ڈاکٹر وادھو کی شوگر کا علاج کیوں نہ ہو سکا؟
ڈاکٹر وادھو کو جب اپنے علم و حکمت کی دھاک بٹھانا ہوتی تو پھر وہ مریض کو ٹونٹیاں لگا کر چیک کرتا۔ یہ بلڈ پریشر معلوم کرنے کا آلہ تھا جو عرصہ دراز سے ڈاکٹر کا ساتھی تھا۔ ویسے تو ان کا تجربہ ہی اس قدر تھا کہ وہ مریض کی نبض سے ہی اس کی بیماری کی درست تشخیص کر لیتے۔ لیکن پھر بھی وہ کبھی کبھار بلڈ پریشر معلوم کرنے کا آلہ اور تھرمامیٹر کا بھی استعمال کر لیا کرتے تھے۔ ایک بار ہمارے گھر میں میرا کزن مہمان آیا ہوا تھا۔
اسے دو تین دن سے بخار آ رہا تھا۔ ہم نے علاج کی خاطر ڈاکٹر وادھو کو بلا بھیجا۔ ڈاکٹر صاحب میں یہ خوبی بد درجہ اتم موجود تھی کہ جب بھی ان کو بلایا جاتا۔ بغیر کسی عذر کے بلا توقف تشریف لاتے۔ ہمارا گھرانا گاؤں کے باقی لوگوں کی نسبت پڑھا لکھا گھرانا سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب اپنے مکمل طبی آلات، تھرمامیٹر، سٹیتھوسکوپ اور بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے والے آلے سے پوری طرح مسلح ہو کر تشریف لائے۔ ڈاکٹر صاحب نے تو مریض سے بیماری کے سیاق و سباق سے متعلق پوچھ گچھ شروع کر دی اور میں نے ڈاکٹر صاحب کی سٹیتھوسکوپ لے کر ٹونٹیاں کانوں میں لگا کر اس کی مدد سے دل کی دھڑکن جیسی خفیف آوازوں کو سننے کی کوشش کی۔
لیکن یہاں پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ غالباً مدتوں پہلے اپنی طبعی عمر پوری کر چکا تھا۔ اب تو صرف دکھانے کے کام آتا تھا۔ ڈاکٹر کی ناراضگی کے خوف سے میں نے اس پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کا کام مکمل کر کے مریض کے لیے دوائیاں تجویز کر رہا تھا۔ میں نے بس روا روی میں ہی پوچھ لیا کہ اس کا ٹمپریچر کیا ہے۔ ڈاکٹر نے غور سے میری طرف دیکھا۔ پھر تھرمامیٹر پر نظر ڈالی۔
پھر میری طرف دیکھا اور فرمانے لگے۔ اسے نلکے کے تازہ پانی سے صابن کے ساتھ مل مل کر دھو کر لاؤ۔ کہیں کسی دوسرے مریض کے جراثیم موجود نہ ہوں۔ حسب ہدایت میں نے تھرمامیٹر صاف کر کے ڈاکٹر صاحب کے حوالے کر دیا۔ اب منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تھرمامیٹر کو پارے والے بلب سے پکڑا ہوا ہے اور آنکھوں کے سامنے کر کے اسے گھما گھما کر بغور دیکھ رہے ہیں۔ وہ جس سپیڈ سے اسے گھما رہے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ اس کی مدد سے درجہ حرارت دیکھنے کی صلاحیت سے قطعی بے بہرہ ہیں۔
کچھ دیر کے بعد انہوں نے یہ تھرمامیٹر مریض کے منہ میں ٹھونس دیا۔ تقریباً پانچ منٹ کے بعد اسے باہر نکال کر ایک بار پھر درجہ حرارت دیکھنے کی ناکام کوشش شروع کر دی۔ کچھ دیر کی تانکا جھانکی (اپنی) اور ہیرا پھیری (تھرمامیٹر کی) کے بعد اعلان کیا گیا کہ مریض کا درجہ حرارت تراسی ہے۔ اللہ اکبر۔ مجھے تو صورت حال کا اندازہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ لیکن مہر تصدیق ڈاکٹر نے بقلم خود ثبت کر دی۔ اب میں نے ڈاکٹر صاحب سے اپنا ٹمپریچر چیک کرنے کی درخواست کی۔
