نواز شریف کا مریم نواز پر بھروسا


مسلم لیگ نون پنجاب میں ایک مضبوط حکومت قائم کرنے جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نون آج پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ مریم نواز کے وزیر اعلی بننے کے لیے ان کے اپنے نمبر گیم پوری ہے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ مریم نواز سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی منتخب ہوں گی۔ پنجاب میں 22 آزاد اراکین صوبائی اسمبلی بھی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے یہ 22 لوگ تحریک انصاف کے آزاد ارکان سے الگ ہیں ان میں اکثریت کی تعداد مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے آزاد ارکان بھی مسلم لیگ نون میں ہی شامل ہونے کو ترجیح دیں گے کیونکہ زیادہ تر آزاد ارکان اپوزیشن میں بیٹھنے کی بجائے حکومتی بینچوں پر ہی بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کو حکومت کا حصہ بننے کے بعد ترقیاتی سکیمیں بھی ملتی ہیں اور فنڈز بھی ملتے ہیں۔ جس سے وہ اپنے حلقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام کروا سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کی ترجیح حکومت میں بیٹھنا ہی ہوتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کی جو غلط تشریح کی تھی کہ ایک جماعت کا رکن اپنی جماعت کی ہدایات کے برعکس دوسری جماعت کے وزیراعظم یا وزیراعلی کے امیدوار کو ووٹ نہیں کاسٹ کر سکتا اگر یہ ایسا کرے گا تو اس کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔ اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بھی اہمیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ پنجاب اور وفاق میں اور دیگر صوبوں میں تحریک انصاف کے جتنے بھی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں وہ آزاد حیثیت میں ہوئے ہیں گو کہ انہوں نے سنی اتحاد کونسل میں اپنی جماعت کو ضم کر دیا ہے۔

اگر پنجاب کی حد تک سنی اتحاد کونسل کے لوگوں کی بات کی جائے تو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 107 اراکین صوبائی اسمبلی پنجاب نے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل میں ضم ہونے کے سرٹیفکیٹ جمع کروائے ہیں۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو مریم آواز پنجاب کی وزارت اعلی سنبھالنے سے قبل کافی حد تک اپنا ہوم ورک مکمل کر چکی ہیں۔ پچھلے 15 دنوں سے مریم نواز روزانہ کی بنیاد پر چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور دیگر محکموں کے سیکرٹری سے بریفنگ لے رہی ہیں۔

اب وہ پنجاب کے مسائل سے متعلق بخوبی آگاہ ہو چکی ہے۔ مریم نواز ذہنی طور پر ایک مضبوط اور میچور خاتون ہے۔ ان کا تنظیمی اور انتظامی معاملات کو چلانے کا پہلے ہی تجربہ ہے کیونکہ 2013 سے 2017 تک جب نواز شریف وزیراعظم تھے اس دوران مریم نواز کئی اہم میٹنگز میں بھی شامل ہوتی تھی کئی اہم فیصلے بھی مریم نواز کی مشاورت سے ہی کیے جاتے تھے۔ اب وزیراعلی بننے کے بعد یہ تجربہ مریم نواز کے کام آئے گا۔

مریم نواز حمزہ شہباز کی نسبت کہیں زیادہ ذہین اور سمجھدار خاتون ہے۔ ان کی اپنی پارٹی پر بھی بہت اچھی گرپ ہے، بیوروکریسی سے متعلق بھی وہ پہلے سے ہی شناسائی رکھتی ہیں، متعدد بیوروکریٹ کے بیک گراؤنڈ اور ان کی سیاسی یا غیر سیاسی وابستگیوں سے متعلق بھی تمام معلومات مریم نواز کے علم میں ہے، حمزہ شہباز کچھ عرصے کے لیے جب پنجاب کے وزیراعلی بنے تو اس دوران پنجاب میں 20 سیٹوں پر جو ضمنی الیکشن ہوا تھا ان میں مسلم لیگ نون 17 سیٹیں برے طریقے سے ہاری تھی۔ الیکشن سے چند روز قبل ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس جاری تھا جس میں حمزہ شہباز بھی موجود تھے حمزہ شہباز نے دو بار اجلاس میں بولنے کی کوشش کی تو نواز شریف نے ان کو ڈانٹتے ہوئے کہا مجھے معلوم ہے تمہاری کیا کارکردگی ہے تم وزیراعلی پنجاب تھے اس کے باوجود بھی ہم پنجاب میں 17 سیٹیں ہار گئے جبکہ تمام وسائل اور اختیارات تمہارے پاس تھے۔

اس کے بعد حمزہ شہباز کئی اہم پارٹی اجلاسوں سے غیر حاضر رہے الیکشن مہم کے دوران بھی حمزہ شہباز نے صرف اپنے حلقے میں ایک یوتھ کنونشن سے خطاب کیا اور ایک ریلی نکالی جس میں حمزہ شہباز کو ایک مذہبی جماعت کے کارکن نے جوتا مارا تھا۔ الیکشن کے بعد بھی مسلسل سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اب رہنے کی بجائے قومی اسمبلی میں ہی جائیں گے۔ جہاں تک مریم نواز کی بات ہے تو مریم نواز پنجاب میں اپنی مضبوط سیاسی پوزیشن قائم کر چکی ہیں۔

ان کا اب مشن پنجاب میں اپنی جماعت کا وہی پرانا چہرہ مطلب ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی پارٹی کو پنجاب میں گراؤنڈ لیول پر زندہ کرنا ہے۔ گو کہ مسلم لیگ نون پنجاب میں بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اس کے باوجود بھی پنجاب کے کئی حلقوں سے مسلم لیگ نون بری طرح ہاری بھی ہے یہ سب چیزیں مریم نواز کے بھی فلم میں ہیں۔ اگر مریم نواز پانچ سال اچھے طریقے سے ڈلیور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو مسلم لیگ نون کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا سو فیصد امکان ہے۔ کیونکہ پنجاب سے جو جماعت بڑی فتح حاصل کرتی ہے وہی وفاق میں حکومت بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مریم نواز نے پنجاب کے عوام کے دل جیت لیے تووہ نواز شریف کی آئندہ پانچ سال بعد اقتدار میں واپسی کا راستہ آسانی بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ کیونکہ نواز شریف کو مریم نواز پر بھروسا ہے۔