کوڑے کو کیسے دوبارہ استعمال کیا جاۓ
ہماری دینی تعلیمات میں بھی اہم ترین نقطہ صفائی کی اہمیت ہے جسے نصف ایمان کا درجہ دیا گیا یعنی کہ سو میں سے پچاس نمبر کا ایک سوال ہے صفائی جس میں نہ صرف جسمانی صفائی پہ زور دیا گیا بلکہ قلب و نظر اور ماحول کی صفائی کرنا اور معیار برقرار رکھنا بھی پندرہ سو سال پہلے بتا دیا گیا۔ دنیا میں تعمیر و ترقی کا پہلا معیار بھی صحت و صفائی ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے چونکہ اکثریت ادارے روبۂ زوال ہیں اس لیے شہروں، قصبوں اور گاؤں میں جابجا ہمیں گندگی سے اٹے کوچہ بازار ملتے ہیں جس سے معاشرتی اور ماحولیاتی کثافت سے صحت و سلامتی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ضرورت ہے کہ ہم کوڑا و کرکٹ کے پھیلاؤ کو روکیں اور اس کا دوبارہ استعمال بہتر طریقے سے کرنے کے لئے اس سے وہ چیزیں نکال کر درست کام میں لگائیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں۔ دنیا میں کئی ممالک ان مراحل سے گزر کر شاہراہ ترقی پر بگٹٹ رواں دواں ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کوڑا کرکٹ کو کیسے دوبارہ قابل استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ کاغذ، پلاسٹک، دھاتی سامان اور شیشے کی اشیاء کو دوبارہ کارآمد کیسے بنایا جائے، اس عمل سے بہت سے نئے کاروباری مواقع پیدا ہونگے اور کئی نئی ملازمتوں کے در کھلیں گے جو ظاہر ہے مجموعی معیشت کے لئے فائدہ مند ہوں گے اور یہ دوررس نتائج کا حامل عمل ہو گا۔ کوڑا کرکٹ کو زمین برد کرنے سے پہلے اگر اس کا دوبارہ درست استعمال ہو گا تو بہت سی زمین محض کوڑا دان بننے کے اسے بہتر بنانے میں بنانے میں مدد ملے گی جو ماحول دوست ہوگی۔ ہماری اولین ترجیح ہونا لازم ہے کہ ہم زیرو ویسٹ کی طرف فوری عملی اقدامات اٹھائیں، وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔
ہمارے ہاں ایسے ہنر مند افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جو صدق دل سے اس کام کو عبادت جان کر یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے بہتر ماحول بنا سکتے ہیں۔ ضرورت صرف ارادے، درست پالیسی اور موثر عمل درآمد سے یہ کام کیا جائے تو نوجوانوں کو ایک اچھا کاروبار بھی مل سکتا ہے اور ہمارا مجموعی ماحول بھی صاف و شفاف ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم بھی شاہراہ ترقی پہ گامزن ہوں۔ یہی وقت کی پکار ہے۔