حسب سابق تھرمامیٹر کو دھو کر میرا درجہ حرارت چیک کیا گیا۔ تو وہ 116 نکلا۔ اب میں نے استفسار کیا کہ دو آدمیوں کے درجہ حرارت میں اس قدر فرق کیوں ہے۔ تو فوراً وضاحت دی گئی کہ درجہ حرارت کا انسانی طبیعت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ آپ گرم طبیعت ہیں اس لیے آپ کا درجہ حرارت بھی زیادہ ہے اور مہمان ٹھنڈی طبیعت کے مالک ہونے کی بناء پر کم درجہ حرارت کے حامل ہیں حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی دی ہوئی گولیاں کھانے کے دو گھنٹے بعد مریض بھلا چنگا تندرست ہو چکا تھا۔
بہرحال ڈاکٹر کے علم کے بارے میں کچھ بھی کہہ لیں لیکن اس کی دوا سے اکثر مریض بہرحال شفا یاب ہو جایا کرتے تھے۔ ہمارے پڑوس میں ایک خاتون تھی۔ زچگی کے مسائل یا شاید اسقاط حمل کی وجہ سے اس کا بہت سا خون ضائع ہو چکا تھا۔ کمزوری اس قدر تھی کہ وقفوں وقفوں سے اس پر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو بلوایا گیا۔ مریضہ کا معائنہ کیا اور فرمایا کہ بس گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے عین وقت پر مجھے بلوا لیا ہے۔
اگر تھوڑا لیٹ ہو جاتے تو مسئلہ بن سکتا تھا۔ آپ لوگ بالکل فکر نہیں کریں۔ ابھی میں اسے کورامین کا ٹیکہ پلاؤں گا اور مریضہ بھلی چنگی ہو جائے گی اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کورامین کا ٹیکہ لگانے کی بجائے مریض کے منہ میں انڈیل کر اسے پلا دیا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اس کی حالت کافی بہتر تھی۔ دو تین دن مسلسل یہی عمل دہرایا گیا۔ جب مریضہ پر غشی کی کیفیت طاری ہوتی کورامین پلا دیا جاتا۔ چوتھے روز مریضہ بڑی حد تک سنبھل چکی تھی۔
ایسی صورتحال میں معالجوں کے ہاتھ پاؤں بلکہ اکثر تو حواس بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر میں کمال کا اعتماد تھا۔ مجال ہے کہ اس کے چہرے پر کبھی گھبراہٹ طاری ہوتی ہو۔ آخر دم تک اپنے معدوم طبی علم، مختصر سی ادویات اور وسیع تجربے کے بل بوتے پر بیماری سے جنگ لڑتے اور ہار جیت کا فیصلہ قسمت پر چھوڑ دیتے۔ ہم سب لوگ ایک ایک کر کے شہر میں منتقل ہوتے گئے اور گاؤں کے ساتھ ہمارا رابطہ کم سے کم ہوتا گیا۔ پچھلے دنوں تقریباً پچیس تیس سال بعد ایک جنازے پر ڈاکٹر وادھو کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔
ڈاکٹر ارشد بھی میرے ساتھ تھا اور تھوڑی دور ایک گروپ میں کھڑا دوسرے لوگوں کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ ڈاکٹر وادھو میرے ساتھ بات چیت میں مصروف تھا۔ ڈاکٹر ارشد پر نظر پڑی تو بولا۔ بھائی ارشد کچھ کمزور سا نظر آ رہا ہے اس کو کہیں شوگر تو نہیں ہے۔ میں نے بے توجہی سے نظر انداز کر دیا لیکن وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ اگر بھائی کو شوگر ہے تو میرے پاس شوگر کی اچھی دوائی ہے۔ صرف تین خوراکوں کے بعد شوگر جڑ سے ختم ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد وہاں کچھ اور لوگ آ گئے اور ہم باتوں میں مشغول ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے ہی ایک ساتھی نے ڈاکٹر وادھو سے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب آپ تو بہت زیادہ کمزور ہو گئے ہیں۔ کیا بات ہے۔ نہایت سادگی سے بولا۔ بھائی مجھے شوگر ہو گئی ہے بہت ظالم بیماری ہے۔ اندر اندر سے ہر چیز کو کھا جاتی ہے۔ اب میرا دل چاہ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے کہوں کہ تمہارے پاس تو اس کی دوائی بھی موجود ہے۔ تین خوراکیں خود خود بھی کھا لیں لیکن احتراما خاموش ہی رہا۔


