سجاد حیدر کا مجموعہ حمد و نعت: ”تجلیوں کی دھنک“


سوچتا ہوں میں بنا ڈالوں
ایک فرقہ اداس لوگوں کا

سے اردو دنیا میں شہرت پانے والے شاعر سجاد حیدر کا تعلق فیصل آباد ہے لیکن وہ آج کل برمنگھم، برطانیہ میں مقیم ہیں۔ سجاد حیدر غزل جیسی کلاسیکل اور مشکل صنف سخن کے ساتھ کائنات شعر میں وارد ہوئے۔ بعد ازاں انھوں نے حمد و نعت کو اپنا شعار بنا لیا۔ نعت اگرچہ غزل کی ہیئت میں مروج ہے مگر اپنے تقدیسی تخصص کی بنا پر نہایت دشوار صنف ادب ہے۔ کیونکہ اس میں ایک طرف وہ عظیم ہستی اور اس سے وابستہ عقیدت و محبت ہے جو فخر موجودات ہے، وجہ تخلیق کائنات ہے تو دوسری جانب زبان اور شاعری کے جمالیاتی تقاضے۔ اس لیے نعت کہنا اور صحیح معنوں میں نعت کا حق ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، بقول مرزا غالب:

؎غالبؔ ثنائے خواجہ بیزداں گذاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

محبوب رب للعالمین ﷺ ، خیر المرسلین ﷺ کی مدح و تعریف کے لیے توفیق ایزدی اور جذب و عشق از حد ضروری ہیں۔ یہ وہ شرف و اعزاز ہے جو ہر کس و ناکس کو عطا نہیں ہوتا۔

؎محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا

شہر نعت فیصل آباد پر ایک کرم اور کہ اسے سجاد حیدر جیسا ثنا خوان محمد ﷺ عطا ہوا جو نعت کے فکری امکانات اور فنی لوازمات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ ”تجلیوں کی دھنک“ مثال پبلشرز فیصل آباد سے دیدہ زیب انداز میں شائع ہوا۔ جس کا انتساب ”سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفے ﷺ کے اول نعت نگا ر کے نام“ ہے۔ یہ مجموعہ 13 حمدوں اور 79 نعتوں سے آراستہ ہے۔ سجاد حیدر اہل دل بھی ہیں اہل فن بھی، وہ ایک ماہر فوٹو گرافر ہیں، شاید اس لیے ان کی نعتیہ کائنات، فطرت اور مظاہر فطرت کے دھنک رنگوں سے پیراستہ دکھائی دیتی ہے۔

خدا جمیل اور جمال دوست ہے (ان اللہ جمیلٌ یحب الجمال ) ۔ اس ذات جمیل کی مدح کے لیے سجاد حیدر جو الفاظ، تشبیہات، علامات اور استعارے تراشتے ہیں وہ بھی جمال آمیز ہیں اور قدرت کے خوبصورت رنگوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ وہ خدا کی اوصاف میں جن اوصاف سے اپنی حمدیہ کائنات سجاتے ہیں وہ رحمت، کرم، خطا پوشی اور دل جوئی پر محیط ہیں۔ چند حمدیہ اشعار ملاحظہ ہوں :

؎ وہی تو بھیجتا ہے تتلیاں خیالوں کی
جو شاخ حرف کو مثل گلاب رکھتا ہے
؎ ہر ایک رنگ صبح نو، ثنائے کردگار ہے
صبا گلوں سے کر رہی ہے جو کلام حمد ہے
؎ رشتوں کی ہر ایک کڑی کو اس کے لطف نے باندھا
دل کو دل سے جوڑنے والی ہر زنجیر اسی کی
؎ تجلی ہے اس کی عالم امکاں کی وسعت میں
بہر سو خالق ارض و سما کے رنگ بکھرے ہیں
؎ لبوں پہ میرے جو مسکراہٹ ہے سب نے دیکھی
جو اشک آنکھوں میں رک گیا ہے، اسے خبر ہے

سجاد حیدر کے نزدیک حمد اور نعت اصل میں دونوں ایک ہیں۔ وہ بزم نعت کو بھی دیار حمد کہتے ہیں۔ وہ خدا کے نور کا جلوہ نبی ﷺ کے حسن میں ڈھونڈتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اذان عشق پر نعت کہتے ہوئے نماز حمد ادا کرتے ہیں۔

؎ رسول پاک پر درود اور سلام حمد ہے
یہ نعت اور منقبت کا اہتمام حمد ہے
؎ نو ر کو نور سے ملا نا ہے
نعت کو حمد سے سجانا ہے
؎ جب بھی اٹھایا میں نے قلم حمد کے لیے
وہ حمد مجھ کو لے گئی نعت نبی ﷺ کی اور
؎ خدا کے پیار کے اس فلسفے کو کون سمجھے گا
کہ اس کے نام کی پہچان بھی ذات محمد ﷺ ہے
؎ بہ فیض نعت سرور میں حمد کبریا لکھی
پڑھے اسمائے حسنیٰ اور ثنائے مصطفے ﷺ لکھی

سجاد حیدر کی نعتیہ اقلیم ایک نعتیہ البم سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں خوبصورت الفاظ، دل کش مناظر، تروتازہ تشبیہات، تصاویر کی صورت قارئین کے سامنے آتے ہیں وہ بھی عشق مصطفی ﷺ سے مزین دھنک رنگ کائنات کو نہ صرف حیرانی سے دیکھتا ہے بلکہ مدحت رسول ﷺ کی معطر فضا کو بھی محسوس کرتا ہے۔

؎ صبا صبا ہوا لہجہ، سخن گلاب ہوا
پڑھی جو نعت محمد ﷺ ، دہن گلاب ہوا
؎ لذت ہے گل تازہ سی الفاظ کے رس میں
خوشبو کی طرح نام محمد ﷺ ہے نفس ہے
؎ لکھا ہے نام نبی ﷺ رات کی ہتھیلی پر
سو خواب زار میں ماہ تمام سی ہے چمک

محبوب سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کے وطن سے بھی ایسے ہی محبت اور عقیدت رکھی جائے۔ اس کے وطن کی مٹی تک متبرک سمجھا جائے۔ اس مٹی کے احترام میں سر جھکایا جائے اور اس میں دفن ہونے کی چاہت دل میں زندہ رکھی جائے۔ محب شاہ امم ہونے کے ناتے سجاد حیدر کی نعتوں میں مدینہ پاک کی فضاؤں سے محبت، اس کے گلی کوچوں اور بازاروں سے رغبت اور بالخصوص روضہ رسول ﷺ کے لیے عقیدت جا بجا موجزن دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک روضہ مصطفے ﷺ قبلہ اغنیا ہے، بحر جو دو سخا ہے، زمیں پر جنت نشاں ہے اور روشنی کا جہاں ہے، اس لیے مدینہ پاک اور روضہ رسول احمد ﷺ زیارت اور حاضری کی تڑپ بھی ان کے نعتیہ کلام کا خاصہ ہے :

؎میں زیارت کا تمنائی ہوں جانے کب سے
دے دعاؤں کا ثمر، شہر مدینہ دیکھوں
؎کیا جو قصد مدینے کی اور جانے کا
گلاب کھلنے لگے گام گام میرے لیے
؎غبار راہ مدینہ کی ہم رکابی کو
بچھانے کہکشاں سجاد آ گیا ہے فلک
؎لپٹ گیا جو ترے روضہ منور سے
یہ تار تار مرا پیرہن گلاب ہوا
؎سبز گنبد کو سوچنا سجاد
ہو مقدر کو جب ہرا کرنا

سیدنا محمد ﷺ کی سیرت مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں ”کان خلقہ القرآن“ یعنی آپ ﷺ کو اگر سیرت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ مجسم قرآن ہیں۔ اس خیال کو سجاد حیدر اپنی کئی نعتوں میں نظم کرتے ہیں وہ قرآن کو نعت کا دیوان قرار دیتے ہیں۔ وہ قرآن و حدیث سے اپنی نعت کا خمیر اٹھاتے ہیں، جس میں سیرت مصطفٰی ﷺ کے جلوے اپنی آب و تاب پر دکھائی دیتے ہیں۔

؎قرآن جو کھولوں تو مجھے لگتا ہے ایسے
جس طرح کوئی نعت کا دیوان کھلا ہے
؎شرح قرآن ہے ہر عمل آپ ﷺ کا
آیتوں کا مفصل بیاں آپ ﷺ ہیں
؎کلام پاک رکھا جائے جب رحل حقیقت پر
تو شان مصطفے ﷺ کے ان گنت ابواب کھلتے ہیں
؎آیتوں میں جلوہ گر آپ کا رخ تاباں
آپ ﷺ کا رخ تاباں مصحف مشیت ہے

اردو نعت میں گزشتہ دو تین دہائیوں سے یہ عجب ریت چل پڑی ہے کہ حضور خیر الانعام ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے ان کے مردانہ حسن و جمال اور ظاہری خال و خد تک ہی خود کو محدود کر لیا گیا ہے، دنیاوی محبوب کی تحسین جیسے عامیانہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یا اس طرح کے القابات و خطابات استعمال کیے جاتے ہیں جو جاگیردارانہ سماج کی دین ہے۔ اس طرح جس نبی ﷺ کا پیکر سامنے آتا ہے وہ سامراجی ذہن کا ساختہ پیغمبر ہے اور قرآن و حدیث کے بیان کردہ پیغمبر رحمت ﷺ سے قطعاً ًمختلف ہے۔

دوسرے یہ کہ ان نعتوں میں شمائل و سیرت بنی ﷺ پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دی جانی چاہیے۔ یہ دونوں بدعات ہمیں سجاد حیدر کی نعتوں میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ انہوں نے عصری شعور کو جس طرح نعت کے موضوعات میں سمویا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ اس لیے ان کا نعتیہ چمن عصر حاضر کے معروف و مقبول نعتیہ کلام کے مقابلے میں حیران کن حد تک تازہ، منفرد اور صحیح معنوں میں نعت نبی آخرالزماں ﷺ ہے جو ہمارے نبی رحمت للعالمین ﷺ کے شایان شان ہے۔

؎حسن احمد ﷺ فکر میں لانا سہل نہیں تھا
اس سے پہلے حیرت کی تصویر بنائی
؎حسن احمد ﷺ کا دکھانے کے لیے آیا ہے
یہ جو قرآن زمانے کے لیے آیا ہے
؎آیتیں اس آیت عظمیٰ ﷺ میں سب رکھی گئیں
یعنی قرآں کو اتارا اس ﷺ حسیں کردار میں
؎چراغ اسوہ مرسل ﷺ کی روشنی کے سوا
رخ زماں کی کوئی آب و تاب نہ ہو سکا
؎ظہور جس میں ہے رب شعور و منطق کا
مرے نبی ﷺ سا کسی کا خطاب ہو نہ سکا
؎آگہی کا چشمہ ہے، قلزم ہدایت ہے
آپ ﷺ جو بھی کرتے ہیں مقصد شریعت ہے
؎اس کو جو بھی آنکھ چھولے ہو بصیرت آشنا
آگہی کا اک جہاں ہے آپ ﷺ کے قدموں کی دھول

ایسے اعلیٰ و بالا نبی سید المرسلین، شمس العارفین ﷺ کی شان اور عظمت اپنی پوری تمکنت کے ساتھ ہمیں سجاد حیدر کی ”تجلیوں کی دھنک“ میں دکھائی دیتی ہے۔

؎سدرہ سے صدا آتی ہے جبریل کی سجاد
اے فکر بشر دیکھ نبی ﷺ کتنا بڑا ہے
؎مثیل شان رسالت مآب ﷺ ہو نہ سکا
کوئی حضور ﷺ سا عالی جناب ہو نہ سکا
؎اپنی رفعت کی سند کے واسطے آنے لگی
ہر بلندی آسماں کی اس ﷺ ولی کے روضے پر
؎میں یہ سوچوں سدا، خط قوسین پر
لامکاں ہے کہاں اور کہاں آپ ﷺ ہیں
؎صاحب سطوت و عزت تری عظمت کو سلام
سرنگوں ہیں تری ﷺ چوکھٹ پہ قد آور لاکھوں

بحیثیت مجموعی سجاد حیدر کی نعت فکری اور فنی ہر دو حوالوں سے، امکانات سے بھرپور ہے اور نعت کا اس عظیم روایت کی بازگشت بھی ہے، جس میں حضور پاک ﷺ کو لوح و قلم اور ان کے وجود مکرم ﷺ کو الکتاب کہا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS