اہالیان پنجاب کی مریم نواز سے بنیادی امید


آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب نہ صرف صوبائی بلکہ مرکزی حکومت سازی کے لحاظ سے ہمیشہ نظروں میں رہتا ہے۔ پنجاب میں حاصل شدہ واضح فتح مرکز میں نمایاں پوزیشن سے نوازتی ہے۔ اہالیان پنجاب کا ووٹ دینے کے اعتبار سے ہمیشہ ایک خاص مائنڈ سیٹ اور انسیت کا عنصر نمایاں رہا ہے۔ طویل مارشل لاء کے بعد ، آئین پاکستان کے وجود میں آتے ہی، سیاسی حکومتوں کی اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی ابتدائی کاوشوں کے زمانے سے پنجاب اور خصوصاً لاہور پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے۔ اور برس ہا برس رہا۔ مگر رفتہ رفتہ عوام نے پیپلز پارٹی کی ان کے مسائل سے عدم توجہی کی بنا پر سیاسی یتیمی محسوس کرنا شروع کر دی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرنے لگی تو جمہور نے اپنے ووٹ کی طاقت کا حقدار نون لیگ کو ٹھہرا لیا۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے پنجاب اور مسلم لیگ نون لازم و ملزوم رہے ہیں۔ بلاشبہ نون لیگ عوام کے سیاسی یتیمی کے تاثر کو زائل کرنے اور ان کے اعتماد پر خاصی حد تک پورا بھی اترتی رہی ہے۔ ترقی اور جدیدیت کے اعتبار سے پنجاب پاکستان کے ہر صوبے سے سالوں آگے ہے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر ہسپتالوں، سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں، سڑکوں کے حالوں سے لے کر خوشحالی کے اجالوں تک کوئی بھی صوبہ اس مقام پر نہ ہے کہ لمحہ بہ لمحہ ترقی کی منازل طے کرتے پنجاب سے مقابلہ کر سکے۔

ہاں گڈ گورننس کے مسائل کسی حد تک حل طلب ہیں اور ہر ترقی یافتہ خطے میں بھی کسی حد تک باقی رہتے ہی ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی جگہ کے تمام باسی ایک متفقہ رائے سے متفق ہوں۔ مگر پلس مائنس کے ساتھ بیشتر چیزوں سے اتفاق یا اختلاف ممکن ہے۔ اور پنجاب میں ہمیشہ سے عمومی تاثر یہی رہا ہے کہ ترقی کا خواب نون لیگ کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی ڈویلپمنٹ کے اثرات ہیں کہ اہالیان پنجاب نے ترقی یافتہ منصبوں کو اپنا بنیادی حق سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ترقی کا ایک پلس پوائنٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ عوام کی سوچ وسیع ہونے لگتی ہے۔ لوگ بہتر سے بہترین کے خواہاں رہتے ہیں اور حکومتی عدم دلچسپی کو بڑی شدت سے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسی ہی عدم توجہی گزشتہ دور حکومت میں پنجاب کے نصیب میں رہی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتی رہی۔ مزید ترقیاتی منصوبے تو درکنار پہلے سے موجود پراجیکٹس اور سسٹم کو بھی نا اہلیت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر ڈھونڈ کر نا اہل ترین شخصیت کو وزیراعلی کا منصب تھما دیا گیا۔ عدم توجہی میں تو چلو غفلت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے مگر گذشتہ دور حکومت میں تو قابلیت سوالیہ نشان رہی۔ یہ خراب تر حکمرانی نے پھر سے اہالیان پنجاب میں سیاسی یتیمی کے عنصر کو ہوا دی۔ شہباز شریف سے تگڑے منتظم کی جگہ عثمان بزدار قرعہ میں سے برآمد ہو کر معنی خیز طنزیہ مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔

حالیہ عام انتخابات میں پنجاب کی حکمرانی کا سہرا ایک بار پھر مسلم لیگ نون کے سر آن سجا ہے۔ مریم نواز شریف۔ جنہوں نے شدید سیاسی بحران میں اپنی جماعت کو منظم رکھا اور اس قابل بنایا کہ نون لیگ بطور سیاسی جماعت اپنی منفرد ساکھ برقرار رکھ پائی، بطور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکی ہیں۔ ان کے سیاسی پس منظر میں نواز شریف اور شہباز شریف کی سی قدآور سیاسی شخصیات موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے ان کا اصل مقابلہ کسی اور صوبے کے وزیراعلی سے نہیں ہے بلکہ اپنے کے خاندان کے اجداد سے ہے جن کے کریڈٹ پر تقریباً پورے پاکستان کی مجموعی ترقی ہے۔

مریم نواز، وزیراعلی پنجاب کے لیے یہ منصب سراسر آزمائش ہے۔ جہاں عوامی امنگوں اور تقاضوں کے مطابق ترقی ممکن کرنا ہے تو ساتھ ساتھ ففتھ جنریشن وار فیئر کے نام پر سیاسی پراپیگنڈہ سے بھی نبرد آزما ہونا ہے۔ مریم نوا کے خاندانی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں عوامی امیدیں بلند تر ہیں وہاں ان کے پیچ راستے سیاسی یتیمی کے احساس کا وہ پتھر بھی پڑا ہے جو گزشتہ دور حکومت میں خاصے احتمام سے نصب کیا گیا ہے۔ مریم نواز کو سب سے پہلے عوام کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ پنجاب اب سیاسی یتیم نہیں رہا تاکہ جمہور کا بھرپور اعتماد ان کی قوت بن سکے۔

Facebook Comments HS