حکومت معاشی سرگرمی میں اضافہ کیسے کر سکتی ہے؟
کوئی ملک جب مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے تو سرمایہ کار غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں نتیجۃً پیداواری آمدنیوں کی بجائے کرایہ کی آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے یعنی سرمایہ کار اپنے سرمائے کو پیداواری صنعت میں لگانے کی بجائے کرائے پر رکھوانے کو فوقیت دیتا ہے جیسے بنک میں پیسہ رکھنا، عمارات بنا کر کرایہ پر دینا یا پلاٹ خرید کر قیمتیں بڑھنے کا انتظار کرنا وغیرہ۔ کرایہ کی آمدنیوں کی کئی کئی شکلیں قانونا و شرعا حرام نہیں مگر وہ نتیجہ کے اعتبار سے ایسی ہی ہیں جیسے سرمائے کا کرایہ (سود) ۔
رینٹل انکمز کے لیے سرمایہ کاری سے لوگوں کو صنعت میں سرمایہ کاری کرنے کی نسبت بہت کم روزگار ملتا ہے، مزید یہ کہ معاشی سرگرمی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں اسلامی بنکاری کو فروغ دینے کے لیے اکیسویں صدی کے شروع میں خصوصی اقدامات کیے گئے، غیر سودی بنکاری کے مجوزین نے سودی نتائج سے بچنے کے لیے تجویز دی کہ اسلامی بنک شراکت و مضاربت (پارٹنر شپس) کے لیے 80 فیصد سرمایہ صرف کریں جبکہ مرابحت (رینٹل انکمز، لیز ) کے مقاصد کے لیے 20 فیصد سرمایہ مختص کریں لیکن عملی طور پر اس کے برعکس ہوا نتیجۃً قسطوں کا کاروبار اور سودی لین دین زیادہ ہوا۔
حالیہ سالوں میں پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے کام میں بہت سرمایہ کاری ہوئی لیکن صنعتیں بند ہوتی جا رہی ہیں، وجہ واضح ہے سیاسی عدم استحکام۔ جب ملک میں غیر یقینی صورتحال پائی جائے تو مہنگائی تو ہوتی ہے مگر جن کے پاس پلاٹ، سونا یا دیگر فکسڈ ایسٹس ہوتے ہیں ان کے اثاثوں کی قدر بڑھ جاتی ہے جیسے ابھی سونے، پلاٹس، عمارات اور گاڑیوں کی قدر بڑھی مگر گاڑیوں کی کمپنیاں بند ہوئیں۔
موجودہ معاشی حالات میں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تین طرح کے اقدامات کرنے کریں تاکہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو:
1۔ ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے۔
2۔ لوگوں اور ان کے سرمائے کا تحفظ کیا جائے۔
3۔ ایسی معاشی اصلاحات کی جائیں کہ عام لوگ اپنا سرمایہ کاروبار میں لگائیں۔
ان اقدامات سے درج ذیل فوائد ہوں گے :
1۔ رینٹل انکمز کی بجائے پروڈکٹو انکمز میں اضافہ ہو گا۔
2۔ معاشی سرگرمی بڑھے گی۔
3۔ لوگوں کو روزگار ملے گا۔
4۔ فرد کی اور قومی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔
سفارشات و تجاویز
حکومت بہت سے ایسے اقدام اٹھا سکتی ہے جس سے حکومت کا پیسہ خرچ کیے بغیر معاشی سرگرمی بڑھے گی، پیدائش دولت ہوگی۔ چند مجوزہ سفارشات درج ذیل ہیں :
1۔ ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں سرکاری زمین مارکیٹ کے لیے شہریوں کو الاٹ کی جائے تاکہ جگہ مہیا ہونے کی وجہ سے وہ دکانیں بنائیں اور اپنے سرمائے سے کاروبار کر سکیں، حکومت کو اس سلسلہ میں کوئی محنت نہیں کرنا پڑے گی، اسسٹنٹ کمشنر کی سطح کا کام ہے جسے حکومتی حکم سے قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔
2۔ زرعی گریجویٹس کو ان کے اپنے علاقوں میں سرکاری زمینیں الاٹ کی جائیں، ان سے معاہدہ کیا جائے کہ وہ ان زمینوں پر کاشت کریں گے اور اپنے مخصوص علاقہ کی زمینداروں کی رہنمائی کریں گے، اس سے زمینداروں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے نیز زرعی گریجویٹس کو بھی روزگار ملے گا، ملکی زراعت میں بہتری آئے گی۔
3۔ نجی اور سرکاری اشتراک سے کئی پراجیکٹ شروع کیے جا سکتے ہیں مثال کے طور پر تحصیل کی سطح پر نجی سرمایہ سے ری سائیکل یونٹ لگائے جا سکتے ہیں، ویسٹ میونسپل کمیٹی اکٹھا کرے جبکہ ری سائیکل یونٹ اسے پراسس کرے۔ اس سے ویسٹ مینجمنٹ بہتر ہوگی، انڈسٹری کو ری سائیکل شدہ خام مال مہیا ہو گا، مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہو گا، مقامی سرمایہ کاروں اور قومی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔
4۔ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے آسانی اور سہولت کا نظام بنایا جائے تاکہ وہ آسانی سے ملک اور ملک کے باہر تجارت کرسکیں، آسان شرائط پر امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس جاری کیے جائیں۔
5۔ مختلف شعبوں سے متعلقہ اسٹوڈنٹس کو مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے اپنے شعبوں سے متعلقہ ذاتی یونٹس لگا سکیں۔ اس سے نوکریوں کا بوجھ کم ہو گا، کاروبار میں اضافہ ہو گا۔ مثال کے طور پر انجینئرنگ کے طلبا کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ مقامی سطح پر چھوٹے انجینئرنگ یونٹس لگا سکیں۔ بڑے سرمایہ کاروں کی وجہ سے قوانین و ضوابط اس قدر سخت بنائے گئے ہیں کہ عام آدمی چھوٹی صنعت لگانے کے لیے تقاضے پورے نہیں کر پاتا۔ اس طرح فارماسسٹس کے لیے قوانین آسان کیے جائیں تاکہ وہ مقامی سطح پر دوا سازی کا کام کرسکیں۔
6۔ توانائی کی قلت کو دور کرنے کے لیے بنکوں اور نجی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو بلا سود اقساط پر سولر سسٹم مہیا کریں۔ اس سے توانائی کا بحران بھی ٹلے گا اور ملک روزگار میں بھی اضافہ ہو گا۔ علاوہ ازیں سولر سسٹم کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ مقامی سرمایہ کار سولر کی درآمد میں اضافہ ہو سکے۔
6۔ ملک میں ہزاروں ڈاکٹر سرکاری نوکریوں کے منتظر ہیں، حکومت انہیں نوکری نہیں دے پا رہی، انہیں بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے ہسپتال بنا سکیں، پرائیویٹ ہیلتھ کئیر یونٹس کے قیام سے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہو گا اور مقامی لوگوں کو ان کے علاقوں میں اسپیشلسٹس دستیاب ہوں گے۔
7۔ افرادی قوت کو موثر و مفید بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سرپرستی میں محکمہ کھولا جائے جو حکومتی سطح پر اقدامات کر کے نوجوانوں کو نوکریوں کے لیے بیرون ممالک بھیجے۔ بیرون ممالک نوکری کے لیے مطلوبہ تعلیم و مہارت کے لیے فری کورسز کا اہتمام کیا جائے۔
8۔ بنجر زمینیں مشروط طور پر ان لوگوں کے نام کی جائیں جو انہیں آباد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
9۔ گھریلو صنعت کو فروغ دیا جائے، اس سلسلہ میں چھوٹے درجہ کی مشینری بلا سود قسطوں پر مہیا کی جائے تاکہ مرد و عورت گھروں میں بیٹھ کر پیداواری عمل کا حصہ بن سکیں۔ پیسہ نہ دیا جائے مشینری خرید کردی جائے۔
10۔ جس خام مال میں پاکستان خودکفیل ہے اس خام مال کو باہر بھیجنے کی بجائے مقامی صنعت کو بیچا جائے، مقامی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جائے کہ وہ صنعت لگائیں۔
اس طرح کے بیسیوں اقدامات کیے جا سکتے ہیں مگر داخلی طور پر ایسے اقدامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی جیب پر نظر کے علاوہ کوئی خاطر خواہ قدم نظر نہیں آ رہا۔ وفاقی حکومت اور بالخصوص پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے حوالہ سے متعلقہ محکموں کو مکمل فعال کیا جائے فوری نوعیت اور مستقل نوعیت دونوں طرح کے منصوبے نہ صرف پیش کریں بلکہ انہیں عملی شکل بھی دیں۔


