اور نوکری چلی گئی

مسز نوشین درّانی کے شوہر، جناب نوازش علی درّانی، ایک نجی کمپنی میں ڈائریکٹر تھے، نوشین سے ان کی یہ دوسری شادی تھی۔ مبینہ طور پر ان کی پہلی بیوی انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب کیوں گئی تھی، اس کے بارے میں نہ تو نوازش علی نے کبھی بتانے کے زحمت کی نہ ہی نوشین کو پوچھنے کی ہمت ہوئی۔ نوازش علی ایک کم گو انسان واقع ہوئے تھے جو ضرورت سے زیادہ بات کرنے کے قائل نہیں

Read more

ٹرک کی بتی کے پیچھے

جب تک میرے اپنے پاس اسمارٹ فون نہیں تھا، میں بچوں کا اس کھلونے کے ساتھ جو انہماک ہے اس کو سمجھنے سے قاصر رہا اور ہر وقت انھیں ہدفِ تنقید بناتا رہا۔ پھر یوں ہوا کہ بچوں کے ساتھ میرے روز روز کے تُو تکار سے تنگ آ کر میرے نواسے، عارف نے مجھے اسمارٹ فون خرید کر دینے کی پیشکش کی، کچھ دیر تک میرے ضمیر نے مزاحمت کی کہ کل تک بچوں کو برا بھلا کہنے والا

Read more

عبادت گاہیں، بچوں سے ناانصافی اور ملزموں کے پیر بھائی

وطن عزیز کی فضاوں سے آج کل کچھ اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں، روز ایک ایسی خبر ملتی ہے جس سے دل دہل جاتا ہے اور ذہن اندیشہ ہائے دور دراز میں گھِر جاتا ہے، اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ آخر ہم کس طرف چل پڑے ہیں۔ ابھی ہم چارسدّہ کے اس واقعے کی، جس میں اسکول میں پاس ہونے والے بچے کی ہوائی فائرنگ سے اس کی اپنی والدہ جاں بحق ہوئی تھی، خبر کے صدمے سے

Read more

غسلِ میّت

دوست محمد عرف دوستین ایک سیدھا سادا شریف انسان تھا، وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن مذہبی رجحانات رکھنے کے سبب اس کا زیادہ وقت مِحلے کی مسجد میں گزرتا جہاں مولوی صاحب سے اس نے نماز کا طریقہ اور دیگر مذہبی فرائض و واجبات سیکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن شریف کی کچھ چھوٹی سورتیں بھی یاد کرلی تھیں۔ مولوی صاحب میتوں کو غسل دینے کے لیے مدد گار کے طور پر انھیں بھی اپنے ساتھ لے جایا کرتے

Read more

حیراں ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

ایک خبر کے مطابق 30 مارچ 2024 کو ضلع چار سدّہ کے علاقے اتمان زئی میں، امتحان میں پاس ہونے کی خوشی میں، نو سالہ بچے نے اپنے والد کے پستول سے ہوائی فائرنگ کردی جس کی زد میں آ کر اس کی اپنی والدہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس واقعے پر آدمی کیا کہہ سکتا ہے سوائے غالب کے ان اشعار کے : حیراں ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں

Read more

بندر کا شکوہ

آج تقریباً پچاس سال بعد مجھے چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہوا، پہلی مرتبہ میں چڑیا گھر اس وقت گیا تھا جب میری عمر12 برس کی تھی، اس وقت مجھے میرے ابا لے گئے تھے۔ ابا کا خیال تھا کہ بچوں کو زندگی میں ایک مرتبہ چڑیا گھر کی سیر ضرور کرانی چاہیے تاکہ انھٰیں اپنا گھر اور چڑیا گھر میں فرق معلوم ہو جائے اور وہ اپنے گھر میں انسانوں کی طرح رہنا شروع کر دیں۔ اس مرتبہ مجھے

Read more

مانگ بچہ کیا مانگتا ہے

رمضان کا بابرکت مہینہ جاری ہے، دین دار لوگ اس مہینے کی برکتوں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں جب کہ بے دین لوگ دین داروں کو۔ پھل فروش، سبزی فروش، دودھ فروش اور دین فروشوں کی طرح رمضان کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کے لیے بھکاریوں کا ایک ریلا آیا ہوا ہے، جو دین داروں کے جیبوں میں بچا کھچا مال کو بھاگتے چور کی لنگوٹی سمجھ کر کھنگالنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت شہر میں

Read more

کرپشن کے فوائد

کرپشن ایک ایسا بدنصیب لفظ ہے کہ آج تک اسے کسی انسان نے (یہاں تک کہ کرپشن کرنے والوں نے بھی) تعریفی کلمات سے نہیں نوازا جس نے اسے بولا نفرت سے بولا (البتہ کیا بڑے شوق سے ہے ) ۔ اس لفظ کی مذمت میں ہزاروں صفحات متعلقہ و غیر متعلقہ افراد نے سیاہ کیے۔ ہمارے ملک میں بھیڑ چال کا یہ عالم ہے کہ کوئی چالاک شخص کوئی ایک موضوع اگر چھیڑ دے تو باقی سب لوگ ٹرک

Read more

ایبسولوٹلی ناٹ

وضاحت: یہ ایک غیر سیاسی مضمون ہے جسے سیاسی لوگ بھی پڑھ سکتے ہیں (سیاست کو ایک طرف رکھ کر ) میرے والدین نے جانے کیا سوچ کر میرا نام ’فرماں بردار‘ رکھا تھا؟ ممکن ہے ان کا یہ خیال ہو کہ یہ نام رکھنے سے میں بڑا ہو کر ان کا فرماں بردار بیٹا بن جاؤں گا یا پھر اللہ کا فرماں بردار بندہ بن کر اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کروں گا۔ اگر یہی بات تھی جس کا

Read more

عشقیہ خطوط (ماخوذ)

پروفیسر عبدالقدیر شہر کے ایک مشہور اور نامور نجی یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتے تھے۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد وہ تقریباً دس سال تک مجرد رہ کر زندگی گزارتے رہے۔ عورت کے بغیر زندگی گزارنا کسی مرد کے لیے آسان نہیں ہوتا، یہ بات ان کی سمجھ میں دس سال بعد آئی جس کے بعد انھوں نے ایک نوجوان حسینہ سے شادی کرلی۔ پروفیسر صاحب شام کو گھر پر اپنے یونیورسٹی کے طالب علموں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے

Read more

جوابی اعتراف

بستر مرگ پر زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوئے جناب نیک محمد نے اپنی چہیتی بیوی کو اپنے پہلو میں بٹھا کر کہا: ”میری جان سے عزیز زوجہ عالیہ! میں دنیا سے جاتے ہوئے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں تاکہ میرے دل پر گناہوں کا جو بوجھ ہے، کچھ ہلکا ہو جائے۔“ ۔ یہ کہتے ہوئے اس پر کھانسی کا ایک طویل دورہ پڑا۔ اس وقفے کے دوران اس کی چہیتی بیوی گٹکا کھانے میں مصروف رہی۔ کھانسی کا دورہ

Read more

محبوب آپ کے قدموں میں

یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا۔ میری عمر اس وقت کوئی سترہ برس کی ہوگی جب مجھے اپنے محلے کی ایک لڑکی سے عشق ہوا تھا۔ اب کیوں ہوا تھا؟ اس کا میرے پاس کوئی معقول جواب ہے نہ جواز کیونکہ عشق کیا نہیں جاتا بلکہ خودبخود ہوجاتا ہے۔ بقول غالب: عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے وہ لڑکی، جس کا نام ہم یہاں مہرالنساء عرف

Read more

تقریظ نگاری – اپنی کتاب کی بے جا تعریف کروانا

تقریظ نگاری وہ فن ہے جس کے ذریعے کسی کتاب کا مصنف اپنی کتاب کی (بے جا ) تعریف و توصیف کسی نامور ادیب سے، اپنی دوستی، رشتہ داری، تعلق، واسطہ (یا پھر خدا کا واسطہ) دے کر، کرواتا ہے۔ اس تعریف و توصیف سے کتاب کی صحت پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے لیکن اس کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوجاتا ہے۔ تقریظ کی تعریف اردو لغت میں اس طرح کی گئی ہے : ”مصنف کے علاوہ کسی

Read more

بِلا عنوان

پچھلے سال جب میرا شناختی کارڈ بنا تو اماں کو پتا چلا کہ اس کا بیٹا (یعنی میں ) جوان ہو گیا ہے۔ محلے کے دوسرے لڑکے تو اتنے بدمعاش ہیں کہ سترہ سال کی عمر میں محلے دار ان کے والدین کو خبردار کرتے ہیں : ”اپنے لونڈے کو لگام دو جس کی منہ زور جوانی نے علاقے کی لڑکیوں، بیوہ اور مطلقہ عورتوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔“ خدا کا شکر ہے کہ اماں کے پاس میری کوئی شکایت نہیں پہنچی، محلے کی ساری عورتیں میری نیکی اور شرافت کی قسمیں کھاتی ہیں (اور لڑکیاں مجھے دیکھ کر نگاہ نیچے کیے سر جھکا کے جاتی ہیں ) ۔ میری سادگی (جیسے بعض لوگ بدھو پن بھی کہتے ہیں ) کا یہ عالم ہے کہ اگر میں مزید دو سال تک بھی شناختی کارڈ نہ بناتا تو اماں کو میرے جوان ہونے کا پتا نہ چلتا۔

Read more

معاف کرو بابا

سنا تو یہی ہے کہ موسم چار ہوتے ہیں یعنی سردی، گرمی، خزاں اور بہار لیکن اب پتہ چلا ہے کہ ان موسموں کے علاوہ بھی کئی اور موسم ہوتے ہیں جنھیں اردو میں ”سیزن“ کہا جاتا ہے۔ جیسے درزیوں کا سیزن، قصائیوں کا سیزن، پھل فروشوں کا سیزن وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ تمام سیزنز ہیں جن کی وجہ سے عوام کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے یعنی ان سیزنوں میں پیدا ہونے والی چیزیں یا خدمات نایاب

Read more

گیدڑ کا عشق

یہ کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی کہ ”گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے“ (بعض ماہرین حیوانات کا خیال ہے کہ اگر آہستہ آہستہ بھی جائے تو نتیجہ موت ہی کی صورت میں نکلتا ہے ) لیکن جس گیدڑ کی کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ شہر کی طرف نہیں بھاگا تھا بلکہ وہ جنگل ہی کی ایک شیرنی کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اب کیوں ہو گیا تھا

Read more