بِلا عنوان
پچھلے سال جب میرا شناختی کارڈ بنا تو اماں کو پتا چلا کہ اس کا بیٹا (یعنی میں ) جوان ہو گیا ہے۔ محلے کے دوسرے لڑکے تو اتنے بدمعاش ہیں کہ سترہ سال کی عمر میں محلے دار ان کے والدین کو خبردار کرتے ہیں : ”اپنے لونڈے کو لگام دو جس کی منہ زور جوانی نے علاقے کی لڑکیوں، بیوہ اور مطلقہ عورتوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔“ خدا کا شکر ہے کہ اماں کے پاس میری کوئی شکایت نہیں پہنچی، محلے کی ساری عورتیں میری نیکی اور شرافت کی قسمیں کھاتی ہیں (اور لڑکیاں مجھے دیکھ کر نگاہ نیچے کیے سر جھکا کے جاتی ہیں ) ۔ میری سادگی (جیسے بعض لوگ بدھو پن بھی کہتے ہیں ) کا یہ عالم ہے کہ اگر میں مزید دو سال تک بھی شناختی کارڈ نہ بناتا تو اماں کو میرے جوان ہونے کا پتا نہ چلتا۔
ہمارا خاندان صرف دو ہی نفوس پر مشتمل تھا یعنی میں اور اماں جان، گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے سارے کام اماں کو تن تنہا کرنے پڑتے تھے، انھیں ایک خاتون اسسٹنٹ کی ضرورت تھی جو امور خانہ داری میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔ جوں ہی انھیں پتا چلا کہ میں نے جوانی کی دہلیز پار کرلی ہے انھوں نے میری شادی خانہ آبادی کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے محلے کی دو چار لڑکیاں پسند تھیں لیکن اماں کا خیال تھا کہ مجوزہ لڑکیاں ’ملیر کی چھوٹی مرچی‘ کی طرح تیز ہیں جب کہ میں اللہ میاں کی گائے ہوں، لہذا ایسی لڑکیوں کو دلھن بنا کر لانے کا رسک نہیں لیا جاسکتا۔ انھوں نے اپنے دور کے رشتے داروں میں ایک مسکین صورت لڑکی پسند کرلی، مجھے بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ لڑکی میری دلھن بن کر گھر آ گئی۔
شادی کے ایک مہینے بعد ہمیں پتا چلا کہ ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“ کی مصداق دلھن اندر سے نہایت چالاک اور مکار تھی (بس شادی سے پہلے اماں کے سامنے مسکین صورت بن کر آتی تھی) ۔ دلھن نے آتے ہی ساتھ اماں کو بارواں کھلاڑی بنا کر ایک طرف کر دیا اور گھر کا سارا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اختیارات اپنے پاس رکھ کر امور خانہ داری کی ساری ذمہ داریاں میرے ناتواں کاندھوں پر ڈال دیں۔ صبح ناشتے سے لے کر رات ڈنر تک سارے کام میرے ذمے لگا کر خود ٹی وی پر صبح مارننگ شو اور رات کو پرائم ٹائم ڈرامے دیکھنے میں مشغول ہو گئی۔ دوپہر کو کھانا کھانے کے بعد جو وقت بچتا اسے قیلولہ کرنے میں گزارتی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ رات کو سونے سے پہلے اس کے پیر بھی دبانے پڑتے ورنہ ہمیں ہمارا گلا دبانے کی دھمکیاں دیتیں۔
اس نئی افتاد سے تنگ آ کر ایک دن میں اپنے لنگوٹیا یار، امجد کے پاس گیا اور انھیں ساری کہانی سنا کر مشورہ مانگا کہ اس پریشانی سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ امجد نے مجھے ایک پہنچے ہوئے بزرگ، حضرت بابا جی عرف پانی والے بابا کا پتا بتایا جو بقول ان کے اپنے عملیات اور دم کیا ہوا پانی پلا کر ظالم سے ظالم بیوی کو بھی شوہر کے پیچھے دم ہلانے پر مجبور کرتے ہیں۔ (بیویاں کیسے دم ہلاتی ہیں مجھے دیکھنے کا بڑا اشتیاق ہوا) ۔
اگلے ہی دن امور خانہ داری سے فارغ ہو کر میں بابا جی کے آستانے پہنچا مگر وہاں ایک بڑا تالا لگا ہوا تھا۔ کچھ سائلین پہلے ہی سے بابا جی کے انتظار میں آسن مارے بیٹھے تھے۔ مجھے چونکہ گھر پر اور بھی بہت سارے کام نمٹانے تھے لہذا بابا جی کے ایک چھیلے سے پتا پوچھ کر ان کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر اندر سے ایک موٹی تازی عورت برآمد ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا: ”بابا جی گھر پر ہیں؟“ کہنے لگی: ”کیا کام ہے؟
“ میں نے کہا: ”ایک ذاتی نوعیت کا کام ہے۔“ انہوں نے ہنستے ہوئے گھر کے اندر ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”وہ ہیں آپ کے بابا جی۔“ میں نے اندر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کی بابا جی لنگوٹ کس کر برتن مانجھنے اور پونچھا دینے میں مشغول تھے، ساتھ ہی ایک واشنگ مشین رکھی ہوئی تھی جس میں سے وقفے وقفے کے بعد کپڑوں کو نکال خشک کر کے رسیوں پر ٹانگ رہے تھے۔
پانی والے بابا کی حالت دیکھ کر میں خاموشی سے الٹے پاؤں واپس گھر آ گیا اور تندہی سے اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھانے میں لگ یا۔


