انسانی چھٹی حس


روزمرہ زندگی میں انسان اپنے حواس خمسہ یا ان میں ایک حواس بارے اکثر بات کرتا ہے جن میں ذائقہ، سونگھنا، سننا، چھونا اور نظر آنا شامل ہیں۔ لیکن ایک اور حواس جو عمومی طور چٹھی حس کہلاتی ہے۔ اس بارے اتنی گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ چھٹی حس ایک اسرار ہے جس کے بارے ہم کم ہی جانتے ہیں۔ انگریزی میں چھٹی حس کو پروپریوسیپشن ”Proprioception“ کہا جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نگاہ سے ہمارا جسم اردگرد کے ماحول میں جب کچھ محسوس کرتا ہے یا انسانی ذہن کو کچھ محسوس ہوتا ہے اور یہ سارا عمل لا شعوری طور ادا ہوتا ہے تو یہ انسانی چھٹی حس ہوتی ہے جو اسے ایسا کرنے پر مجبور یا خبر دار کرتی ہے۔

پروپریوسیپشن یا چھٹی حس ایک سائنسی اصطلاح ہے۔ جس کی روح سے انسانی جسم اپنے اردگرد کے ماحول سے اسراریت یا غیر مرئی قوت کے تحت کچھ محسوس کرتا ہے۔ یا یوں کہہ لیں یہ ہماری اسراریت کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔ جو لاشعوری طور پر ظاہر ہوتی ہے اور ہمیں حرکت و دفاع اور محسوس کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس چھٹی حس کے تحت یہ سب پیچیدہ احساسات ہمارے عصبی نظام کے تحت بدن سے دماغ اور دماغ سے واپس بدن کی جانب منتقل ہوتے ہیں۔ جس سے ہمیں ماحول میں ایک خاص مدت کے اندر اپنی موجودگی اور دوسری غیر مرئی قوتوں کے اثر انداز ہونے کا علم ہوتا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں یہ ہی چھٹی حس ہے۔ یہ چھٹی حس انسان کے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنے دوسرے حواس خمسہ۔ یہ ہماری بقا ء و عافیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

سائنس کے نزدیک انسانی جسم اور بل خصوص جلد کے نیچے، جوڑوں اور رعشوں میں موجود ان گنت بہت ہی چھوٹے سینسرز کے علاوہ حرکت کرنے والے نیورون ہوتے ہیں جو پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں۔ انسانی ذہن مشقت کرتے ہوئے تمام پیغامات کو جن میں چھونا، سونگھنا، ذائقہ، سننا اور نظر آنا، جسم کی حرکت اس کی کسی خاص جگہ موجودگی، سست یا تیز رفتاری کو ایک مخصوص نظام کے تحت موصول کرنے کے بعد ان عوامل کی نشان دہی کرتا ہے۔ جس سے انسان اپنی حرکات و سکنات، خوشی و خوف کا عنصر، خطرے کی ظاہری علامات اور ایسے کئی دوسرے عوامل سے نبٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔

چھٹی حس کسی شے کے احساس کا نام ہے جس سے بنیادی انسانی حواس خمسہ کے علاوہ محسوس ہوتی ہے۔ جس میں ان غیر مرئی احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت کسی انسان میں زیادہ اور کسی میں کم ہو سکتی ہیں۔ ان احساسات میں ٹیلی پیتھی، وجدان، غیب دانی، پیشگی آگاہی اور نفسی حرکت وغیرہ شامل ہیں۔ ہم میں اکثر لوگ حواس خمسہ بارے ہی جانتے ہیں۔ یہ چھٹی حس یا، غیر مرئی قوت انسانی اعضاء میں چوٹ لگنے سے بھی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے پیغام رسانی نظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔

چھٹی حس انسان کی ایک ایسی اندرونی حس ہے جو اس کے مشکل حالات یا ان دیکھے حالات میں رہنمائی کرتی ہے۔ کئی انسانوں میں قدرتی طور اس کے استعمال کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جب کہ دوسرے انسانوں کو مشق کے ذریعے اسے فروغ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اس کرہ ارض میں شور و شرابے کی مصروف زندگی بسر کرتے ہیں۔ آپ جتنی خاموشی کے ساتھ اپنے اندر کے ساتھ تعلقات قائم کرتے اور اسے فروغ دیتے ہیں۔ آپ اتنا ہی زیادہ اپنی چھٹی حس کو اجاگر کرتے چلے جاتے ہیں۔

بزرگان دین اسی لئے مراقبہ کرتے ہیں تا کہ دلی کیفیت تبدیل ہو اور اس کا روح کے ساتھ ربط بڑھے۔ جتنی پاکیزگی انسانی قلب میں آتی جائے گی اتنا اسے اپنے احساسات پر قابو پانے اور انہیں سمجھنے میں آسانی در پیش آئے گی۔ مراقبے کی مشق سے انسان کو اپنے دماغ اور دلی کیفیت میں ربط بڑھنے، خیالات میں آلودگی پیدا ہونے اور بیرونی خیالات سے چھٹکارا حاصل ہونا اور وجدان میں نمایاں ترقی محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن اس کے لئے مسلسل دس تا بیس منٹ روزانہ کی بنیاد پر مشق لازمی ہے۔

اگر اس میں آپ اللہ تعالٰی کے ذکر کا اضافہ کر دیں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہو گا۔ انسانی جسم ایک طاقتور آلے کی مانند ہے جو آپ کے وجدان کو آپ پر ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جس سے آسان کو پیشگی آگاہی حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ انسانی جسم یا ذہن اسے کچھ اشارے دے رہا ہو لیکن انسانی جبلت اسے سمجھنے سے عاری ہو۔ ایسے حالات میں کسی ایسے انسان سے استفادہ حاصل ہو سکتا ہے جو صاحب کمال ہو، جس کا اخلاق اس کے غصے پر حاوی ہو، جو ایماندار ہو، جس کی شہرت اچھی ہو اور وہ اس فیلڈ کا ماہر ہو۔ ورنہ فراڈیوں کے ہاتھوں زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔

اللہ تعالٰی اپنی قدرت کاملہ و رحمت سے نوازتے ہوئے انسانوں میں بعض کو دوسروں کے مقابلے اضافی علم سے نوازتے ہیں جس میں چھٹی حس بھی شامل ہے۔ یہ مالک کائنات کی ان پر خاص رحمت کا نزول ہونا ہے۔ صوفیاء میں قلب کا علم وہ روحانی علم ہے جس میں وقت اور حدود ختم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے رب کے فضل سے حقیقت کو پا لیتا ہے۔ جب روح مادیت پر غالب آتی ہے تو انسان وجدان کے ذریعے سب راستے اور حدیں آسانی سے عبور کر لیتا ہے اور اسے الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جس کی بدولت اس کے مصحفی دل پر بعض اوقات پیشگی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ مسلمان دانشوروں کی اکثریت چھٹی حس انسان کو قدرت سے ودیعت کی گئی ایک نعمت گردانتے ہیں جو انہیں توحید کی طرف راغب کرتی ہے۔

 

Facebook Comments HS