پاکستان میں سب کچھ بریکولیج ہے


بریکولیج کے سادہ معنی یہ ہیں کہ دستیاب چیزوں کی مدد سے کچھ نیا بنانا۔ یا پھر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو چیزیں پہلے استعمال ہو چکی ہیں، انہیں ایک نئے ترتیب میں دوبارہ استعمال کرنا۔ یا پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئی ثقافتی یا سیاسی پہچان بنانے کے لیے تمام ثقافتوں یا سیاسی سلسلوں سے کچھ نہ کچھ لے کر یا استعمال میں لاکر ایک نیا سلسلہ ترتیب دینا۔ پاکستان میں جو سیاست ہے وہ شروع ہی سے ایسی ہی ہے اس میں کچھ نیا نہیں ہے، اس سیاست کے نظریات پرانے ہیں اور سب کے پاس یکساں ہیں، اس سیاست میں شخصیات بھی ایسی ہی ہیں جب ان کی ضرورت پڑتی ہے انہیں تخت پر بٹھایا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں رہتی تو انہیں پھینک دیا جاتا ہے۔

کچھ کو بچا کر بھی رکھا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں جب بریکولیج کی ضرورت پڑے گی تو انہیں استعمال کیا جائے گا۔ ایک بریکولر اپنے استعمال کردہ نظام کی پاکیزگی یا استحکام یا ’سچائی‘ کی پرواہ نہیں کرتا ہے، بلکہ کسی خاص کام کو انجام دینے کے لیے اس کا استعمال کرتا ہے۔ اگر ہم بریکولیج کا متضاد کوئی لفظ ڈھونڈیں تو ہمیں سب سے مناسب لفظ انجینئرنگ ملے گا۔ ترقی یافتہ دنیا میں سیاست ایک انجینئرنگ ہے اور ہماری سیاست بریکولیج ہے۔

بریکولر کے برعکس، انجینئر، جو کہ ”سائنسی ذہن“ ہے، ایک حقیقی کاریگر ہے وہ مکمل طور پر پراجیکٹس کے ساتھ کام کرتا ہے، مواد کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے اوزار تیار کرتا ہے۔ ایک متوازی ڈرائنگ کرتے ہوئے تمام ممکنہ حالات اور مشکلات کو سمجھ کر کسی کام کا آغاز کرتا ہے۔ انجینئر ایک مجموعی نظام بناتا ہے، جس میں مستقل مزاجی کے عناصر ہوتے ہیں۔ جبکہ بریکولیج صرف وقتی ضرورت کے لیے سب کچھ کرتا ہے۔ انسانی وسائل، قدرتی وسائل اور سرمائے کے وسائل کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہی ہماری قسمت ہے۔ پاکستان کو چلانے والے نہ اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں، نہ اس کے مستقل مسائل حل کرتے ہیں، نہ اس کے تنازعات کو حل کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے رہنے والوں کو انسان سمجھتے ہیں۔ اپنے چھوٹے سے فائدے کے لیے چوبیس کروڑ لوگوں کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم گزشتہ سات دہائیوں میں اپنا قومی نقطہ نظر نہ بنا سکے۔ اپنا قومی تشخص نہ بنا سکے، ہر شخص جو برسر اقتدار آیا وہ ملک کو مقروض اور خود کو ارب پتی بنا گیا اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔

اس ملک کے لوگوں کو مختلف طبقوں اور گروہوں میں بانٹ دیا گیا ہے تاکہ یہ ایک ہو کر کوئی متحدہ پوزیشن نہ لے سکیں، کچھ لوگوں کو مذہب کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، کچھ سماجی ٹھیکیدار ہیں اور کچھ معاشی ٹھیکیدار ہیں، کچھ علاقائی اور قومیتوں کے ٹھیکیدار ہیں۔ یہ سب مل کر اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ سیاست میں ان تمام لوگوں کو جمع کیا گیا ہے جن کا کوئی ضمیر نہیں ہے، جن کا متعلقہ شعبہ میں تعلیم اور تجربہ نہیں ہے۔

چند خاندانوں اور اشخاص کو مرکزہ بنا کر ایک ایسا ٹریپ تیار کیا گیا ہے کہ ملک کے عوام اس سے باہر سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ملک میں تعلیم کو شعوری طور پر علم مفیدہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی اور وہ تمام خاندان اور افراد جو تقسیم سے پہلے انگریزوں کے نمائندہ تھے یا ان کے مخبر اور کارکن تھے ان کو ہی اشرافیہ کا درجہ دے کر اس ملک پر مسلط کیا گیا۔ ستر کی نصف دہائی تک وہی نسل افضل تھی، یہ نسلیں جو انگریزوں سے میراث لے کر آئی تھیں ان پر عمل پیرا تھیں۔ یہ سب چونکہ نسلوں سے مٹی کے غدار تھے اس لیے ان سے کسی حب الوطنی کی توقع ممکن نہ تھی۔ یہ اپنی ثقافت اور تاریخ سے گریزاں تھے اس لیے ان کی پوشاک، خوراک، عمل اور سوچ انگریزوں کی غلامی اور مقامی لوگوں سے نفرت کی تھی جسے نہ صرف ان خاندانوں نے اپنا یا بلکہ اپنے اگلی نسلوں تک کو منتقل کیا۔ ستر کی نصف دہائی تک یہ خاندان اور افراد ایک دوسرے کے مفادات کا خاص خیال رکھتے تھے۔ یہ افراد ہر شعبہ میں تھے۔ حکومت اور مقتدرہ سب اسی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

