ہومسٹیڈ سے حسرت موہانی تک
ڈاکٹر ہومسٹیڈ، 1868 سے 1884 کے دوران حیدرآباد شہر کے مشہور سرجن ہوا کرتے تھے جنہوں نے اس خطے میں پھیلنے والی ہیضے کی موذی وبا میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔ چونکہ انگریز پڑھنے لکھنے والی قوم ہے سو ان کی یاد میں گوروں نے 1905 میں پڑھنے لکھنے سے شغف رکھنے والی ہندوستانی عوام کے لیے یہ عمارت تعمیر کروائی جسے ”ہومسٹیڈ فری ریڈرز ہال“ کہا جاتا تھا۔
پھر دو تاجر بھائیوں وسیامل اور ہیرا نند نے یہاں ایک پڑھنے کا کمرہ اپنے لیے بنوایا تھا جن کا نام اب بھی ایک تختی پر درج ہے۔ اب اس کا نام حسرت موہانی ضلعی مرکزی لائبریری ہے جسے شہر کی سب سے بڑی اور پرانی ریفرنس لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ حیدرآباد کے علاقے پکا قلعہ کے نزدیک، مکھی ہاؤس کے سامنے واقع ہے۔
ایک سو اٹھارہ سال پرانی یہ عمارت وکٹورین طرز تعمیر کی حامل ہے جس میں مطالعے کے لیے ایک بڑا ہال اور نصف درجن سے زائد کمرے موجود ہیں۔ اس جگہ مرکزی عمارت کے علاوہ ایک مسجد، سرسبز لان اور فوارے، پارکنگ کی جگہ اور کچھ یادگاریں بھی موجود ہیں۔ تقسیم سے پہلے 1942 میں یہ عمارت کانگریس کے اجلاس کی میزبانی بھی کر چکی ہے جس کی صدارت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے کی تھی۔
یہ کتب خانہ مرکزی جگہ پر ہونے کی وجہ سے کئی سرکاری محکموں کے زیر عتاب رہا ہے جبکہ تقسیم کے بعد ریڈیو پاکستان کا علاقائی ہیڈ آفس بھی اسی لائبریری میں قائم کیا گیا تھا جو 1967 تک کام کرتا رہا۔ 1967 میں ہی اس عمارت کا نام کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک ”سید فضل الحسن حسرت موہانی“ کے نام پر رکھا گیا جو نہ صرف ایک مشہور شاعر تھے بلکہ ہندوستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ مولانا حسرت، سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے جنہوں نے آخری وقت تک کسی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ پر افسوس، ان کے جانے کے بعد ولایتی نام کو ان کے نام سے بدل کر ان کی اس تحریک کو کھنڈت کر دیا گیا۔
اگلی چار دہائیوں تک یہاں کئی محکموں کے دفاتر موجود رہے جنہوں نے لائبریری کو محض ایک کمرے تک محدود کر دیا۔ لائبریری کی حالت زار نے بالآخر سابقہ ضلعی حکومت کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور اس وقت کے ضلع ناظم کنور نوید جمیل نے 2008۔ 9 میں اس کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز فراہم کیے۔
جب پنجاب کا رہنے والا یہ شخص اپنے ایک بلوچی دوست کے ساتھ سندھ کی اس لائبریری کو دیکھنے پہنچا تو یہاں کا ماحول دیکھ کے ایک خوشگوار احساس ہوا۔ نئی رنگ شدہ اور محرابی کھڑکیوں سے سجی صاف ستھری عمارت، خوبصورت ہال، خاموشی کا راج، طالب علموں سے بھرے کمرے جنہیں دیکھ کے نہایت فخر کا احساس جاگا اور کئی کتابیں۔
عمارت کے بیرونی حصے پر تین تختیاں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں سے سب سے پرانی تختی پر انگریزی، سندھی اور غالباً گجراتی میں یہ الفاظ تحریر ہیں ؛
BHAI WASSIAMAL & HIRANAND FREE READING ROOM
HYDERABAD SINDH
جبکہ دیگر تختیوں پر عمارت کی تاریخ اور مرمت کی تاریخ درج ہے۔
یہاں کے مرکزی ہال میں دو قیمتی تصاویر بھی آویزاں ہیں، ایک حیدرآباد قلعے کی جبکہ دوسری 1928 کے حیدر آباد شہر کی جس میں گھروں پہ باد گیر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے اس ہال میں مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے۔
یہاں میں نے سی۔ ایس۔ ایس اور میڈیکل کے گوشوں میں جا کے کچھ طلبا سے باتیں کیں اور میڈیکل کے امتحانات دینے والوں کو کچھ ٹپس بھی دیں۔ بتاتا چلوں کہ لائبریری کے ذخیرے میں لگ بھگ چالیس ہزار کتب ہیں جن میں دو ہزار سے بھی زائد سندھی کتب شامل ہیں جبکہ اور کتب کی گنجائش ابھی باقی ہے۔
ایک بات ابھی تک سمجھ سے بالاتر ہے کے ہومسٹیڈ ہال کے نام کو حسرت موہانی سے بدلنے کی نوبت کیونکر آئی؟ ٹھیک ہے اس ملک میں بہت سی عمارتوں کے نام بدلے گئے لیکن حسرت موہانی کا اس عمارت سے ایسا کیا تعلق تھا کہ انہی کے نام سے اس لائبریری کا نام رکھا گیا۔ حیدرآباد اور سندھ کی کسی مشہور ادبی شخصیت یا سماجی رہنما کا نام بھی تو رکھا جا سکتا تھا۔ یہاں لگی کسی بھی تختی سے مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملا، البتہ اگر قارئین اس بارے میں جانتے ہیں تو میری معلومات میں اضافہ ضرور فرمائیں۔




