محبوب کی یاد کی نفسیات
اگر میں آپ پر پابندی لگاؤں کہ اگلا ایک منٹ آپ نے سفید ریچھ کے بارے میں نہیں سوچنا تو آپ سفید ریچھ کے بارے میں نہ سوچنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے دراصل سفید ریچھ کے بارے میں ہی سوچ رہے ہوں گے۔ ہے ناں حیران کن بات؟ اب ایک کہانی سناتا ہوں، جو قریب قریب ہر دوسری لڑکی کی کہانی ہے۔ ایک لڑکی کو کسی سے پیار ہوا۔ جب بریک اپ ہو گیا تو اس کے لیے محبوب کی یاد اس حد تک سوہان روح ہو گئی کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنے جسم پر زخم لگاتی۔ یہ سوچ اس کے ذہن میں راسخ ہو گئی کہ وہ تمام عمر محبوب کی یاد کے چنگل سے نہیں نکل سکتی۔ ایسی حالت میں کئی سال کڑھنے کے بعد جب اس لڑکی کی شادی ہو گئی تو آہستہ آہستہ پچھلی محبت کا اثر کم ہونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کی پچھلی محبت ”یاد کا بے نشاں جزیرہ“ بن گئی۔
مذکورہ بالا دو تمثیلوں میں آپ کو کوئی مماثلت نظر آئی؟ آپ جان گئے ہوں گے ان دونوں مثالوں میں انسانی ذہن کی کارستانی نظر آتی ہے۔ پچھلے چند دن یہ سوچتے گزرے کہ ایک وقت میں جس کے لیے ہم جان تک دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں کسی دوسرے وقت میں وہ ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا/رکھتی۔ کیا وقت کے ساتھ اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے یا پھر اس کے ساتھ بندھا ہوا ہمارا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔ نفسیات کی رو سے دوسری بات زیادہ قابل اعتبار ہے۔ یہی معاملہ محبوب کی یاد کے ساتھ بھی ہے۔ محبوب کی یاد انسان کو کس طرح جکڑ لیتی ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ذہن کے عمل کو سمجھنا پڑے گا۔
ہمارے ذہن میں بیک وقت دو طرح کے خیالات چل رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرح کے خیال وہ ہوتے ہیں جو بیرونی محرکات کے ردعمل کے طور پر ذہن میں پیدا ہوتے ہیں (cognition) ۔ جیسے مجھے بھوک لگی ہو تو میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ مجھے کھانا کھانا چاہیے۔ دوسری قسم کا خیال وہ ہوتا ہے جو ہمارے خیال کے بارے میں ہوتا ہے۔ جیسے بھوک کا خیال آتے ہی مجھے یہ خیال آئے کہ گھر میں گوبھی بنی ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں۔ یہ خیال کا خیال ہوتا ہے (metacognition) ۔ یعنی یہ ایک خیال کے ردعمل کے طور پر ہمارے ذہن میں آتا ہے۔ یاد کے ستائے لوگوں کا زیادہ تر معاملہ خیال کے خیال کے ساتھ ہوتا ہے۔
ایک فرد کہہ سکتا ہے کہ اس نے محبوب کی یاد سے پیچھا چھڑا نا ہے اور اپنے ذہن کی پوری نگرانی کرنی ہے کہ اس میں محبوب کی یاد نہ آئے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ذہن کو خیال کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں نہیں پتہ۔ جب ہم ایک خیال کو زبردستی بھگانے یا نہ سوچنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے ہمارے ذہن کو یہ سگنل جاتا ہے کہ اس نے اس خیال کو پھر سوچنا ہے۔ اس صورت حال سے نپٹنے کا سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ خیال آیا ہے تو اس کو اچھا یا برا نہ سوچیں۔
