال ایک عام سوال نہیں بلکہ کھل جاسم سم کا دروازہ ہے جو ایک عورت کو موت کے منہ سے واپس لے کر آتا ہے۔

اگر اس کا جواب یہ ہو کہ ابھی ماہواری کو گزرے ایک مہینہ نہیں ہوا اور آخری ماہواری نارمل تھی، تب پیٹ درد کی دوسری وجوہات پر غور کیجئے۔ جن میں اپنڈکس، فوڈ پوائزننگ کو سر فہرست رکھا جائے گا۔

اگر جواب یہ ہو کہ ماہواری کو گزرے ایک مہینہ تو نہیں ہوا مگر ماہواری روٹین سے کچھ مختلف تھی / یا ماہواری کی تاریخ سے کچھ دن اوپر ہو گئے ہیں تو سب سے پہلا کام جو اس ہسپتال کی ایمرجنسی میں بیٹھی نرس بھی کر سکتی ہے وہ یہ کہ پریگنینسی ٹیسٹ کروایا جائے۔

جتنی دیر میں ٹیسٹ کا نتیجہ آئے مریض کے پیٹ کا معائنہ کیا جائے۔ کیا پیٹ پھولا ہوا ہے؟
کیا پیٹ کو ہاتھ لگانے سے مریضہ کو تکلیف ہوتی ہے؟
اگر تکلیف ہوتی ہے تو پیٹ کے کس حصے میں تکلیف ہوتی ہے؟
کیا پیٹ میں کوئی مائع موجود ہے؟
پیٹ کا معائنہ کرنے کے بعد ویجائنا کا معائنہ کیا جائے اگر مریضہ شادی شدہ ہے۔
ویجائنا سے کوئی خون تو نہیں نکل رہا؟
بچے دانی کا سائز کتنا ہے؟
بچے دانی کا منہ بند ہے یا کھلا ہوا؟
بچے دانی کو ہاتھ لگانے سے درد میں اضافہ ہوا یا نہیں؟
اور اب باری آتی ہے الٹراساؤنڈ کی۔

الٹراساؤنڈ پہ اپنڈیکس اور بچے دانی کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہے کہ پیٹ میں مائع ( خون، پانی ) موجود ہے کہ نہیں؟

بچے دانی خالی ہے یا اس میں کچھ نظر آ رہا ہے؟
انڈا دانیوں کی حالت کیسی ہے؟

پیشاب میں اگر پریگنینسی ٹیسٹ پازیٹو ہے اور بچے دانی خالی ہے تو اگلا ٹیسٹ کروایا جائے گا خون میں بیٹا ایچ سی جی ماپنے کا۔

یہ ٹیسٹ ارجنٹ ہو گا اور اس کا رزلٹ آدھے گھنٹے میں پتہ چل جانا چاہیے۔

اگر بیٹا ایچ سی جی 1500 سے اوپر ہے اور الٹراساؤنڈ پہ بچے دانی خالی ہے۔ لیجیے جناب مرض تشخیص ہو گیا۔

مریضہ حاملہ ہے لیکن یہ حمل نارمل نہیں بلکہ Ectopic ہے۔ ایکٹوپک کا مطلب ہے کہ حمل ہوا تو ہے لیکن بچے دانی میں نہیں بلکہ بچے دانی سے باہر۔

باہر کا مطلب ہے اووری میں، ٹیوب میں، یا پیٹ میں۔

ایکٹوپک حمل اگر ٹیوب یا اووری میں ہو تو زیادہ مدت نہیں نکال سکتا۔ اس کی بڑھوتری ٹیوب کو پھاڑ سکتی ہے۔ اور ٹیوب کے پھٹنے سے جو خون نکلے گا وہ پیٹ میں جمع ہونا شروع ہو جائے گا۔

ٹیوب کا پھٹنا اور خون کا پیٹ میں جمع ہونا وہ علامات ہیں جن سے پیٹ کا درد شروع ہو گا اور مریضہ ہسپتال پہنچے گی۔

یہ ایک سوالیہ مثلث ہے۔ حمل، خالی بچے دانی اور پیٹ کا درد اور اس کا جواب ہے ایکٹوپک پریگنینسی۔

کسی بھی ہسپتال کی ایمرجنسی میں بیٹھنے والا ڈاکٹر اگر اس مثلث کی تشخیص نہیں کر سکتا تو اس ڈاکٹر کو اپنی ڈاکٹری کی ڈگری کو چیک کروانا چاہیے۔

