بارش، سہانجنا، ڈھولا مستری، آن لائن کاروبار


کل شام سے بہاول پور میں رم جھم بارش شروع ہے۔ رات کو لحاف اوپر لینا اچھا لگا۔ آج 27 فروری 2024 کو فجر کی اذانوں کی آواز سے بیدار ہوا تو کالے سیاہ بادل بدستور شہر پہ اپنا سایہ کیے ہوئے ہیں۔ رم جھم بھی ہو رہی ہے۔ ٹماٹر، پیاز اور ہرا دھنیا والا شوخ ایگ آملیٹ گرم گرم پراٹھا کے ساتھ کھانا اور بھاپ اگلتی چائے کا پینا اچھا لگا۔ بڑی بہن نے سہانجنا کا سالن بھیجا تھا لیکن میرا دل آملیٹ کھانا چاہتا تھا اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ہمیں اپنے دل کی بے ضرر خواہشوں کی آواز کو سننا پڑتا ہے۔ وہ مطمئن ہوتا ہے تو دماغ پر سے بوجھ اتر جاتا ہے۔ اچھا، سہانجنا کا سالن مجھے گوشت کے ساتھ پکا ہوا اچھا نہیں لگتا۔ آپ کبھی سہانجنے کو شملہ مرچ اور مٹروں کے ساتھ پکا کر تو دیکھیں، کمال کا ذائقہ بنتا ہے۔ خیر۔

اچھا، کھانے کی روایتی ریسیپی میں معمولی سی تبدیلی کرنے سے ایسا ذائقہ بن جاتا ہے کہ دل اس ڈش کو کھانے سے بھرتا ہی نہیں۔ رواں ماہ شعبان کے حوالے سے بڑی بہن نے خیرات کرنے کے لیے چاول بنائے۔ تین کلو کچی باسمتی چاول میں پانچ کلو مٹر ڈال دیے۔ مجھے اس قدر اچھے لگے کہ روزانہ وہ چاول گرم کر کے چار دن تک کھاتا رہا پھر بھی میرا دل نہ بھرا حالانکہ عام روٹین میں کبھی کبھار ہی چاول کھاتا ہوں۔ خیر۔

بہاول پور میں سہانجنا کھایا بھی جاتا ہے اور یار لوگ گاؤں میں اپنے مویشیوں کو بطور چارہ بھی کھلا دیتے ہیں۔ ان کو پتہ نہیں کہ یورپ اور کینیڈا میں اس وقت سہانجنا کے خشک پاؤڈر کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے اور ایما زون وغیرہ پہ لوگ اسے ڈالرز میں خرید رہے ہیں۔ احباب! آپ کو پتہ ہے کہ جیسے اخباری صحافت آخری سانس لے رہی ہے ایسے ہی روایتی دکانداری بھی زوال کی طرف جا رہی ہے۔ مغرب تو ایمانداری کے ساتھ آن لائن کاروبار میں قدم رکھ چکا ہے کیونکہ وہاں کے بزنس مین کو ادراک ہو چکا ہے کہ اب روایتی اور پرانے کاروباری طریقوں کو الوداع کہنے کا وقت ہو چکا ہے۔

تاہم اپنے جنوبی ایشیا بشمول پاکستان اور انڈیا میں آن لائن کاروبار بے ایمان اور ہوس زدہ ہاتھوں میں چلے جانے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہا بلکہ کسٹمر کا اعتماد کھو رہا ہے۔ فیس بک پہ ہوم ڈیلیوری سے موبائل فون سیٹ کا پیڈ اشتہار بار بار چل رہا تھا۔ سمارٹ فون منگوایا، اشتہار میں جو خصوصیات بتائی گئیں تھیں، موبائل فون میں نہ تھیں۔ رابطہ کیا نمبر بند۔ تھوڑا عرصہ موبائل فون چلا پھر اس کی ایل سی ڈی سکرین خود بخود جل گئی۔

فیس بک اشتہار سے ہی الیکٹرک شیور منگوایا، پیسے بھی چلے گئے اور اس نے کام ہی نہ کیا۔ جینز کی جیکٹ کا اشتہار آ رہا تھا اور تصویر اور ویڈیو میں اس کے اندر فر لگی ہوئی تھی۔ یورپ میں وہ سینکڑوں ڈالرز کی ملتی ہے بھائی لوگ صرف اٹھارہ سو روپے میں دینے کی آفر دے رہے تھے۔ سوچا کراچی کی کسی گارمنٹس فیکٹری میں کاپی تیار کی ہوگی چلو منگوا لیتے ہیں۔ پیکٹ آیا۔ کھولا تو لنڈے کی ایک چھوٹی سی پرانی بدبودار شرٹ تھی جو سائز میں آٹھ دس سال کے بچوں کے لیے ہوتی ہے۔ فون کیا آگے سے فون بھی بند۔ اب آن لائن کچھ بھی نہیں منگواتا۔ خیر۔

ناشتہ کرنے کے بعد خبریں دیکھنے کے لیے انٹرنیٹ آن کیا۔ یہ جو چنگ چی موٹر سائیکل رکشے چلتے ہیں نا، کسی علاقہ میں ان کی یونین کا الیکشن تھا۔ بھورا نامی امیدوار الیکشن جیت گیا۔ ہارے ہوئے امیدوار کاکا ٹیڈی نے ڈھولے مستری کو درخواست دی کہ ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ دوبارہ گنتی میں بھورے چنگ چی ڈرائیور کو ملنے والے کئی ووٹ مسترد قرار دے کر گنتی سے ہی آؤٹ کر دیے گئے اور اس طرح کاکے ٹیڈی کے ووٹ بڑھ گئے اور اسے ونر قرار دے دیا گیا۔

وہاں کھڑے ایک چنگ چی رکشہ ڈرائیور نے کہا ”ذلت کی جیت سے عزت کی ہار بہتر ہے“ ۔ قریب کھڑے ایک اور ڈرائیور نے جو شکل سے ”پارٹ ٹائم نشئی“ لگتا تھا بھورے کی حمایت میں بلند آواز میں بڑی ”بے ادبی“ سے کہا ”بندے بے غیرت کے لیے عزت آنی جانی شے ہے“ ۔ کاکے ٹیڈی نے غصے سے کہا ”جب ڈھولے مستری نے فیصلہ دے دیا تو سب چنگ چی ڈرائیورز اس فیصلے کو مانیں، یہ کیا کہ شور مچانا شروع کر دیا۔ اس طرح تو یونینز نہیں چلتیں نا“ ۔ بھنگ کے نشے میں مست ڈھولا بس مسکرائے جا رہا تھا۔ خیر۔

احباب! پاکستان، انڈیا اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کا معاشی مستقبل کیا ہو گا؟ تھنک ٹینکس اور کسٹوڈینز نے کبھی سوچا کہ یہاں پہ آن لائن کاروبار دھوکہ دہی کہ وجہ سے کسٹمرز کا بھروسا کھو رہا ہے اور اس سے خطہ کو درپیش معاشی بحران ختم ہونے کی بجائے مزید سنگین ہو جائے گا؟ وجہ۔ وجہ یہ کہ آپ جو چاہے طریقے استعمال کر لیں، کاروبار کے پرانے انداز اب برقرار نہ رہ پائیں گے۔ خیر۔

اکبر شیخ اکبر کی سوچ ہے کہ اگر آپ آن لائن کاروبار میں دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ان بے ایمانوں کے لیے عملی سزا کا بندوبست نہیں کرتے تو پھر معاشی طور پہ خود انحصار ہونے کا آپ کا خواب کبھی بھی عملی صورت اختیار نہ کر پائے گا ہاں جیسے سات دہائیوں سے کشکول پکڑ کر آپ عالمی برادری کے سامنے کھڑے ہیں، آنے والے وقت میں بھی سرٹیفائیڈ انٹرنیشنل بھکاری کا اعزاز آپ کے پاس ہی رہے گا۔

جب تک اداروں، سرکاری محکموں، رہنماؤں، صنعتکاروں، تاجروں، دکانداروں اور عوام کے اندر آپ ایمانداری اور اصول پسندی کے جذبے کو بیدار نہیں کر پاتے اس وقت تک آپ اپنی قومی معیشت کو مضبوط و مستحکم دیکھنے کا بس خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ چاچو عیسیٰ خیلوی کہتا تھا نا ”آ وسیاں ساونیاں تیڈی دید نوں ترس گئی آں“ ۔ معاشی ترجمہ۔ ”میری محبوب معیشت! امید کی بارشیں شروع ہیں لیکن ہم تو تیرے استحکام اور اس سے فیض یاب ہونے کو ترس گئے ہیں“ ۔

Facebook Comments HS