اس خیال کو حاضر دماغی سے (mindfulness) محسوس کریں۔ صرف رد عمل سے گریز کرنا ہے۔ اپنے تنقیدی خیال کو تھوڑی دیر کے لیے سلا دیں اور اس خیال کو گزر جانے دیں۔ جب یہ خیال گزر جائے گا تو قدرتی طور پر ذہن کسی اور طرف چلا جائے گا۔ یہاں ایک اور بات بھی ہے کہ ایک پوری طرح سوچا ہوا خیال ہمارے تحت الشعور میں جذب ہو جاتا ہے اور جب تک اس کو سگنل نہ دیا جائے وہ خیال واپس نہیں آتا۔
محبوب کی یاد سے پیچھا چھڑانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کو مصروف رکھا جائے۔ ہمارا ذہن ایک وقت میں ایک خیال ہی سوچ سکتا ہے۔ جب ہمارے ہاتھ مصروف ہوتے ہیں تو ہمارے ہاتھ اپنی سرگرمی کے بارے میں دماغ کو پیغام بھیجتے ہیں اور ہمارا ذہن اسی طرف لگ جاتا ہے جیسے شاعر نے کہا:
عشق نے سیکھ لی وقت کی تقسیم کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
یہ معاملہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یاد خالی ذہن کا کام ہے۔ ایک مشہور محاورہ ہے : ”خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔“ یہ بات بھی اسی لیے درست ہے کہ جب انسان عملی طور پر کچھ کر نہیں رہا ہوتا تو دراصل وہ پہلے سے موجود خیالات کو از سرنو سوچنے لگ جاتا ہے۔ ہمارے ذہن میں خیالات نیورانز کے درمیان رابطوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ جس خیال کو جتنی بار دہرایا جاتا ہے وہ ذہنی ربط اتنا ہی مضبوط ہوتا جاتا ہے اور جس تصور کو نہ سوچا جائے وہ وقت کے ساتھ کمزور ہوتا جاتا ہے۔
کبھی کبھار بیٹھے بٹھائے کوئی پرانا خیال آ جاتا ہے تو دراصل ذہن میں نیورانز کے درمیان خاص رابطے سے برقی رو گزری ہوتی ہے۔ اگر اس خیال کو دبایا نہ جائے بلکہ اپنے ہوش و حواس کے ساتھ اس کو محسوس کیا جائے اور پھر اپنے آپ کو کسی جسمانی کام میں مصروف کر لیا جائے تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ اب میں نے دوبارہ اس خیال کو نہیں سوچنا تو یہ خیال بار بار آئے گا۔
جیسا کہ میں نے شروع میں سفید ریچھ کے بارے میں سوچنے کی عملی سرگرمی کا ذکر کیا کہ ذہن کا کام صرف ایک خیال کو آگے لانا ہے اور وہ ایسا بیرونی محرکات کے تحت کرتا ہے۔ اس کو یہ نہیں پتہ کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔ اچھا برا اور نیک و بد ہمیں metacognition یا خیال کا خیال بتاتا ہے۔ آخر میں چند عملی تجاویز پیش کرتا ہوں جو سوچ کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں :
1۔ mindfulness یا حال میں جینے کی عملی کوشش کی جائے۔
2۔ ٹریگرز یا بیرونی محرکات جو خاص قسم کے خیال کا سبب بنتے ہیں ان کو بدل دیں۔ جیسے کمرے کی سیٹنگ، وغیرہ۔
3۔ اپنے خیالات کو لکھیں۔ لکھنے کے دوران بھی خیال کے خیال کو درمیان میں نہ آنے دیں۔ بس جو بات ذہن میں آئے اس کو لکھیں۔ جو بات خیال کے بارے میں آئے اس کو کچھ مت کہیں صرف نظر انداز کر دیں۔
4۔ سکرین ٹائم کم کر دیں۔
5۔ کھیل کا حصہ بنیں۔
6۔ مسکرائیں! یہ عمل پہلے پہل زبردستی کرنا پڑے گا۔ کچھ عرصے بعد ذہن کا میکنزم خود بخود پروان چڑھ جائے گا۔
آخر میں ناصر کاظمی کا شعر سن لیں! وقت آنے پر یاد آئے گا۔
یاد کے بے نشاں جزیرے سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی


