گورنمنٹ کالج لاہور میں پہلا دن
گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔
مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ تین مہینے میں کالج کے سامنے والی سڑک سے پیدل گزرتے ہوئے جی سی کے ٹاور کو حسرت اور آنسوں بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گزرتا تھا اور دل میں دعا کرتا تھا کہ اے باری تعالیٰ مجھ فقیر کا داخلہ بھی اس عظیم درسگاہ میں کرا دے جہاں سے علامہ اقبال، پطرس بخاری، فیض احمد فیض، صوفی تبسم، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور نجانے کتنی ہی نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ مارچ 1996 میں ہم نے میٹرک کے سالانہ امتحانات دیے تھے اور جولائی میں رزلٹ کا اعلان ہونا تھا۔ لہذا ہمارے پاس تین مہینے فرصت کے تھے۔ ہم اوکاڑہ سے لاہور آ گئے اور یہاں ریواز گارڈن میں اپنے ایک کرم فرما خواجہ بلال احمد صاحب کے توسط سے انگریزی زبان سیکھنے اور نوک پلک سنوارنے کے لیے لینگویج سنٹر میں داخلہ لے لیا۔ ساتھ ساتھ مشہور زمانہ انارکلی بازار میں معروف گارمنٹ شاپ ”پوشاک محل“ میں خواجہ صاحب نے پارٹ ٹائم ملازمت کا بھی بندوبست کر دیا۔ یوں ہم صبح انگریزی درس کے بعد کچہری سٹاپ ویگن سے اترتے اور پھر پیدل جی سی کے سامنے سے اس کا دیدار کرتے ہوئے انارکلی بازار پوشاک محل پہنچتے۔
ان تین مہینوں میں شاید کوئی قبولیت کی گھڑی اور وقت تھا کہ خدا نے ہماری یہ دعا قبول کر لی اور جولائی میں میٹرک کا نتیجہ ہمارے حق میں بڑا شاندار آیا اور ہمارا جی سی میں داخلہ ہو گیا۔ یہی نہیں بلکہ خدا نے اس قدر چھپڑ پھاڑ کر مہربانی کی کہ جس ہاسٹل میں زمانہ طالب علمی میں علامہ اقبال قیام پذیر رہے تھے اسی بورڈنگ ہاؤس میں داخلہ بھی ہو گیا۔ پیسوں کا کیسے بندوبست ہوا یہ اللہ تعالٰی اور خواجہ صاحب کو بہتر پتہ ہے کہ اس وقت میرے ناتواں کاندھے اور جیب یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
کالج کا پہلا دن بھی بڑا یادگار تھا۔ چونکہ اللہ تعالٰی نے ہماری دلی تمنا پوری کی تھی لہذا کالج میں بڑی دھوم دھام سے داخل ہوئے کیونکہ بورڈ میں ہماری پہلی پوزیشن جو آ گئی تھی۔ سب بچے ہمیں حسرت اور رشک بھری نظروں میں سے دیکھتے تھے اور ہم خاصے جانے پہچانے جاتے تھے۔
اس وقت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر خالد آفتاب صاحب تھے جو نہایت ہی قابل اور محنتی منتظم اور خود جی سی کے سابقہ طالب علم اور استاد تھے۔ اس زمانے میں صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ہمارے ضلع اوکاڑہ سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والے عطا محمد خان مانیکا صاحب تھے جو خود گورنمنٹ کالج سے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہی ہمیں بورڈ کے جلسہ تقسیم انعامات میں گولڈ میڈل عطا کیا تھا۔ وزیر تعلیم پنجاب نے بطور خاص جی سی کے پرنسپل کو ٹیلی فون کر کے کہا کہ یہ بچہ میرے حلقے کا ہے لہذا اس کا خصوصی خیال رکھا جائے۔
پرنسپل صاحب نے ہمیں اگلے ہی دن اپنے دفتر میں مدعو اور یاد کر لیا اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد پوچھا کہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔ عرض کیا سر! سب اسی کا کرم ہے۔ ابھی تک زیر فضل ہیں۔ پرنسپل صاحب نے پھر فرمایا اچھا ٹھیک ہے۔ کوئی مسئلہ ہو تو بتائیے گا۔ وزیر صاحب کا بھی آپ کے لیے ٹیلی فون آیا تھا۔ سب شانت ہے کے تبادلہ خیال کے بعد ملاقات بخیر و عافیت انجام کو پہنچی اور ہم واپس اپنے ہاسٹل یعنی اقبال ہاسٹل آ گئے جہاں پہلی شب ہمیں خوب اپریل فول بنایا گیا تھا حالانکہ یہ اپریل کا نہیں بلکہ اگست کا مہینہ تھا۔
کالج کا پہلا دن تعارف میں گزر گیا۔ ہم جماعتوں سے تعارف، کمرہ جماعتوں سے تعارف، اوول گراؤنڈ و لوجیا سے تعارف، کالج مسجد، بخاری آڈیٹوریم، سر فضل حسین ریڈنگ روم، مین لائبریری، پروفیسرز روم، ایمفی تھیٹر، کالج کنٹین، کالج کے سرکاری و انتظامی دفاتر اور وغیرہ وغیرہ سے تعارف۔
غرض، ایک تفصیلی اور اجمالی تعارفی دن گزرا۔ سارا دن ہم گواچی گاں کی طرح ہاتھوں میں ٹائم ٹیبل لیے گھومتے رہے، کلاسیں ڈھونڈتے رہے اور کالج کے بارے میں معلومات میں اضافہ کرتے رہے۔
یوں جی سی میں ہمارا پہلا دن بڑا معلوماتی، تجرباتی، سیاحتی اور تعارفاتی گزرا۔



