سائنس کیا ہے؟ سائنسی سوچ کیا ہے؟

سائنس چونکہ ہماری ثقافتی روایات کا حصہ نہیں رہی، اس لیے اس کے بارے میں عام تصورات بہت مبہم، اور بعض اوقات، انتہائی غلط انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض حلقوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ
1۔ سائنس مذہب کی شدید مخالف ہے اور سائنسی سوچ الحاد کی طرف لے جاتی ہے۔
2۔ سائنسی حقائق بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کبھی نیوٹن کے بنائے ہوئے قوانین درست تھے اور آج آئن سٹائن کے بنائے ہوئے قوانین۔ اور شاید کل کچھ اور۔
3۔ سائنسی علم تو انسان کا بنایا ہوا ہے، اصل علم تو وہ ہے جو خدا نے اپنے خاص بندوں کے ہاتھ ہم تک پہنچایا۔
4۔ سائنس صوفیاء اور اولیا ءسے وابستہ معجزات کی توجیہہ دینے میں ناکام ہے، اور اس طور ناقابل اعتماد ہے۔
5۔ سارا سائنسی علم تو الہامی کتابوں میں موجود ہے جو ہزاروں سال پہلے لکھی گئیں۔ اس طور جدید سائنسی تحقیق تو وقت کا ضیاع ہے۔ ہماری کوششوں کا مرکز تو قرآن کو بہتر طور پر سمجھنا ہونا چاہیے۔
6۔ کائنات کے اصل قوانین تو خدا نے بنائے۔ سائنسدانوں کے بنائے ہوئے قوانین تو انسانی کوشش ہے جو خدائی قوانین کی جگہ کیسے لے سکتے ہیں؟
7۔ جو کچھ سائنس آج دریافت کر رہی ہے، وہ تو قرآن نے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔
یہ اور اس طرح کے مزید تصورات سائنس اور سائنسی سوچ سے ہماری بیگانگی کی علامت ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہی کے راستے پر دھکیل دیا ہے۔ آج اگر مسلمان دنیا میں جہالت، رجعت پسندی اور بے توقیری کی علامت ہیں تو اس کی بنیاد انہی مفروضوں پر ہے۔ اپنے معاشرے کو اس گمراہی سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے وقت کا تقاضا ہے کہ سائنس کی نوعیت اور اس کی اہمیت کا ادراک کیا جائے۔
اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ سائنس کیا ہے اور سائنسی سوچ کیا ہے؟
سب سے پہلے ایک بہت مختصر تاریخی پس منظر۔
ہزاروں سالوں سے یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ اس پھیلی ہوئی کائنات کا محور ہم ہیں اور سارے افلاکی اجسام، سورج، چاند، سیارے، اور ستارے ہمارے مسکن، زمین، کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ سوچ ہمارے اندر سرایت کر چکی ہے اور کسی الہامی کتاب تک نے بھی اس کو چیلنج نہیں کیا۔ یہ قدیم نظریہ، کائنات میں انسان کی اعلیٰ ترین حیثیت کی تصدیق کرتا تھا۔ اس مرکزی حیثیت کو عیسائی چرچ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب نے بھی ایک بنیادی عقیدہ کے طور پر اپنایا۔ یہ تصور انسانی سوچ کا محور بن گیا کہ انسان ہی وہ اعلیٰ ہستی ہے جس کے لیے پوری کائنات تخلیق کی گئی ہے۔ اس تصور کی بنیاد یہ مغرور سوچ رہی ہے کہ اس کائنات کا مرکز انسان ہے جو اربوں قسم کی مخلوقات میں اشرف المخلوقات ہے۔
اس سوچ کو ایک شدید دھچکا تب لگا جب 1543 عیسوی میں نکولس کوپرنیکس نے سیاروں کی حرکت کا ایک ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا جس کے مطابق سورج مرکز میں ہے اور زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ کوپرنیکس کے ماڈل نے اس مرکزیت کو چھین لیا اور زمین کو کسی دوسرے سیارے جیسا بنا دیا۔
کوپرنیکس کے ہیلیو سینٹرک ماڈل کو عوامی سطح پر مزاحمت کا سامنا کر نا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب کشش ثقل کا قانون وضع نہیں ہوا تھا، اور یہ سمجھنا مشکل لگتا تھا کہ انسان اور دیگر تمام اشیاء حرکت پذیر زمین پر کس طرح اپنا استحکام برقرار رکھ سکتی ہیں۔ اگر زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ان چیزوں کو تو زمین سے گر جانا چاہیے کیونکہ زمین کے پاس ان اشیا کو رکھنے کے لئے کوئی کشش موجود نہیں ہے۔ ہیلیو سینٹرک ماڈل کی مخالفت اتنی زیادہ تھی کہ کوپرنیکس چرچ کی طرف سے انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنی کتاب کو بہت عرصے تک شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکے۔ ایک روایت کے مطابق، ان کو اپنی کتاب کی شائع شدہ کاپی اپنی زندگی کے آخری دن موصول ہوئی، اس طرح وہ یہ جانے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے کہ ان کے کام نے بعد کی تاریخ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے۔ کوپرنیکس کو موجودہ سائنسی دور کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اس سائنسی سفر کی اہم ترین شخصیت برطانوی سائنسدان آئزک نیوٹن تھے جنہوں نے حرکت کے وہ قوانین دریافت کیے جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ اس مضمون کے موضوع کی مناسبت سے یہ سمجھنے میں کہ سائنس کیا ہے اور سائنسی سوچ کیا ہے، نیوٹن کی دریافتوں اور ان کے انسانی سوچ پر اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔
سائنس کی جدید بنیادوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو ہزار سال سے زیادہ پہلے عظیم یونانی ریاضی دان اقلیدس کی طرف جانا ہو گا۔ اقلیدس نے جیومیٹری کی بنیاد ڈالی اور ایک کتاب لکھی جس کا نام Elements تھا۔ یہ کتاب اب تک لکھی گئی سب سے زیادہ با اثر کتابوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ سائنسی قوانین کی بنیاد کا معیار طے کرتی ہے۔
لیکن کس طرح؟
اقلیدس نے ان تمام جیومٹری کے نظریات کو اکٹھا کیا جو ان سے پہلے کی صدیوں کے دوران دریافت ہوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ جیومٹری کی ہر تھیورم ایک دوسرے سے آزاد تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ چند ایسے اصول دریافت کیے جائیں جن کی بنیاد پر یہ تمام تھیورمز ایک مربوط انداز میں ثابت کی جا سکیں۔ یہ اصول ایسے ہونے چاہئیں جن سے نہ صرف وہ تمام تھیورمز ثابت کی جا سکیں جو صدیوں سے جانی جاتی تھیں بلکہ ان کی بنیاد پر نئی تھیورمز کو دریافت کرنا ممکن ہو۔ پھر انھوں نے وہ پانچ اصول دریافت کیے جن کی بنیاد پر جیومٹری کے تمام نظریات اخذ کیے جا سکتے تھے۔
اقلیدس کے اس تصور نے، کہ جیومٹری کے مختلف نظریات، ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں، بلکہ جیومٹری کی عمارت صرف پانچ سادہ سے اصولوں پر قائم ہے، اس جدید سائنسی انقلاب کی بنیاد فراہم کی جو نیوٹن نے اقلیدس کے تقریباً دو ہزار سال بعد شروع کیا تھا۔
اس پیش منظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سائنسی نقطہ نظر کا بنیادی مقصد ایسے قوانین کو وضع کرنا اور دریافت کرنا ہے جن کی ایک آفاقی حیثیت ہو۔ ایک یا چند واقعات کی وضاحت کرنے کی بجائے، ایک سائنسی قانون کو قدرت کے سارے مظاہر کی پیشین گوئی اور وضاحت کرنے کے قابل ہونا چاہیے، چاہے وہ کہاں اور کب رونما ہوں۔
