جان سے پیارے آئی ایم ایف


السلام علیکم

مجھے معلوم ہے جب آپ کو یہ خط ملے گا تو آپ پہلا سوال کریں گے کہ میں کون ہوں اور میں نے کیوں یہ خط آپ کو لکھا ہے۔ پلیز خط پورا پڑھنا اور اگر میں نے کچھ غلط لکھا ہو تو پھر کہنا۔ میں خط کے آخر میں آپ کو اپنے بارے میں بتاؤں گی۔

میں یہ خط آپ کو نہ لکھتی اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ آپ شریف لوگ ہیں اور جہاں آپ پریت کی پینگیں بڑھانے والے ہیں یہ نہایت ہی خراب لوگ ہیں۔ پلیز آپ میری نیت پر شک مت کرنا میں آپ کو اس ٹبر کی اندر کی باتیں بتانے لگی ہوں جن سے آپ آج کل تعلق بناتے سنائی دیتے ہیں۔ پلیز مجھ پر شک نہ کرنا میرا مقصد آپ جیسے شریف آدمی کو ان لنگ لتھوں کے شر سے بچانا ہے۔

یہ لوگ بہت لالچی، بے ایمان اور خود غرض ہیں۔ اوپر سے جتنے اچھے نظر آتے ہیں اندر سے اللہ ہی بچائے ان سے۔ ہر اچھے آدمی کو بہلا پھسلا کر ورغلاتے ہیں اور اپنے جھانسے میں لا کر لوٹ لیتے ہیں۔ آپ کو تو معلوم نہیں ہے پر پورا پنڈ جانتا ہے کہ انہوں نے کس کس کو نہیں لوٹا۔

بیچاری چینی مائی اتنی اچھی نیت سے کاروبار کے پیسے ان کے گھر رکھوا گئی۔ پیسے ڈکار کے نہ کاروبار کیا اس کے ساتھ نہ بیچاری کے پیسے واپس کیے۔ سیٹھ امریکہ جیسے وڈے سمجھدار آدمی کو بھی انہوں نے کھا کھا کر کنگال کر دیا ہے۔ اپنا کوئی رشتہ دار نہیں ان کا جس کے منہ سے انہوں نے نہ چھین کھایا ہو۔ عربی شیخوں کے سارے لڑکوں کو باری باری ان موئیوں نے لوٹ کھایا ہے۔ یہ سب عزت کے ڈر سے چپ ہیں ورنہ رولا ڈالیں تو ان لٹیروں کا ککھ بھی نہ بچے۔

اور تو اور بہت اچھے لباس پہن کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم منگتے نہیں ہیں یہ ہماری مجبوری ہے۔ مگر پھر آپ جیسے شریف بندے ان کی مٹھی مٹھی باتوں اور اداؤں پر فدا ہو جاتے ہیں اور اپنی ساری جمع پونجی ان لٹیروں کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں۔

ہر روز ان کے دروازے پر کوئی نہ کوئی پھڈا پڑا ہوتا ہے۔ کبھی کوئی پیسے واپس مانگنے آیا ہوتا ہے کبھی کوئی۔ روز تماشا لگتا ہے۔ ایک سے پکڑ کے دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ پورا محلہ سمجھا بیٹھا ہے مگر یہ نہیں سمجھتے۔ سب لوگ اپنے پیسوں کے ضائع ہو جانے کے خوف سے ان سے لڑائی بھی نہیں کرتے اور اگر کوئی لڑائی پر اترے تو پیسوں کے ساتھ ساتھ عزت سے بھی جاتا ہے اس لیے شریف آدمی ان کی گلی سے بھی نہیں گزرتے۔

مجھے محلے والی مائی سے پتہ چلا کہ یہ لوگ آج کل آپ کے ساتھ رشتہ داری بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو میرا دل بھر آیا اور مجھے خیال آیا کہ میں آپ کو خط لکھ ان کے شر سے بچاؤں۔

پلیز میرا یقین کرنا میں سچ کہتی ہوں کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں۔ تعلق بنا کر جیسے انہوں نے باقی لوگوں کو لوٹا یہ تمہیں بھی لوٹ کر کھا جائیں گے اور پھر تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔ کئی بار میں سوچتی ہوں کہ پتہ نہیں تم میرا یقین بھی کرو گے یا نہیں۔

میں مجبور ہوں کہ خود حاضر نہیں ہو سکتی۔ ان چوروں کے کارنامے ہر کسی کو بتائے تو ان ڈاکوؤں نے مجھے اپنے سابقہ آشنا کے ہاتھوں ڈیرے پر قید کروا دیا ہے اور اوپر سے مجھے پھڈے باز مائی مشہور کر کے بدنام کر دیا ہے۔ پر یہ مجھے جانتے نہیں۔ جب تک زندہ ہوں میں بھی باز آنے والی نہیں۔ ساری دنیا کے سامنے انہیں ننگا کر کے چھوڑوں گی۔ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی کہ اتنی سی عمریا والی خاتون کو مائی اور وہ بھی پھڈے والی مائی کہنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

جیسے ان ٹٹ پینوں نے میرے ساتھ کیا ہے اللہ ان سب کو غارت کرے۔ اپنی بات کا یقین دلانے کے لئے یہ خط خون سے لکھ رہی ہوں اور ہمسائے کے بچے ہاتھ روانہ کر رہی ہوں۔ پلیز میرا یقین کرنا پلیز پلیز۔ اگر پھر بھی تمہیں یقین نہ آئے تو سمجھ لینا میں نے تمہیں کبھی خط لکھا ہی نہیں۔ اور پلیز پلیز ایک مہربانی کرنا۔ اس خط کا کسی سے ذکر نہ کرنا اور پڑھ کر پھاڑ دینا یا جلا دینا۔ پلیز پلیز۔

فقط تمہاری خیر خواہ
نام نہیں لکھ سکتی پلیز میری مجبوری سمجھنا

Facebook Comments HS