مادری زبان اور اللہ کی حکمت کا بیان
مادری زبانوں کا عالمی دن آیا اور چلا گیا۔ زبانیں بھی آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ بالکل مذاہب کی طرح۔ ایک زمانہ تھا کہ آریاؤں کی سنسکرت کا طوطی بولتا تھا۔ آج عالم یہ ہے کہ یہ ایک بھی شخص کی زبان نہیں۔ یہی حال لاطینی کا ہوا۔ جو اب ویٹی کن کے کلیسے میں مذہبی تقریبات و رسومات میں پڑھی جاتی ہے اور سامعین کے سروں سے گزر جاتی ہے۔ زبان انسانی جون میں آنے کے بعد شاید انسان کی سب سے پہلی اور بڑی ایجاد ہے۔ گو دیگر پرائمیٹیس میں بھی زبان موجود ہے مگر وہ چند الفاظ یا چند فقروں تک محدود ہے۔ جیسے بندروں اور چمپینزیوں کے کچھ جملے ترجمہ کیے گئے تو وہ کچھ اس قسم کے تھے۔
’ہوشیار! شیر ہے۔ ‘ ’آ جاؤ۔ سارے۔ ‘ ’بھاگو‘ ۔ ’رک جاؤ۔‘
’خطرہ‘ وغیرہ۔
انسان نے اس سادہ ترین زبان کو از سر نو مرتب کیا۔ اس کے اصول بنائے۔ جوں جوں انسانی دماغ ترقی کرتا گیا زبان بھی ترقی پاتی گئی۔ زبان انسانی تحقیق و ترقی کے مساوی چلتی ہے۔ زیادہ الفاظ کا مطلب زیادہ خیالات ہیں۔ بالکل ویسے جیسے زیادہ اینٹوں سے آپ زیادہ بڑا مکان بنا سکتے ہیں۔ انسان نے اپنے موجودہ بیس تیس لاکھ سال کے سفر کے دوران بے شمار ہجرتیں کیں۔ اس کے گروہ دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ یوں مختلف جگہوں کے لحاظ سے مختلف زبانیں متشکل ہوئیں۔
مادری زبانوں کی ابتدا ہوئی۔ ہر ایک زبان اپنے آپ میں ایک بحر بے کراں ہے۔ عربی و عجمی اور کالے و گورے کی طرح کسی زبان کو کسی دوسری زبان پر فوقیت حاصل نہیں ہے سوائے مجبوری کے۔ جیسے ایک وقت میں ہندوستان کے عوام کی زبان فارسی نہ تھی۔ مگر حکومتی دفتری اور اشرافیائی زبان ہونے کے باعث اس کا سیکھنا اور برتنا واجب تھا۔ بین الاقوامی رابطوں کی زبانیں بھی ہر دور میں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ایک وقت میں سنسکرت تھی۔ پھر قدیم پارسی آ گئی۔ کبھی یونانی تو کبھی عبرانی۔
سائنس و ٹیکنالوجی کی زبانوں کا بھی یہی حال رہا ہے۔ انسانی تمدن کی ٹرین نے اکیسویں صدی میں ناقابل یقین رفتار پکڑ لی ہے۔ وہ تبدیلیاں جنہیں رونما ہونے کے لئے کئی کئی ہزار سال چاہیے ہوتے تھے اب ایک دو تین سالوں بلکہ بعض اوقات مہینوں میں ہو رہی ہیں۔ زبانیں بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ بلکہ مر رہی ہیں۔ پہلے زبانیں مرتی تھیں تو نئی زبانیں ان کی جگہ لے لیتی تھیں۔ اب ایسا یا تو ہو ہی نہیں رہا یا پھر کم کم ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کے باعث لوگ لنگوا فرانکا پر شفٹ ہو رہے ہیں۔ اگلے چند سالوں میں بڑی بڑی لنگوا فرانکائیں مل کر گلوبل لینگویج بنا دیں گی۔ اور کرہ ارض کی تمام بڑی زبانیں اس میں ضم ہوجائیں گی۔ بالکل ویسے جیسے کوئی قومی زبان ذیلی علاقائی اور مادری زبانوں کو کھا جاتی ہے۔
پچھلے سال یا شاید اس سے پچھلے سال مادری زبانوں کے ایک میلے میں جانا ہوا۔ صاحب لوگ لمبے لمبے فلسفے سنا رہے تھے۔ الیکشن کمپین کی طرح مادری زبانوں کے حق میں دلائل دیتے تھے ساتھ ساتھ مادری زبانوں کی تیزی سے گھٹتی پرسنٹیج پر نوحہ کناں تھے۔ ہم نے ہاتھ کھڑا کر کے صدر محفل سے سوال پوچھا۔ یہ جو آپ فرماتے ہیں کہ مادری زبان کو ہر صورت زندہ رکھا جانا چاہیے، موجودہ دور میں جب بین البرادری، بین الصوبائی بلکہ بین الاقوامی شادیوں کا رجحان ہے تو ایسی صورت میں مادری زبان کیونکر زندہ رکھی جا سکتی ہے؟
داڑھی کھجا کر فرمانے لگے ہاں بات تو آپ کی سولہ آنے درست ہے۔ مگر پیدا ہونے والے بچوں کے ساتھ مادری زبان میں گفتگو کریں۔
عرض کیا کیسے کریں۔ ؟ ماں اور باپ دونوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ اور وہ دونوں لنگوا فرانکا کا سہارا لیتے ہیں۔ تو بچے سے بھی لامحالہ لنگوا فرانکا میں ہی بولیں گے ناں؟
اب کی بار مونچھیں سہلاتے ہوئے بولے
اگر ہمیں مادری زبانوں کو زندہ رکھنا ہے تو معاشرے میں کزن میرج کو فروغ دینا ہو گا۔ ہمیں اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہے۔


