بنگلہ دیش ترقی کی شاہراہ پر کیسے گامزن ہوا؟
بطور ملک بنگلہ دیش کی تاریخ بے شک مختصر ہے۔ مگر دلچسپ ہے۔ آزادی سے قبل ماضی کا مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش متحدہ پاکستان کا باسٹھ فیصد ریونیو اکٹھا کرتا تھا۔ اس ریونیو کا تھوڑا سا حصہ وہاں خرچ ہوتا تھا۔ جبکہ پچھتر فیصد آمدنی مغربی پاکستان پر خرچ ہوتی تھی۔ یعنی اڑتیس فیصد ریونیو جنریٹ کرنے کے باوجود مغربی پاکستان پچھتر فیصد لے جاتا تھا۔ اس سے مشرقی پاکستان میں شدید احساس محرومی نے جنم لیا۔
اس کے علاوہ بنگالیوں کو لگتا تھا کہ متحدہ پاکستان کی سب سے بڑی زبان چونکہ بنگالی ہے لہٰذا بنگالی زبان کی حیثیت نمایاں ہوگی۔ لیکن وہ محمد علی جناح صاحب کے منہ سے یہ سن کر ششدر رہ گئے کہ صرف اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔
مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان دوریاں اور تلخیاں پیدا کرنے میں دو عوامل نے بہت اہم رول ادا کیا۔ ایک یہ طے کرنا کہ قومی زبان اردو ہوگی دوسرا یہ کہ قومی آمدنی میں مغربی پاکستان کا اپنے استحقاق سے زیادہ حصہ لے جانا۔
اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ نے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں اور فوج میں بھی بنگالیوں کو نظر انداز کیا۔ جس سے ان میں مایوسی اور شدید نفرت پھیل گئی۔ اس کے علاوہ چھپن فیصد پاکستانیوں کی زبان بنگالی تھی۔ جبکہ ان کو کہا گیا کہ وہ صرف اور صرف اردو میں ہی بات کریں۔ جس سے بنگالی بھڑک اٹھے اور پھر انہوں نے تحریک شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ اکہتر کے سانحہ کی صورت میں نکلا۔
آج بنگلہ دیش ایک آزاد ملک ہے۔ جو قومی آمدنی وہ اکٹھی کرتا ہے۔ وہ اس کی اپنی ہے۔ اور اپنے پیسے اپنی ترقی میں لگا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بنگلہ دیش بھارت سے بھی معاشی ترقی میں آگے نکل گیا ہے۔ پاکستان کا تو اس کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں پچھلے پچھتر سال سے زائد عرصہ سے معیشت کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حالیہ وار آن ٹیرر نے ملک کا بچا کھچا کچومر بھی نکال کر رکھ دیا ہے۔
پرائی جنگوں میں الجھنے کی وجہ سے ہم کہیں کے نہ رہے۔ ہماری اکانومی شدید ترین مشکلات سے دوچار ہے۔ آبادی کی بے لگام بڑھوتری، انتھک دہشت گردی اور اسٹیک ہولڈرز کی ملکی معیشت کو بچانے کی بجائے اپنی معیشت بہتر بنانے میں زیادہ رغبت، وہ بنیادی مسائل ہیں جنہوں نے ہمیں ہر سو رسوا کیا۔
دوسری جانب ہمارے مقابلہ میں بنگلہ دیش آج اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے آگے کی جانب محو سفر ہے۔ بنگلہ دیش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں خطے کی مضبوط ترین اقتصادی طاقتوں میں سر فہرست ہو گا۔
اب ایسا بھی نہیں ہے کہ بنگلہ دیشیوں نے غریبی، لاچاری اور بے بسی نہیں دیکھی ہے۔ یاد رہے ماضی قریب میں وہ ایک پچھڑی ہوئی قوم تھی۔ آزادی کے بعد وہاں مارشل لاز لگے لیکن بنگلہ دیشیوں نے بہت جلد ملاؤں کی طرح ملٹری کو بھی لگام لگا دی۔ پینتیس سال ہونے کو ہیں، پھر وہاں کوئی فوجی بغاوت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ فوجی بیرکوں میں ہیں اور ملا مسجدوں میں۔ جب کہ سیاستدان پارلیمانی امور کی انجام دہی کے لیے پارلیمنٹ چلا رہے ہیں۔
آزادی کے بعد بنگلہ دیش کے لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن نے ملک میں غریبی، پس ماندگی اور بھوک مری دور کرنے کے لیے جو اقتصادی پلان بنایا تھا۔ وہ کوئی کرپشن کر کے جزیرے خریدنے اور یورپ میں جنت نما محلات بنانے کا پلان نہیں تھا، بلکہ وہ خلوص نیت پر مبنی عہد ساز پالیسیاں تھیں۔ اگرچہ شیخ مجیب الرحمٰن کو اپنی اقتصادی پالیسیاں نافذ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے لیے شیخ مجیب ایڈمنسٹریشن کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اور حالات اس قدر بگڑے کہ موصوف خاندان سمیت قتل ہو گئے۔ ان کی بیٹی اور موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد جرمنی میں زیر تعلیم ہونے کی وجہ سے بچ گئیں۔
ان حالات سے بھی بنگلہ دیش نے سیکھ لیا۔ اور آنے والے برسوں میں بنگلہ دیش اوپن مارکیٹ کی طرف چلا گیا۔ معیشت پر گورنمنٹ کا کنٹرول ختم کر دیا گیا۔ زرعی معاشرہ ہونے کی وجہ سے زراعت پر خاص توجہ ہوئی۔ معیشت کے ہر شعبہ میں ضروری اصلاحات کی گئیں۔ زمینداروں کو ٹیکسز سے چھوٹ فراہم کی گئی۔ حکومت نے درآمدات کے شعبہ میں ضروری اصلاحات کیں۔ زمینداروں کو سستی کھاد فراہم کی گئی۔ حکومت نے درآمدات کے لیے کامیاب خلوص نیت کا مظاہرہ کیا۔ اور بنگلہ دیش میں بہت سارے ٹیکس فری زونز بنائے گئے۔
بنگلہ دیش کی موجودہ اقتصادی ترقی میں ڈاکٹر محمد یونس بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے گرامین بینک قائم کیا۔ اس بینک نے غریبوں خصوصاً عورتوں کو چھوٹے قرضے فراہم کیے۔ سمال بزنس کی سپورٹ کے حوالے سے قیمتی مشورے فراہم کیے۔ عورتوں کی تعلیم ہنگامی بنیادوں پر شروع کی گئی۔ تعلیم بڑھنے سے غریبی گھٹی۔
اسی کی دہائی میں پچیس ہزار این جی اوز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہمارے یہاں این جی اوز کو مسلمانوں کے خلاف یہودی سازشوں کے پروگرام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ این جی اوز نے ملکی اور تعلیمی ترقی میں حصہ لے کر حکومت کا ہاتھ بٹھایا۔
آزادی کے بعد حکومت نے لاکھوں بنگالی ہنرمند افراد کو خلیجی ممالک میں بھیجا۔ دیگر ممالک کی نسبت بنگالی مزدور اور ٹیکنیکل ورکر بہت سستے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی بہت مانگ ہے۔ خصوصاً پاکستانیوں کی نسبت بہت کم اجرت میں کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک میں بہت سی نوکریوں پر قبضہ جما چکے ہیں۔ اور وہاں سے قیمتی زرمبادلہ بھیجا۔ جس نے ملک کی ترقی میں زبردست کردار ادا کیا۔
بنگلہ دیش نے ہانگ کانگ، سنگاپور اور جنوبی کوریا سے بہت کچھ سیکھا۔ خلیجی ممالک سے ڈالرز کی صورت میں زرمبادلہ بڑی تیزی سے ملک میں آیا۔ اس لیے بنگلہ دیشی حکومت نے گارمنٹ انڈسٹری پر توجہ دی۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کی گارمنٹ انڈسٹری نے سستی لیبر ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کا رخ کیا۔ بنگلہ دیش کے سستے خام مال، ارزاں لیبر اور ڈیوٹی فری زونز نے جلد ہی بنگلہ دیشی گارمنٹ انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا۔
بنگلہ دیش کے بیدار مغز پالیسی سازوں نے اس چیز کو بڑی تیزی سے سمجھ لیا کہ عورتیں معاشرے کی آدھی آبادی تشکیل دیتی ہیں۔ اس لئے ان کی طرف توجہ دینے کی خصوصی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری میں نوے فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔ مالی سال دو ہزار بیس اور اکیس کے دوران گارمنٹ انڈسٹری کی بدولت چونتیس ارب ڈالر بنگلہ دیش آیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ چین کے بعد بنگلہ دیش دنیا کی دوسری بڑی گارمنٹ انڈسٹری بن چکا ہے۔ اور بنگلہ دیش سرکار نے ڈھاکہ کو سڑکوں کے جال کے ذریعے سارے ملک سے منسلک کر دیا ہے۔ آج بنگلہ دیش گارمنٹ انڈسٹری میں ترقی کا یہ عالم ہے کہ اسی فیصد سے زائد زرمبادلہ اس سے شعبے کی وجہ سے ملک میں آ رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے ایک سرپرائزنگ اور خوش آیند بات یہ ہے کہ بہت جلد ہی دو ہزار چھبیس میں بنگلہ دیش گارمنٹ انڈسٹری کے شعبے میں ایک ترقی یافتہ ملک ہو گا۔ بنگلہ دیش سرکار اس وقت گارمنٹ انڈسٹری پر فوکس کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اقتصادی ترقی کے دیگر شعبہ جات کی جانب بھی سنجیدگی سے توجہ کرے۔ ایک ہی شعبہ پر منحصر ہونا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر اچانک کچھ حالات کی وجہ سے یہ انڈسٹری پچھڑ جاتی ہے یا بالکل ہی بیٹھ جاتی ہے تو بنگلہ دیش میں بہت بڑا اور تباہ کن اقتصادی بحران آ سکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ گارمنٹ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات کی جانب بھی توجہ کی جائے۔ تاکہ ایک شعبے پر منحصر ہونے سے بچا جا سکے بنگلہ دیش کو درپیش چیلنجز میں ایک بہت بڑا چیلنج دیہی آبادی کا شہروں کی جانب منتقلی ہے۔ شہروں پر اضافی آبادی کا بوجھ پڑنے کی وجہ سے انفراسٹرکچر پر بوجھ پڑتا ہے۔
حکومت کو شہروں میں نئی رہائش گاہیں اور سڑکیں تعمیر کرنا ہوں گی۔ یا پھر چائنا کی طرح چھوٹی صنعتیں دیہی علاقوں میں شفٹ کرنا ہوں گی۔ بنگلہ دیش کو ایک بہت بڑا خطرہ کسی بہت بڑے سیلاب سے بھی ہے۔
خلیج بنگال میں ماضی میں مون سون کی وجہ سے بہت بڑے سمندری طوفان اور سیلاب آئے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت کو ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی اور نمو بڑھتی رہے۔ اور بنگلہ دیش ایک مستحکم ایشین ٹائیگر بن سکے۔ انیس سو سینتالیس میں جب پاکستان بنا اس وقت ملک کی آبادی سات کروڑ تھی۔ جس میں مشرقی پاکستان یعنی مشرقی بازو کی آبادی تین کروڑ پچھتر لاکھ تھی۔ جبکہ مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ پچیس لاکھ تھی۔ یعنی اس وقت بنگالیوں کی آبادی پچاس لاکھ زیادہ تھی۔ آج ان کی آبادی سترہ کروڑ جبکہ ہماری آبادی چوبیس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ ان کی موجودہ آبادی ہم سے سات کروڑ کم ہے۔ وہ فیملی پلاننگ پر عمل کر کے اپنی بڑھتی آبادی کو نکیل ڈال چکے ہیں۔
آج ان کی شرح پیدائش ایک فیصد جبکہ ہماری دو فیصد ہے۔ یعنی ہم ان کی نسبت دگنے بچے پیدا کر رہے ہیں۔ پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ شرح پیدائش بہت خطرناک ہوتی ہے۔ بے تحاشا بڑھتی آبادی کو پاپولیشن بم بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ بڑھتی آبادی کے سامنے آپ کے دستیاب وسائل کم پڑ جاتے ہیں اگر آپ نے آبادی بڑھنے کی شرح سے اپنے وسائل نہیں بڑھائے۔ تو اس سے آپ کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
اس لیے ایک مثال کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کریں آئندہ تیس سالوں میں آپ کے ملک کی آبادی دگنی ہو جاتی ہے۔ اب ان تیس سالوں میں آپ کو اپنا ملکی انفراسٹرکچر بھی دگنا کرنا پڑے گا۔ تبھی ملکی اکانومی بڑھتی آبادی کا بوجھ سہ پائے گی۔ لیکن اگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ تو پھر آبادی منظم قوم کے بجائے ایک بے ہنگم ہجوم میں بدل جائے گی۔