اس کیس میں مریضہ پرائیویٹ ہسپتال گئیں جنہوں نے ڈرپ لگائی۔ کیوں؟

ڈرپ میں پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور پیٹ درد کی مریضہ کو بنا کسی ٹیسٹ اور تشخیص کے ڈرپ اور پھر گھر جانے کا کہہ دیا گیا۔ اس ہسپتال کو اس کارکردگی پہ ہسپتال کہلانے کوئی حق نہیں۔

مریضہ کافی سمجھ دار تھیں سو خود ایمبولینس میں ایم ایچ پنڈی پہنچیں۔ جہاں پیٹ میں اتنا خون بہا کہ ہیموگلوبن چار پہ پہنچ گیا لیکن تب بھی کسی کو کچھ پتہ نہ چلا۔

اتنا بڑا ہسپتال اور ایمرجنسی میں بیٹھا سٹاف اتنا بے خبر کہ ہیموگلوبن چار پہ پہنچ گیا۔ بات سمجھ سے باہر؟

جب بہت زیادہ خون ضائع ہو گیا، نبض غائب ہو گئی، بلڈ پریشر گر گیا یعنی دل نے کام کرنے سے انکار کر دیا تب سینئیر ڈاکٹر کو بلوایا گیا جنہوں نے تشخیص کی اور فوراً آپریشن کا کہا جس کے دوران ہیموگلوبن دو ہو گیا اور دس بوتل خون منگوایا گیا۔

ایکٹوپک حمل کی مریضہ اگر بر وقت ہسپتال پہنچ جائے اور تشخیص میں اتنی تاخیر ہو کہ اس کی نبض غائب ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ مریضہ کسی بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں نہیں، بلکہ کسی دیہات کی ایسی ڈسپنسری میں ہے جہاں سب کے سب ایسے نو آموز بیٹھے ہیں جنہیں ڈاکٹری کی اے بی سی نہیں آتی۔

ایکٹوپک پریگنینسی کی وجہ سے جب ٹیوب پھٹتی ہے تب پھٹی ہوئی جگہ سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن پھٹی ہوئی جگہ کی شریان اتنی بڑی نہیں ہوتی کہ منٹوں میں ڈھائی تین لیٹر خون پیٹ میں اکٹھا ہو جائے۔ اس عمل میں چار چھ گھنٹے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کو آپ یوں سمجھیے کہ اگر ٹونٹی کا منہ کھل جائے تو دھار بہت تیز ہو گی لیکن اگر ٹونٹی کے ساتھ لگا پائپ لیک کرنے لگے تو آہستہ آہستہ پانی لیک ہو گا۔

دنیا بھر کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں ایسے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جنہوں نے ہر شعبے کی ایمرجنسی میں سپیشلائز کیا ہو کیونکہ ہر تکلیف میں مریض پہلے ایمرجنسی ہی آئے گا چاہے اسے دل کا دورہ پڑا ہو، ایکٹوپک حمل پھٹ گیا ہو یا حلق میں مچھلی کا کانٹا پھنسا ہو۔ وہاں موجود ڈاکٹر ابتدائی علامات کے مطابق تشخیص کرتا ہے اور پھر اس سپیشلسٹ کو بلاتا ہے جس کے علاقے میں گڑبڑ ہو، جیسے ہارٹ سپیشلسٹ، ای این ٹی سپیشلسٹ، گائنی سپیشلسٹ۔

اب اگر ایکٹوپک کا مریض سارا دن پڑا رہے اور کوئی جان ہی نہ سکے کہ پیٹ میں خون جمع ہو رہا ہے تو سوائے اس کے ہم کیا کہیں کہ ایسے لوگوں سے ان کا لائسنس واپس لے لینا چاہیے۔

اس مریضہ کا احوال پڑھ کر شدید حیرت ہوئی کیونکہ ایکٹوپک حمل ایسی ایمرجنسی ہے جو ہر ڈاکٹر کو ازبر ہونی چاہیے خاص طور پہ جب پریگنینسی ٹیسٹ پازیٹو آئے اور مریضہ کے پیٹ میں درد شروع ہو جائے۔

ایکٹوپک حمل میں اگر ٹیوب پھٹ چکی ہو تو واحد حل آپریشن ہے۔ جس میں پھٹی ہوئی ٹیوب نکال کر خون روکنے کے لیے ٹانکے لگائے جاتے ہیں۔ اگر ٹیوب پھٹی نہ ہو اور مریض کی حالت مخدوش نہ ہو تب ایسے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جو ٹیوب میں موجود حمل کو ختم کر دیں۔ لیکن اس میں بھی بعض مرتبہ آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ایکٹوپک پریگنینسی کے بارے میں ہر عورت اور مرد کو علم رکھنا چاہیے تاکہ جب آپ کا پیارا موت کی سرحد پر کھڑا ہو، تب فیملی اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔

Facebook Comments HS