شکریہ حافظ صاحب
8 فروری کے الیکشن کے اگلے دن حافظ صاحب سے ملاقات کا وقت لینے کے لئے ہم پہنچے تو رات کے دس بج رہے تھے۔ ہم ان کے سیکرٹری کے انتظار میں ویٹنگ روم میں تشریف فرما ہو گئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد سیکرٹری صاحب تشریف لائے۔
جنٹلمین مجھے افسوس ہے کہ کچھ تاخیر ہو گئی۔
س : حافظ صاحب اس وقت کیا کر رہے ہیں؟
ج: حافظ صاحب ٹھیک گیارہ بجے سونے کے لیے کمرے میں تشریف لے گئے ہیں۔
س: انھوں نے سونے سے پہلے کیا کہا تھا؟
ج: شب بخیر
س: حافظ صاحب سونے سے پہلے خوش باش دکھ رہے تھے یا تھکے ہوئے؟
ج: وہ دن بھر کی مصروفیات سے کچھ تھکے ہوئے لگ رہے تھے لیکن یہ معمول کی بات ہے۔
س: کیا حافظ صاحب سونے سے پہلے گرم دودھ یا چاکلیٹ وغیرہ لیتے ہیں
ج: وہ سونے سے پہلے چند گھونٹ پانی پیتے ہیں۔
س: حافظ صاحب سر کے نیچے کتنے تکیے لگاتے ہیں؟
ج : ایک
س : کیا آج بھی انھوں نے سر کے نیچے ایک ہی تکیہ لگایا ہے؟
ج: مجھے اس بارے میں علم نہیں۔
س: حافظ صاحب کے بستر پر کتنے کمبل ہوتے ہیں؟
ج: مجھے علم نہیں۔ غالباً ایک یا دو
س: کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیند میں اضطراب کے عالم میں کمبل نیچے گر جاتا ہو
ج: کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے حافظ صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہو
س: کیا اس صورت میں کمبل کو اٹھا کر بستر پر واپس رکھنے کا انتظام ہے
ج: ٹھہریے معلومات کر کے آپ کو آگاہ کرتا ہو۔
س : حافظ صاحب نے سونے سے پہلے قوم کو کوئی خاص پیغام دیا تھا
ج : انھوں نے سونے سے پہلے قوم کو کہا تھا ”خداحافظ“
س: کیا حافظ صاحب ہر رات ایسا کرتے ہیں؟
ج : جی نہیں۔
س: کیا آپ بتا سکتے ہیں آج رات وہ خواب میں کیا دیکھیں گے؟
ج: انھوں نے مجھے کبھی بتا یا نہیں کہ وہ خواب دیکھتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے آج رات وہ خواب میں کیا دیکھیں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
س: کیا ایسا ممکن ہے کہ آج رات حافظ صاحب درمیان میں اٹھ کر کامیاب انڈیپنڈنٹ کی تعداد معلوم کریں؟
ج : حافظ صاحب صبح اپنے وقت پر بیدار ہوں گے؟
س: کیا آپ بتا سکتے ہیں الیکشن کے دوران پورا دن وہ کیا کرتے رہے؟
ج: انھوں نے پورا دن اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں گزارا
س: کیا وہ ٹی وی چینلز پر الیکشن کے نتائج سنتے رہے؟
ج: الیکشن کے نتائج سے آگاہ ہونے کے لئے حافظ صاحب کو ٹی وی چینلز دیکھنے کی ضرورت نہیں
س: الیکشن کے نتائج پر حافظ صاحب کے کیا تاثرات تھے؟
ج: انھوں نے الیکشن کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔
ملاقاتیوں کے مسلسل سوالات سے ایک لمحے کے لیے سانس ملا تو سیکرٹری صاحب نے ملاقاتیوں سے پوچھا
س: جنٹلمین آپ نے آمد کا مقصد بیان نہیں کیا
ج: ہم حافظ صاحب سے ملاقات کا وقت لینے کے لئے حاضر ہوئے ہیں
س: مہربانی فرما کر آپ ملاقات کا مقصد بیان کریں گے
ج: ہم حافظ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ شکریہ حافظ صاحب
س: شکریہ ادا کرنے کے علاوہ ملاقات کا کوئی اور مقصد؟
ج: ہم حافظ صاحب کی صحت کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ ہم ان سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھا کریں
س: آپ بتانا پسند کریں گے آپ کے دونوں ہاتھوں میں کیا ہے
ج: ہمارے دائیں ہاتھ میں مکھن ہے
س: اور بائیں ہاتھ میں
ج: چونا
س: آپ مکھن اور چونے کا کیا کرتے ہیں؟
ج: جہاں مکھن لگانا ہو وہاں مکھن لگا دیتے ہیں اور جہاں چونا لگانا ہو وہاں چونا لگا دیتے ہیں
س: کبھی ایسا بھی ہوا کہ جہاں مکھن لگانا ہو وہاں آپ نے چونا لگادیا ہو اور جہاں چونا لگانا ہو وہاں مکھن لگا دیا ہو
ج: پچھلے الیکشن میں ہم یہ غلطی کرچکے ہیں۔ بڑی مشکل سے ہم نے یہ سلیقہ سیکھا ہے۔ تو پھر آپ حافظ صاحب سے ملاقات کا وقت کب دے رہے ہیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ شکریہ حافظ صاحب۔

