اسٹیبلشمنٹ کی عظمت کو سلام


سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے الزامات کی تحقیقات ہوتی ہیں یا نہیں، یہ الزامات درست تھے یا غلط، ان کے معافی مانگنے کے بعد اب تو سب کچھ ہی خارج ازبحث ہو گیا ہے ۔ وہ عقاب جو بڑی تیزی سے بلندیوں کی طرف محو پرواز ہوا تھا خود ہی زمین کی تھاہ پر آ کر بیٹھ گیا۔ تاہم اس پریس کانفرنس میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جیتی ہوئی نشستیں جس طرح بینڈ باجوں کے ساتھ زیر بحث آئی تھیں، اس میں دونوں جماعتوں کے لئے جو پیغام تھا وہ پہنچ گیا اتنے موثر انداز میں کہ وہ دونوں جماعتیں جو چند گھنٹوں پہلے تک حکومت سازی سے دامن بچا رہی تھیں بارہ بجے سے پہلے پہلے پریس کانفرنس میں حاضر جناب کے لئے ہاتھ بلند کر رہی تھیں۔

کمشنر کی پریس کانفرنس سے ایک دن پہلے منظرنامہ یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کہہ رہی تھی کہ ہم نے وفاقی حکومت کا حصہ نہیں بننا ہے نواز شریف فرما رہے تھے کہ ہم نے سخت معاشی فیصلوں کا کانٹوں بھرا ہار اپنی گردن میں نہیں ڈالنا اور حکومت نہیں بنانی ہے۔ یہ خیال ہے محال ہے اور جنون ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا اور دونوں جماعتیں اپنے اپنے فرمودات کے مطابق گھر کی راہ لیتیں تو پورا سسٹم ہی گر جانا اور کولیپس کر جانا تھا۔ کمشنر کی پریس کانفرنس دونوں جماعتوں کے لئے اشارہ تھی کہ الیکشن چیلنج ہو رہے ہیں، یہ چیلنج کی طوفانی کروٹوں کی پہلی کروٹ ہے، کل اور بھی لوگ چیلنج کرنے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا نون لیگ کو کرنا پڑتا ان کی گیارہ سیٹیں تھیں۔ اس پیغام کے بعد سب کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔ نواز شریف اور عزیزی بلاول کی طرف سے بیانات کی سختی ریشم ریشم ہو گئی۔ اگلے ہی دن سب نہ صرف یہ کہ انسان کے بچے بن گئے بلکہ فرماں بردار، اطاعت گزار۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے مانیں یا نہ مانیں کمشنر کی پریس کانفرنس کے بعد ضرور مان جاتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام۔

وفاق میں جو نیا دربار سجایا جا رہا ہے اس میں آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدے پر رونق افروز ہوں گے جب کہ برادر خورد شہباز شریف وزیراعظم کے عہدے پر جلوے بکھیریں گے۔ باقی عہدوں اور معاملات کے لیے بھی آرائشی لباس، وردیاں اور ان کے پہننے والے جسم تیار ہیں۔ اس اتحاد سے جس فرد مذکور کو باہر رکھا جا رہا ہے اس میں پہلا نمبر نواز شریف کا ہے۔ وہ چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لیے انگلستان سے تشریف لائے تھے۔ الیکشن مہم کے دوران بھی وزیراعظم کے عہدے کے لیے نون لیگ کی طرف سے صرف اور صرف ان کا نام سامنے آتا رہا تھا۔

2024 کے الیکشن کے نتائج میں بھی یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ پک اور چوز کی جو بھی صورت ہو نواز شریف وزیراعظم کے عہدے سے دور رہیں۔ الیکشن کے نتائج اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ وفاق میں ایک مضبوط حکومت نہ بن سکے جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہو۔ نواز شریف آزادانہ فیصلوں کے تحت حکومت سازی قبول کرتے ہیں وہ مخلوط اور کمزور حکومت سے گریز کرتے ہیں۔ اس الیکشن میں نہ صرف نواز شریف کو ہروایا گیا ان کی جیت کو مشکوک بنایا گیا بلکہ رانا ثنا االلہ، عابد شیر علی، جاوید لطیف سے لے کر خواجہ سعد رفیق تک ہر اس شخص کی ناکامی کو یقینی بنایا گیا جو نواز شریف سے قریب ہے۔

2018 کے الیکشن میں بھی یہی اہتمام کیا گیا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم نہ بن سکیں۔ نواز شریف اسٹبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر من و عن عمل نہیں کرتے۔ وہ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی سیاست سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دونوں الیکشنوں میں نون لیگ کو نواز شریف کے نام پر ووٹ پڑا لیکن پچھلے الیکشن میں بھی نواز شریف وزیراعظم کی دوڑ سے باہر تھے اور حا لیہ الیکشن میں بھی باہر ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام

اس باب میں کوئی دو رائے نہیں کہ حالیہ الیکشن میں عمران خان کو بھر پور عوامی تائید حاصل ہوئی ہے۔ عمران خان کی شکست اور ناکامی کی تمام پیشن گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ہر مرتبہ جب اپنی غلط عملیوں اور کرتوتوں سے وہ ناکامی کے گڑھے میں پڑے نظر آتے ہیں کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے کہ وہ پھر اہم اور فیصلہ کن شخصیت کے طور پر سامنے آ جاتے ہیں اور پچھلے اندازے غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔ اس مرتبہ الیکشن کے ہنگام عمران خان جیل میں تھے، انتخابی نشان تو کجا ان کی جماعت کا نام بھی موجود نہیں تھا، ان کے کارکنان اور رہنما زیر حراست تھے، پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد سیاست سے کنارہ کش ہو چکی تھی یا دوسری جماعتوں میں شامل ہو چکی تھی، جلسے تو درکنار انتخابی ریلیاں نکالنے اور کارنر میٹنگ کرنے کی ان کے ورکروں کو اجازت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود عمران خان کے امیدواروں نے کاسٹ کیے ووٹوں کا ایک تہائی حاصل کیا۔

ان کی نشستیں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود جس فرد مذکور کو حکومت سازی اور وزیراعظم کی دوڑ سے باہر رکھا گیا ہے عمران خان اس میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ عمران خان وہ تبدیلی ہیں جسے بڑے چاؤ اور شوق سے دو جماعتی انتظام کے خلاف تیار کیا گیا تھا لیکن اب یہ تبدیلی چو نکہ اسٹبلشمنٹ کے گلے پڑ چکی ہے، وہ مسلسل اسٹبلشمنٹ سے تصادم اور ٹکراؤ کی راہ پر ہیں اس لئے الیکشن میں بہترین کارکردگی اور سب سے بڑا ووٹ بلاک ہونے کے باوجود حکومت سازی سے کوسوں دور ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام۔

جے یو آئی قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر چار، بلوچستان اسمبلی میں 11 اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سات نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے باوجود مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کے بعد ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھیں گے۔ انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر مسترد کرتے ہوئے انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال بن رہا ہے۔ جے یو آئی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے اور جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔

’اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں تو پھر اس کا معنی ہے کہ فوج کا نو مئی کا بیانیہ دفن ہو چکا اور عوام نے ان کے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔“ مولانا فضل الرحمن الیکشن کے بعد زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہو کر عوامی جدوجہد کے ذریعے اسٹبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ما حول میں عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل اسمبلیوں کے انتخابات چاہتی ہے۔ مولانا اسٹبلشمنٹ سے تصادم کی جس راہ پر دوڑے جا رہے ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ قومی اسمبلی کی چار نشستوں کے باوجود ان کا انتخابی اتحاد میں کوئی حصہ نہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام۔ نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن تینوں اسٹبلشمنٹ کے لئے ”ٹربل میکر“ ہیں اور تینوں حکومت سے باہر ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام۔

نئی وفاقی حکومت کے انتظامات میں وہ لوگ شامل ہیں جو اسٹبلشمنٹ سے صلح جوئی کا رویہ رکھتے ہیں، جو اسٹبلشمنٹ سے تصادم سے گریز کو فلاح کی راہ تصور کرتے ہیں، جو اسٹبلشمنٹ کے کاموں میں روڑے نہیں اٹکاتے، مزاحمت نہیں کرتے، جو ایکسٹنشن دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ آصف علی زرداری جب پچھلی مرتبہ صدر تھے تو انھوں نے جنرل کیانی کو بلا کسی پس و پیش کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں ایکس ٹنشن دلوائی تھی۔ جنرل شجاع پاشا جو کہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے ان کے دور میں انھیں بھی دو مرتبہ ایکسٹنشن ملی۔

وہ اسٹبلشمنٹ سے ساتھ مل کر چلتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ گزشتہ سولہ مہینوں میں یہی رویہ شہباز شریف کا رہا۔ انھوں نے کسی ایک موقع پر بھی اسٹبلشمنٹ کے کسی ایک قدم کے خلاف نا گواری تو رہی ایک طرف پیشانی پر شکن بھی نمودار نہیں ہونے دی۔ ایم کیو ایم سمیت نئی وفاقی حکومت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اسٹبلشمنٹ کے باب میں صرف یس باس کا رویہ نہیں رکھتی بلکہ اسے اصول کے طور پر جسم و جان کا قلعہ تصور کرتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی عظمت کو سلام

Facebook Comments HS