اس کی بہترین مثال نیوٹن کا قانون ثقل ہے۔ یہ قانون، اقلیدس کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے، چھوٹی اور بڑی تمام اشیا کے لیے درست ہے۔ مثال کے طور پر، یہی قانون ایک طرف یہ بتا سکتا ہے کہ درخت پر سیب زمین پر کیوں گرتا ہے اور دوسری طرف یہ بتاتا ہے کہ چاند ہمارے سیارے زمین کے گرد کیوں گھومتا ہے۔ نیوٹن نے حرکت کے قوانین بھی بنائے۔ ایک بار پھر، یہ قوانین تمام اشیا کی حرکت کی وضاحت کرتے ہیں۔
اگر ہم ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں تو یہ بات کتنی حیران کن ہے کہ کائنات کے تمام مظاہر کو چند قوانین میں سمیٹنا ممکن ہے۔ یہ خیال کس قدر عجیب ہے کہ یہ طویل و عریض کائنات جو بہت ناقابل فہم نظر آتی ہے اور جس میں ہر لمحہ لا محدود واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں، قدرت کے چند قوانین کے تحت چل رہی ہے۔
اس اہم مثال سے کئی باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔
ایک سائنسی سوچ کی بنیاد یہ ہے کہ اصولی طور پر کائنات کے تمام مظاہر کو چند قوانین کی بنیاد پر سمجھنا ممکن ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں کچھ مظاہر ایسے محسوس ہوں جن کی وضاحت ان سائنسی قوانین کے ذریعے نہ کی جا سکے جن کا ہم کو اس وقت علم ہے۔ لیکن ایک سائنسی سوچ کا تقاضا ہے کہ ہم کو یہ اعتماد ہو کہ تمام مظاہر کی بالآخر قوانین فطرت کے اندر وضاحت ممکن ہے۔
جیسا کہ میں نے پچھلے مضامین میں بیان کیا کہ انیسویں صدی کے اختتام پر کچھ مشاہدات ایسے تھے جن کی توجیہہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے ذریعے نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن سائنسدانوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ یہ مشاہدات کسی بھی اعتبار سے معجزاتی ہیں۔ ان کو یقین تھا کہ قوانین فطرت کی بہتر سمجھ یہ ممکن بنا دے گی کہ ان مشاہدات کو قوانین فطرت میں سمجھا جا سکے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ نئے کوانٹم میکینکس کے قوانین دریافت ہوئے جنہوں نے نیوٹن سے وابستہ قوانین کی جگہ لی۔
ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی نئی دریافت ایسی ہوتی ہیں جن کی تشریح موجودہ قوانین میں نہیں ملتی تو پھر تحقیق کا کام نئے قوانین کو جنم دیتا ہے۔ یہ نئے قوانین تمام مشاہدات کی نئے سرے سے کامیابی سے تشریح کرتے ہیں۔
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سائنسدان قوانین فطرت بناتا نہیں ہے بلکہ صرف دریافت کرتا ہے۔ یہ سوال کہ یہ قوانین فطرت کس نے تشکیل دیے، سائنسدان کے دائرے سے باہر ہے۔ سائنس ان سوالوں کے جوابات نہیں دیتی جو فلسفے اور دینیات (الہیات) کے زمرے میں آتے ہیں۔ مثلاً ایک سائنسدان یہ تو بتا سکتا ہے کہ جب کسی شے پر قوت لگائی جائے تو وہ حرکت کرتی ہے مگر یہ بتانا اس کے دائرہ کار سے باہر ہے کہ یہ قانون کس نے بنایا؟ اور اس کا مقصد کیا ہے؟ یہ کام ’مابعدالطبیعات‘ کا ہے جو فلسفے کی اہم شاخ کے طور پر الگ سے سامنے آ رہی ہے۔
ایک سائنسی قانون کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کائنات میں بکھرے ہوئے انواع و اقسام کے مظاہر کو ایک سادہ سے فریم ورک میں پیش کر سکے۔ سائنس وسیع تر معنوں میں یہ کھوج لگانے کی کوشش کرتی ہے کہ کائنات کیسے کام کر رہی ہے۔ سائنسدان تحقیق کے بعد وہ قوانین وضع کرتے ہیں جو نہ صرف سامنے نظر آنے والے موجود عناصر کے آپس میں رشتے کا تعین کرتے ہیں، بلکہ مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی بھی کرتے ہیں۔ ایک سائنسی قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد پر یہ پیشن گوئی کرنا ممکن ہوتا ہے کہ مختلف اشیا پر کسی قسم کی طاقت استعمال کی جائے تو نتیجہ کیا ہو گا۔
اس کی سب سے عمدہ مثال، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، ”قانون کشش ثقل“ ہے، جو نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ زمین کتنی قوت سے کسی شے کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے بلکہ یہ بھی بتا سکتا ہے کہ جب کوئی شے ایک خاص قوت سے کسی سمت پھینکی جائے تو کس قسم کی قوس (خط پرواز) بنے گی۔ حتٰی کہ وہ یہ پیشن گوئی بھی خاصی درستگی کے ساتھ کر دے گا کہ ہمارے نظام شمسی میں سیارے سورج کے گرد کس انداز میں گھوم رہے ہیں۔
آفاقیت اور پیشن گوئی کی صلاحیت کے علاوہ ایک اور معیار بھی ہے جو سائنس کی اساس ہے۔ ہر سائنسی نظریہ میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ اس کی ہر پیش گوئی کو ہر کوئی کسی وقت بھی کسی جگہ پر جانچ سکے۔ اگر کوئی سائنس دان اپنی لیبارٹری میں تجربہ کرتے ہوئے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے تو اس کی تصدیق ہر اس شخص سے ہونی چاہیے جو اپنی لیبارٹری میں یہی تجربہ کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو سائنسی نتیجے کو غلط سمجھا جائے گا اور ترک کر دیا جائے گا۔ سائنس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
سائنس سے وابستہ ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ایک سائنسدان اپنی حدود کو تسلیم کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتا۔ عام تصور کے برعکس ایک سائنسدان بہت منکسر المزاج ہوتا ہے کیونکہ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ جانتا ہے، وہ تو علم کے بحر بیکراں میں سے چند قطرے ہیں۔ جو جتنا بڑا سائنسدان ہوتا ہے، وہ اتنا ہی اپنی حدود سے آگاہ ہوتا ہے۔
اگر کچھ مشاہدات کی موجودہ قوانین کے ذریعے وضاحت نہیں کی جا سکتی، تو سائنس دان کبھی بھی ان ماڈلز اور نظریات کے ذریعے ان کی وضاحت کرنے کی کوشش نہیں کرتا جن کو وہ دوسروں کو خالص عقلی فریم ورک کے اندر قبول کرنے پر قائل نہیں کر سکتا۔ سائنسی ترقی کے موجودہ مقام پر بھی جب ہم فطرت کے بنیادی قوانین کو جانتے نظر آتے ہیں، بہت سے ایسے مظاہر ہیں جن کو سائنسدان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سائنسی ارتقا ابھی جاری ہے۔
سائنس کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے بعد میں ان تصورات کی طرف آتا ہوں جو میں نے اس مضمون کے شروع میں بیان کیے ہیں اور جو ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے اپنا رکھے ہیں۔ اپنی اوپر دی گئی گزارشات کی روشنی میں، یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ تصورات غلط مفروضوں پر مبنی ہیں۔
کیا سائنس مذہب کی مخالف ہے؟ یہ میرے اگلے مضمون کا موضوع ہو گا۔

