کیا غامدی بھی ایک مولوی ہی ہے؟
آج کل جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے۔ جس میں پروفیسر صاحب ابوظہبی میں تعمیر ہونے والے مندر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ سرزمین عرب کو غیر مسلموں سے پاک رکھنے کا حکم ہے (یعنی جزیرہ نما عرب میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی کوئی گنجائش نہیں ) اور ساتھ ہی وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے ہوئے فرماتے ہیں ”اس بات کا پہلے سے خیال کرنا چاہیے تھا یعنی کہ پہلے ہی غیر مسلموں پر جزیرہ نما عرب کے دروازے بند کر دینے چاہیے تھے اب اگر وہ آ گئے ہیں تو اس بات کو برداشت کرنا چاہیے“ بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے غامدی صاحب بہت صبر و تحمل کا درس دے رہے ہیں۔
جب کہ غامدی صاحب کے اس بیان کے بعد غامدی صاحب اور کسی بھی روایتی مولوی کی سوچ میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا۔ کم از کم بہت سے باشعور لوگ غامدی صاحب سے اس بیان کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ اگر یہی بیان کسی روایتی مولوی کی طرف سے داغا گیا ہوتا تو یقیناً اس پر کوئی حیرانی نہیں ہونی تھی، چونکہ یہ الفاظ غامدی صاحب کے منہ سے ادا ہوئے ہیں جو بظاہر جدت پسند اور لبرل خیالات کے حامل سمجھے جاتے ہیں، غامدی صاحب کے اس بیان کے بعد حیران ہونا بنتا ہے۔
دوسری طرف بہت سے لوگ پہلے ہی اپنے اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ غامدی صاحب اور ایک روایتی مولوی میں کوئی فرق نہیں سوائے ڈریسنگ اور اچھی اردو بولنے کے۔ اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ غامدی صاحب سے سیکھنی ہے تو اچھی اردو سیکھیں جس طرح وہ الفاظ کے چناؤ سے لوگوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے سکتے۔ لیکن کیا اس ویڈیو کے بعد بھی لوگ غامدی صاحب اور محلے کے کسی عام مولوی میں فرق کر پائے گے؟
اس معاملے میں جناب کے داماد حسن الیاس صاحب کا بھی بالکل یہی موقف ہے۔ غامدی صاحب ملائیشیا کے بعد اب آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہے اور وہیں سے جناب نے یہ ویڈیو ریکارڈ کروائی۔ غامدی صاحب کے لیے عرض ہے کہ اگر آسٹریلیا، یو کے، کینیڈا یا دوسرے مغربی ممالک بھی یہی رویہ اپنائیں تو انہیں کیسا لگے گا؟ کیا غامدی صاحب ان ممالک کی ایسے رویے کا احترام کرے گے؟ یا پھر اسلاموفوبیا کا کارڈ کھیلیں گے۔ اور کیا غامدی صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان سے ہجرت کرنے کے بعد ایک غیر مسلم ملک میں ہی کیوں رہائش اختیار کی؟
کیا پروفیسر صاحب سعودی عرب یا کسی دوسرے مسلم ممالک میں رہائش پذیر نہیں ہو سکتے تھے؟ پروفیسر صاحب آسٹریلیا میں بڑے آرام سے دین کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی مغربی ملک ایسا ہو جہاں مسلمانوں کی سینکڑوں مساجد نا ہوں، جدھر وہ مکمل آزادی سے اپنی عبادات اور دین کی تبلیغ نا کر سکتے ہو، کیا ایسی آزادی غیر مسلموں کو کسی مسلمان ملک میں حاصل ہے؟ اس کا جواب ہے بالکل نہیں۔ چلیں تبلیغ کا معاملہ تو ایک طرف ہمارے ہاں غیر مسلموں کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں۔
اس ویڈیو کے بعد جہاں بہت سے لوگوں نے غامدی صاحب کو سیریس لینا چھوڑ دیا ہے وہیں بہت سے لوگ افسوس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف جس تیزی سے سعودی عرب تبدیل ہو رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ عنقریب یورپ اور سعودی عرب میں فرق ختم ہو جائے گا اور لوگ حج عمرہ کی ادائیگی کے بعد قسمیں اٹھائیں گے کہ ہم نے واقعی ہی عبادات یعنی حج یا عمرے کے علاوہ وہاں اور کچھ نہیں کیا سعودی عرب کی اس تبدیلی پر تو ابھی تک کسی بڑے عالم نے کھل کر بات نہیں کی اور نا اس معاملے پر کوئی آواز اٹھائی۔
سب جانتے ہیں اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے علماء کرام سعودی عرب کی اس تبدیلی پر کیوں خاموش ہیں اور شہزادہ محمد بن سلمان پر ایک ویڈیو تو کیا ایک لفظ تک نہیں بول سکتے۔ لیکن ابھی بھی امید ہے غامدی صاحب اپنی اس رائے سے رجوع کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غامدی صاحب ایک جدت پسند انسان ہیں اور ان کی رائے بہت سے معاملات مثلاً موسیقی، فنون لطیفہ، ماسٹربیشن، عدت اور طلاق جیسے عنوان پر مین سٹریم علماء کرام سے بالکل مختلف ہے۔
پڑھے لکھے اور باشعور طبقے میں غامدی صاحب کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ بہت سے لوگ یہ سوچنا شروع کر دیں ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ غامدی صاحب اپنی اس رائے سے رجوع کریں گے ورنہ اس بات پر مہر ثابت ہو جائے گی کہ مولوی، مولوی ہی رہتا ہے چاہے وہ کسی ملک میں بیٹھا ہو جتنی مرضی اچھی زبان بولتا ہو۔


