مریم نواز کا پولیس اہلکار کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے پر کہیں شاباشی تو کہیں ’پرسنل سپیس‘ کی بحث

نازش ظفر - صحافی


گرلز کالج کے وقت کی ایک دوست یاد آتی ہے جو اس بات پر بہت خفا ہوتی کہ کوئی ساتھ چلتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے، یا اپنے ہی لطیفے پر ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارے، اس ’دے تالی‘ والے مذاق کے جواب میں وہ کئی دوستوں کو ٹوک کر ناراض کر چکی تھی۔ لیکن عام طور پراس سے یہی کہا جاتا کہ اس میں کون سی بڑی بات ہے۔

بڑی بات تو ہے جب آپ کو پتہ چلے کہ پاکستان میں کسی بھی ’پبلک سپیس‘ میں آپ کی ذاتی سپیس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

آپ کہیں چل رہے ہوں تو کوئی کندھا مار کے جا سکتا ہے اور کبھی قطار میں موجود ہوں تو دھڑکا رہتا ہے اب پیچھے سے دھکا لگا کہ تب لگا۔

بس میں بیٹھے ہوں تو آنے والا سوار آپ کے کندھے پر ہاتھ مار کر آگے ہونے یا سیٹ خالی کرنے کو کہے گا۔ اب آپ اسے سمجھا نہیں سکتے کہ اس حکم نما درخواست کے لیے صرف زبان کا استعمال کافی تھا۔

اگر کسی نے نیا موبائل فون یا گھڑی ہاتھ میں پکڑی ہو تو سیدھا ہاتھ پکڑ کر پوچھا جائے گا ’پائین کنے دی لئی اے‘ (بھائی کتنے کی خریدی ہے)۔

Maryam Nawaz

’پرسنل سپیس پانی میں گئی۔۔۔ چھپیک‘

سیلون چلے جائیں تو ساتھ بیٹھی خاتون آپ کے بالوں کو چھو کر پوچھے گی ’ری بونڈنگ‘ کہاں سے کروائی ہے۔

ایسے میں دل چاہتا ہے کہ پورے معاشرے کی ری بونڈنگ کر کے سمجھایا جائے کہ کسی کو کسی بھی مقصد سے چھونے سے پہلے ان کی اجازت لینا ضروری ہے۔ اسے کہتے ہیں ’پرسنل سپیس‘ کا احترام۔ یعنی ’فاصلہ رکھیں‘ ٹرکوں پر لکھے اس دو لفظی جملے میں آپ کے لیے بہترین سبق موجود ہے۔

حال ہی میں پنجاب کی نو منتخب وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انھیں ایک خاتون پولیس افسر کا دوپٹہ ان کے سر پر جماتے دیکھا جا سکتا ہے جو کام کے دوران ان کے سر سے کھسک گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر کچھ نے اس پر مریم کو شاباش دی۔ ان کے خیال میں یہ ان کا عوام میں وہی ’گھلنا ملنا‘ ہے جسے تبرک سمجھ کر قبول کیا جائے۔

جبکہ کچھ نے یہ کہا کہ ان کا ایسا کرنا خاتون کی ’پرسنل سپیس‘ کی خلاف ورزی تھی۔

ایک طبقہ اپنی ’ہومیو پیتھک‘ رائے بھی رکھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر زیادہ سوچا نہ جائے۔ دوپٹہ ٹھیک کر دیا، معمولی بات ہے، بحث کی کیا ضرورت ہے۔

بحث کی ضرورت کیوں ہے۔ اس سوال کے جواب میں جینڈر سٹڈیز کی ماہر فرزانہ باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان جیسے معاشرے کے سیاق و سباق میں جہاں خاتون کی عزت اس کے دوپٹے یا لباس سے جوڑی جاتی ہے، ایک با رسوخ عہدیدار کا سرکاری افسر کا دوپٹہ واپس سر پر رکھنا اس سوچ کو اور مضبوط کرے گا۔‘

’ضروری نہیں کہ ہر دوپٹہ کرنے والی عورت ہر وقت ہی اسے کرنا چاہے۔ اگر وہ کھسک گیا تھا تو صرف ان کا اپنا حق تھا کہ اسے دوبارہ ٹھیک کرتیں کسی تیسرے شخص کو ان کی اجازت کے بغیر اسے چھونا درست نہیں تھا۔‘

https://twitter.com/pmln_org/status/1762767984441831665

نحل زہرہ، ایک ڈینٹسٹ ہیں۔ بی بی سی نے اس بارے میں بحیثیت ایک خاتون پروفیشنل ان کی رائے جاننا چاہی۔ ان کا پہلا رد عمل یہی تھا کہ اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دوپٹہ درست کر دیا تو اسے ’ایشو‘ نہ بنایا جائے۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے کام کے دوران ان کا مریض یا اس کا ’اٹنڈنٹ‘ ان کا ماسک یا لباس درست کرنے کی کوشش کرے تو ان کا رد عمل کیا ہو گا۔

تو جواب میں ان کے چہرے کے تاثرات اور رد عمل دونوں مختلف تھے۔ ’ہاں۔۔۔ نہیں اچھا لگے گا۔‘

حریم حسین یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔ اس بحث کا حصہ بنتے ہوئے انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اپنی ایسی دوست جو حجاب لیتی ہیں، کا حجاب مختلف مواقع مثلاً پریزنٹیشن وغیرہ پر درست کر دیتی ہیں لیکن پرانی دوستی کی وجہ سے انھیں اس کی اجازت ہی نہیں بلکہ تاکید ہے۔‘

درست تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو آپ کی اس شخص سے مشترکہ بے تکلفی ہو یا پھر ان کی اجازت لے کر ہی ان کی پرسنل سپیس میں داخل ہوا جائے۔

ایک سوال کا جواب البتہ باقی ہے۔ اگر مریم نواز کا دوپٹہ کھسک گیا ہوتا اور پولیس افسر نے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہوتی تو۔۔۔؟

اس سوال کا جواب براہِ راست تو ہم مریم نواز سے نہیں لے سکے، لیکن ان کی اور ان کے قبیل کی کئی شخصیات کی متعدد ویڈیوز موجود ہیں جہاں عوام میں سے کسی نے ان سے ’گھلنے ملنے‘ کی کوشش کی تو جواب میں ان کی ’شفقت‘ صاف دکھائی دی۔

https://twitter.com/Lovina_says/status/1762591342746624173

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل

اس بارے میں سوشل میڈیا پر اب بھی خاصی بحث جاری ہے اور جہاں کچھ لوگوں کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں وہیں اکثر افراد سمجھتے ہیں کہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے اگر مقصد نیک بھی تھا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

صحافی اقرار الحسن نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سب اس پر اپنی اپنی بات کہہ رہے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ ایک خوبصورت عمل تھا، خاص طور پر جب اس بہن نے مریم نواز صاحبہ کو دوپٹہ درست کروانے پر ’تھینک یو‘ کہا۔

’جہاں تنقید بنتی ہے وہاں تنقید کیجیے جہاں کچھ اچھا ہو اسے سراہنا سیکھیے۔‘

https://twitter.com/mfhusayn/status/1762761083415036290

ظلِ ہما نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’جو لڑکیاں سکارف اوڑھتی ہیں، وہ بخوبی جانتی ہیں کہ سر سے دوپٹہ سرکے بھی تو فوراً ٹھیک کیا جاتا ہے۔‘

خرم قریشی نامی صارف نے ٹویٹ کہ ’جب اس خاتون کو کوئی مسئلہ نہیں جس کا سکارف مریم نواز نے ٹھیک کیا تو ہمیں کیوں ہے؟‘

صحافی مہر حسین نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے یہ مریم نواز کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کا واقعہ ہو یا اچھرہ میں خاتون کے لباس پر ان پر توہین مذہب کا الزام، یہ سب ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ خاتون کیا پہنتی ہے یہ اس کا اپنا فیصلہ تصور نہیں کیا جاتا۔‘

لئیق نامی صارف نے لکھا کہ ’مریم نواز کا پولیس اہلکار کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل کی سوشل میڈیا پر تشہیر ن لیگ کا دائیں بازو کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تھی۔ اگر انھیں عورت کے پردے کا اتنا ہی خیال تو اسے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شائع ہی کیوں کیا گیا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32515 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments