کالا گورا منظور اے
ایک ایسا شہر جو کبھی نہیں سوتا نہ دن میں نہ رات میں۔ اس کے ایک اور کنکریٹ جنگل ہے تو دوسری اور میلوں پھیلی ہوئی بستیاں ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے شہر کی جو آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جسے کراچی کہا جاتا ہے۔ ساحل سمندر کے ساتھ یہ شہر تعمیر و ترقی میں دنیا سے بہت پیچھے ہے کیونکہ یہاں تعمیر و ترقی کے نام پہ بہت کچھ بتایا گیا مگر آج تک کچھ بھی کر کے دکھایا نہیں گیا جو بنایا گیا ہو۔ یہ شہر سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں سے زمین پہ آباد ہے۔ یہ بستی ماہی گیروں کی بستی تھی جس کا نام کلاچی نام کے شخص کی نسبت سے کلاچی پڑ گیا۔ وہ بلوچ قبیلے کا چشم و چراغ تھا۔ پھر وقت کے سفر کے ساتھ ساتھ یہ کراچی بن گیا جو بعد میں ایک عروس البلاد کی صورت اختیار کر گیا۔ جب ہند کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تو 1947 ء سے 1959 ء تک پاکستان کا دارالحکومت رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ اس شہر کی سڑکوں پر دنیا بھر کے لوگ چلتے پھرتے نظر آتے تھے مگر آج یہ حال ہے کہ یہ شہر تفرقے اور مسلکوں میں بٹ چکا ہے۔ پیار، محبت اور رواداری کی جگہ نفرت اور انتقام مقدر بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے مگر یہ شہر ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ جس کی چند وجوہات ہیں جس میں سب سے بنیادی سیاسی ارادے کی عدم موجودگی، نسلی فرقہ ورانہ اور لسانی سیاست ہے جبکہ شہر کی کم ترقی کی ایک اور وجہ فرقہ واریت ہے۔ اس کے باوجود یہ شہر خوب صورتی میں اپنی مثال آپ رہا ہے۔ ملک بھر سے لوگ روٹی روزی کی تلاش میں آتے ہیں اور یہ شہر انہیں اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ بڑی بڑی عمارتوں کا یہ شہر جس کا صدر مقام صدر ہی ہے جہاں سے شہر بھر کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ مل جاتی ہے۔ جب لاری، بس والے آواز لگاتے ہیں تو کچھ یوں سننے کو ملتا ہے،
کالا، گورا، منظور اے
کالا، گورا، منظور اے
جب کئی بار یہ الفاظ وہ سن چکا تو اس نے ساتھ کھڑے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا بول رہا ہے تو ساتھ کھڑا دوست ہنس کے بولا کہ پہلے آپ بتاؤ کہ یہ کیا بول رہا ہے تو اس نے کہا کہ اگر مجھے یہ سمجھ آئی ہوتی تو میں آپ سے کیوں پوچھتا کہ یہ کیا بول رہا ہے۔ مجھے تو صرف یہ سمجھ آ رہی ہے کہ یہ بول رہا ہے بلکہ بولتا ہی چلا جا رہا ہے۔
کہ کالا، گورا منظور اے۔ کالا، گورا منظور اے
تو اس کے دوست نے اس کے بائیں کندھے پہ ہاتھ رکھا اور آواز لگانے والے کنڈیکٹر کی جانب دیکھتے ہوئے بولا کہ یہ بول رہا ہے بلکہ سواریوں کو بلا رہا ہے کہ ہماری یہ لاری، بس کالا پل سے ہوتے ہوئے گورا قبرستان جائے گی پھر وہاں سے ہوتے ہوئے منظور کالونی جائے گی۔
ہم صدر کراچی کھڑے تھے جب یہ بات وہ سن چکا تو دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر ہنس پڑے اور پھر وہاں سے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔



