اجتماعی خوشیوں کی کاوشیں


ہم میں سے اکثر لوگ معاشرے میں بہتری کے لئے سوچتے ہیں اور کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں پاتے تاہم کچھ خوش قسمت لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو اس معاشرتی ذمہ داری کو نہ صرف سوچتے ہیں بلکہ پورا بھی کر لینے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اس کا پیمانہ چاہے مختصر ہی سہی پر وہ لوگ معاشرتی اصلاح کے عمل کو کسی نہ کسی سطح پر جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور میرے خیال میں یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہی شمار ہوگی وہ لوگ اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ لمحات اوروں کی بھلائی میں صرف کرتے ہیں جو کہ نہ صرف دنیا وی اعتبار سے قابل ستائش ہے بلکہ دینی اعتبار سے ایک اہم فریضہ بھی ہے۔

ایسے ہی چنیدہ لوگوں میں ہمارے معروف آرٹسٹ شجاع سمیع کا بھی شمار ہوتا ہے کہ جنھوں نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید قسم کے مسائل پہ نہ صرف بات کی ایک تنظیم یا ادارہ کہ لیجیے بنایا بلکہ ایک حساس فنکار کی طرح اس کو محسوس بھی کیا اور مختصر دورانئے کی فلمز اور وڈیوز بنا کر اس کے حل کی بھی کاوشیں کیں اور لو گوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے مشن کا آغاز کیا اور یہ سفر کامیابی سے جاری و ساری ہے اور رہنا بھی چاہیے ۔

ان کی انہی کاوشوں سے کہیں مایوس اور پریشان حال چہروں پہ مسکراہٹ آئی اور کہیں اس کے حل کی تدابیر کا آغاز ہوا اور یہی ان کی کامیابی کا بڑا سبب بھی ہے اس خاص سفر کو ہم ایک خاموش انقلاب بھی کہ سکتے ہیں جس کے اثرات ہمیں فلفور تو نظر نہیں آتے مگر ہو رہے ہیں اور ہوتے رہنے چاہیے شجاع سمیع اور ان کی ٹیم کی کا شوں سے ہم دیکھتے ہیں کہیں ذہنی مسائل کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے تو کہیں قومی یکجہتی کو اجاگر کیا جاتا ہے تہ کہیں بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک سے بے لوث محبت کی بات کی جاتی ہے، کہیں نشے جیسی لعنت کو مخصوص انداز میں سامنے لایا جاتا ہے اور اس کے منفی اثرات کی بات ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے ایسے چنیدہ اور معاشرتی فلاح کے اداروں کی مدد کے لئے ایک عام آدمی اپنی بساط میں کیا کر سکتا ہے اور کیا کیا جانا چاہیے میں ایک عام انسان، پاکستانی کی حیثیت سے پہلا کام یہ کر سکتی ہوں کہ میں شجاع سمیع اور کی ٹیم کی ہر کاوش کو دیکھوں اور اس میں دیے گئے پیغام کو سمجھوں اور اس کو آگر بڑھانے میں اپنا کردار ادا کروں وہ ایسے کہ اس پیغام کو اپنے اردگرد تک کم از کم پہنچاؤں اور اگر ایک عام انسان سے بڑھ کر میری بساط ہے تو میں نہ صرف ان کے ساتھ ان کے اس مشن میں کئی طرح سے اپنی خدامت پیش کر سکتے ہیں جیسے کہ میں بطور ایک مصنف ان کی خدمات کا اعتراف ایک کالم تحریر کر کے کر رہی ہوں جو لوگ شجاع کو صرف ایک فنکار کی حیثیت سے جانتے ہیں انھیں اس فنکار کی دوسری خدمات کا بھی علم ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح آپ ان کی کاوشوں میں اپنی بساط، اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاونت فراہم کر کہ بھی اپنے حصے کا کام یا خدمت ادا کر سکتے ہیں یہ ایک معاشرتی ذمہ داری ہے جو ہم سب کا فرض ہے اور اس کا قرض کو ہم کو چکانا ہے شجاع اور ان کی ٹیم کو سراہے جانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ ان یہ جذبہ اور کام بڑھتا رہے اور یہ لوگوں کے چہروں پے مسکراہٹ لانے کے مشن پہ کام کرتے رہیں اور ہمارا معاشرہ ایک قابل برداشت معاشرہ بن سکے۔

Facebook Comments HS