کیا آپ ان فراڈیوں کو جانتے ہیں؟
ہم میں سے زیادہ تر لوگ تقریباً ہر روز اپنے موبائل فون کی سکرین یعنی یوٹیوب، ٹک ٹاک یا کوئی بھی دوسرے ان لائن پلیٹ فارم چلاتے ہوئے ہمیں ایک عجیب و غریب چیز سے واسطہ پڑتا ہے جیسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور زیادہ تر تو اس کا شکار بن جاتے ہیں، یعنی ایسی ویڈیو نظر اتی ہیں۔ جن کے تھمب نیل پر بہت حیرت انگیز اور جادوئی قسم کے الفاظ تحریر ہوتے ہیں مثال کے طور پر یوٹیوب پر اکثر ایسی ویڈیو نظر اتی ہیں جن کے تھمب نیل پر لکھا ہوتا ہے کہ کامیاب لوگ صبح جلدی کیوں اٹھتے ہیں، ایسی کون سی پانچ باتیں ہیں جو اپ کی زندگی بدل دیں گی، امیر ہونے کے دس طریقے، حکیم لقمان کی مریضوں کے لیے دس نصیحتیں۔
اور دوسری طرف حالات حاضرہ کے عنوان پر بھی ایسے تھمب نیل نظروں سے گزرتے ہیں مثلاً کس بڑی شخصیت کی فلاں شخصیت سے ملاقات، آج شام تک کیا ہونے والا ہے۔ سیلف ہیلپ اور موٹیویشنل سپیکر بھی اس میدان میں کھل کر کھیلتے ہیں اور عوام کو ٹھیک ٹھاک بے وقوف بناتے ہیں۔ کوئی یہاں بزنس گرو ہے اور کوئی لائف کوچ۔ اور حد تو یہ ہے کہ ہمارے علماء کرام بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہے یہ الگ بات کہ کسی زمانے میں ہمارے علماء کرام تصویر بنوانے کو بھی حرام سمجھتے تھے لیکن آج تقریباً ہر چھوٹے بڑے علماء کرام یوٹیوب پر موجود ہے جیسے سیلف ہیلپ کے نام پر موٹیویشنل سپیکرز نے لوگوں کو اس دنیا میں کامیاب کروانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے بالکل اسی طرح ہمارے علماء کرام لوگوں کی آخرت کے بارے میں بہت فکر مند ہے اور اپنے یوٹیوب چینل پر دھڑا دھڑ ایسی ویڈیو بناتے ہیں۔
جن میں بتایا گیا ہوتا ہے کہ فلاں وظیفہ پڑھنے سے جنت پکی، ایسی کون سی غلطی ہے جو ہم غسل کرتے وقت کرتے ہیں جس سے غسل نہیں ہوتا۔ صاف ظاہر ہے اگر اتنے بڑے مسئلے جو یوٹیوب پر ڈسکس ہو رہے ہیں تو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یعنی ”مردانہ کمزوری“ اس کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ ایسے درد مند لوگ بھی یوٹیوب پر موجود ہیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے کی در پر ہیں اور اپنے اپنے ٹوٹکے اور مشورے عوام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اتنے سارے درد مند لوگ ہمارے مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں لیکن ہمارے مسائل تو جو کہ تو ہیں سچ بات تو یہ ہے کہ یہ سب فراڈیے اور ڈھونگ باز ہے۔ جنہوں نے اپنی اپنی دکانیں اور فرنچائز کھول رکھی ہے جہاں سے لوگ دھڑا دھڑ جہالت خرید رہے ہیں اور ان کی دکانیں ٹھیک ٹھاک چل رہی ہیں۔ دیکھا جائے تو ان سب لوگوں سے پہلے بھی لوگ ٹھیک ٹھاک اچھی، خوبصورت اور کامیاب زندگی گزار رہے تھے اب ایسا کیا ہے کہ لوگوں کو ان باتوں کا نہیں پتہ جو یہ جانتے ہیں۔
اگر دوسرا رخ دیکھا جائے تو ہماری عوام بھی شاید اتنی پڑھی لکھی نہیں اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر کام کا کوئی جادوئی حل مل جائے۔ ایک وظیفہ پڑھنے سے ہمیں جنت مل جائے اور ساتھ ہی رزق کے انبار لگ جائیں بجائے محنت کرنے کے ہم صبح چار بجے اٹھیں اور کامیاب ہو جائیں یہ الگ بات کہ یہاں سے ہزاروں میل دور کسی یورپی ملک میں اگر کوئی کامیاب شخص صبح چار بجے اٹھ رہا ہے تو اس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے یہاں تو ایسے لوگ بھی ہیں جو بیچارے ساری ساری رات جاگنے کے باوجود کبھی امیر اور کامیاب نہیں ہوئے۔
جب تک جھوٹ بکتا رہے گا تب تک یہ لوگ جھوٹ بولتے چلے جائیں گے۔ اور ہمیں جھوٹ سننے کی عادت چھوڑنی ہوگی اور حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا پھر جا کے ہی ان جیسے شعبدہ بازوں اور فراڈیوں کی دکانیں شاید بند ہو۔ اور ویسے بھی ایک لطیفہ بہت مشہور ہے کہ موٹیویشنل سپیکر لوگوں سے لاکھوں روپے لے کر بتاتا ہے کہ پیسوں کی کوئی اہمیت نہیں زندگی میں۔ یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب کو ان نام نہاد موٹیویشنل سپیکرز، اور ایسے لوگوں سے جو علماء کے روپ میں اپنی دکانداری چلا رہے ہیں ان سے بچ کر چلنا ہو گا اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت کی واضح کرنی ہوگی اور بجائے کسی طلسماتی اور جادوئی دنیا کے ہمیں حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئی ہی زندگی بسر کرنی ہوگی۔
اوپر بتائے گئے کردار سوائے ذہنی پریشانی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اخر میں گزارش ہے کہ اپ یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر موٹیویشنل سپیکرز، سیلف ہیلپ، گروز اور لائف کوچ کو سننے کی بجائے کوئی اچھی ڈاکومنٹری اچھی فلم یا کوئی اچھی موسیقی سنیے جس سے اپ کے جسم و روح کو تازگی اور سکون ملے گا اور اپ بہت سی پریشانیوں سے بھی بچ جائیں گے لہذا ائندہ کسی بھی شخص کی ویڈیو دیکھنے سے پہلے یہ کنفرم کر لیں کہ آیا یہ شعبدہ باز تو نہیں کیونکہ ہم اپنے دماغ میں جو چیزیں ڈالتے ہیں یا سنتے ہیں ہمارا رویہ بھی بالکل ویسے ہو جاتا ہے۔ بہت سادہ سی بات ہے جیسی ان پٹ ویسا اؤٹ پٹ۔ خود کو، اپنے بڑے بزرگوں کو اور بچوں کو ان فراڈیوں کی پہچان سے دور رکھیں اور حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی بسر کیجیے۔