پھر امریکہ کو پاکستان میں ایک نئے نسل کی ضرورت پڑی جو اس کے لیے روس سے لڑ سکے اور روس کو جنگی محاذ پر مصروف رکھ سکے جس کے نتیجے میں روس کا اقتصادی نظام جنگی خرچوں کے بوجھ تلے دب کر ختم ہو جائے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دنیا پر بلاشرکت غیرے تصرف حاصل کرنے میں سہولت ہو۔ اس مقصد کے لیے اس انگریزی بود باش کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوا جو انگریز چھوڑ کر گئے تھے، شراب خانے بند ہونا شروع ہو گئے، دین اور پردے کی باتیں شروع ہو گئیں اور مدرسے بننے کا عمل تیز تر کر دیا گیا۔

پانچ برسوں میں ایک نئی سوچ اور نسل پیدا ہو گئی جس کو مذہبی شناخت کے ساتھ بریکولیج نہیں گیا تھا بلکہ باقاعدہ انجینئر کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ملک میں نام نہاد جمہوریت کو بھی ختم کر دیا گیا اور آمریت کو رواج دیا گیا۔ اس دوران کسی بھی مہذب ملک کو پاکستان میں انسانی حقوق کا خیال نہیں آیا، امریکہ ان جہادیوں کی مدد سے کامیاب ہو گیا اور روس کی قوت دم توڑ گئی۔ امریکہ بھی شادیانے بجاتے ہوئے یہاں سے نکل گیا اور امریکہ ساختہ جہادیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔

ان کے منہ کو تو خون لگ گیا تھا۔ اور ان کو پالنے کی سکت تو اس ملک میں تھی ہی نہیں۔ اس دور میں پاکستان کو جو بھی امداد ملتی وہ پاکستان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کی جگہ افراد کے تصرف میں چلی جاتی تھی۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اس امریکی ساختہ جہاد میں جس جس نے جس جس حیثیت میں امریکہ کا ساتھ دیا ان سب کی اولاد ارب پتی ہیں۔ بیشتر تو امریکہ اور دنیا کے دیگر ملکوں میں آباد ہو گئے اور جو یہاں رہ گئے وہ بھی اتنی دولت کے مالک ہیں کہ ان کی سو پشتیں بھی بیٹھ کر کھائیں تو اسے ختم نہ کرسکیں۔

جبکہ اس امریکی ساختہ جہاد سے پاکستان کے قبائلی علاقے اور سرحدی علاقے تعلیمی، تہذیبی، سماجی اور اقتصادی ترقی سے دور ہوتے چلے گئے اور آج ان علاقوں میں منشیات، اسلحہ اور سمگلنگ کے علاوہ نہ کوئی روزگار ہے اور نہ کوئی موقع۔ یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں بلکہ اس کے بعد ہر نئے آنے والے نے ایک نیا بریکولیج کیا یعنی موجود اور دستیاب لوگوں اور مواقعوں اور وسائل کی مدد سے اس کاروبار کو چلاتے رہے، گزشتہ جہادیوں کا زور توڑنے کے لیے نئے جہادی بنائے۔

گزشتہ گروہوں کو کمزور کرنے کے لیے نئے گروہ بنائے۔ علاقے کے لوگوں کو مصروف رکھنے کے لیے انہیں سمگلنگ کی کھلی اجازت دی۔ جس کے نتیجے میں ملک میں کوئی بھی صنعتی سرگرمی شروع نہ ہو سکی۔ پھر گزشتہ جہادیوں نے جب امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں تو امریکہ کو ان کی سرکوبی کے لیے خود آنا پڑا اور ہم نے پھر سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کو ایک طرف رکھ کر ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور ان کی جنگ میں شریک ہو گئے۔ اس دورانیے میں پھر بریکولرز کی چاندی ہو گئی اور ملک میں دہشت گردی کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا جس نے ہزاروں معصوموں کی جانیں لے لیں اور پاکستان عملاً دنیا سے کٹ کر رہ گیا۔

نہ یہاں سیاح آتے تھے۔ نہ تاجر اور کھلاڑی یوں ہم نے اس ملک کو ایک مکمل نوگو ایریا بنا دیا۔ پھر امریکہ بہادر نے اپنی جنگ مکمل کی اور واپس چلا گیا اور ہم پھر اپنے پالے ہوئے بھیڑیوں کے نرغے میں ہیں۔ اتنا سب کچھ ہو گیا ہمیں اس سے سیکھنا چاہیے تھا۔ مگر ہم اس کے برعکس کر رہے ہیں۔ ہم اپنی معیشت بنانے کی جگہ اس کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم اپنا تعلیمی نظام درست کرنے کی جگہ اس کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ ہم خود مختاری کی جگہ مزید غلامی کی طرف سفر کر رہے ہیں۔

ہم تنازعات کو ختم کرنے کی جگہ ان کو ہوا دے رہے ہیں۔ ہم اپنے بہترین لوگوں کو آگے لانے کی جگہ چوروں اور نا اہلوں کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ ہمارا تعلیمی، اقتصادی، سماجی، سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ ان نظاموں کو چلانے والے اس کو بہتر کرنے کی جگہ اس کو مزید خراب کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ملک میں مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر ہے۔ ملک کے تقریباً ستر فیصد نوجوان بے روزگار اور بے ہنر ہیں۔

ملک کے وسائل پر قابض لوگ ان وسائل کو ملک و قوم کی بہتری میں استعمال کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کم و بیش یہی صورتحال دس برس پہلے بنگلہ دیش کی بھی تھی مگر انہوں نے مل بیٹھ کر اس کا حل ڈھونڈ نکالا اور آج سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے زیادہ وسائل اور افرادی قوت رکھنے کے باوجود ہم زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دو سو فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ملک قرضوں کے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ ملک کے کا سیاسی نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ کوئی جماعت عوامی نہیں رہی ہر جماعت کی یہ خواہش ہے کہ وہ مقتدرہ کو خوش کر کے اقتدار حاصل کر لیں۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور پھر صرف اپنی جیبیں بھرنے میں لگ جاتے ہیں اور اصطلاحات اور نئی منصوبہ بندی کرنے کی جگہ جو ہے اسے ہضم کر لو اور جو ہضم نہ ہو سکے اسے بیچ دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ عالمی قوتوں کے ساتھ ساتھ اب پاکستان میں کچھ داخلی قوتیں بھی اپنے ناجائز طریقوں سے حاصل کر دہ بے شمار سرمایہ کی بنیاد پر ملکی نظام کو اپنے تابع کرنے میں مصروف کار ہیں۔

ان قوتوں میں سمگلر، لینڈ اور ہاؤسنگ کے کاروبار میں شریک راتوں رات ارب پتی بننے والے، حکومت میں رہتے ہوئے ناجائز فائدہ اٹھانے والے اشخاص جو چینی، گندم، دوائیوں، اور دیگر کئی تجارتوں میں ہولڈنگ کر کے پیسہ بنا رہے ہیں، کرنسی کے کاروبار کرنے والے کچھ گروپس اور اشخاص، حکومتوں میں شریک رہنے والے بینکار اور سرمایہ دار اور کلیدی عہدوں پر رہنے والے بیوروکریٹس ہیں۔ جو اس عالمی قوتوں کے جھنجھوڑے ہوئے اس مجروح ملک کو مل کر لوٹ رہے ہیں۔

یہ سب ملک کر ایوانوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور فیصلہ سازوں کو شریک کر کے بریکولیج کا بندوبست کرتے ہیں۔ جب تک اس ملک سے بریکولر کا خاتمہ نہیں ہو گا اور انجینئر اس کا انتظام نہیں سنبھالیں گے۔ اس کے حالات میں بہتری نہیں ہوگی۔ اس ملک کی زمین پر محنت، سرمایہ اور کاروبار کو جب تک آزادی کے ساتھ فروغ نہیں ملے گا۔ یہ ترقی نہیں کر سکتا۔ سادہ لفظوں میں جو پہلے استعمال ہوچکے ہیں انہیں جب بار بار استعمال کیا جائے گا۔

یعنی بریکولیج کا عمل جاری رہے گا تو یہ انحطاط کا سفر بھی جاری رہے گا۔ دستیاب لوگوں کی جگہ موزوں لوگوں کو تلاش کیا جائے۔ اور جو ہو رہا ہے اس کو روک کر جو ہونا چاہیے وہ کیا جائے تو تبدیلی آ سکتی ہے۔ ورنہ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا۔ اس نظام میں چند افراد کے پاس کھربوں جمع ہو رہے ہیں اور باقی چوبیس کروڑ لوگ تیزی کے ساتھ غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ آگر آپ کو شک ہے تو گزشتہ دس برسوں کے معاشی اعداد و شمار کے گراف دیکھ لیں!

یا پھر ملک میں آنے والے لنڈے، استعمال شدہ سپیر پارٹس کا حجم دیکھ لیں جو دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ سمگلنگ ختم کر کے جب تک ہم اپنے لوگوں کو ہنر سکھا کر روزگار پر نہیں لگائیں گے تب تک بریکولیج کا سلسلہ سیاست، ایوانوں، مذہبی جذبات اور عملی زندگی میں جاری رہے گا۔ چین، جنوبی کوریا، جاپان، وغیرہ نے انجینئرنگ کو ماڈل بنایا۔ اب بنگلہ دیش اور انڈیا ایسا کر رہی ہیں۔ اور ہم چن چن کر کرپٹ نمونے جمع کر کے ملک ان کے حوالے کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS