چترال اور الحاق پاکستان
سال 1947، یہ سال ہندوستان میں برطانوی راج سے آزادی کا سال تھا۔ اس سال برطانوی راج کی حکمرانی سے نکل کر برصغیر پاک و ہند نے اپنی آزادی حاصل کی۔ جس سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی ایک آزاد ملک پاکستان حاصل کی۔ یہ آزادی اور تقسیم دو قومی نظریے کے تحت ہوئی تھی۔
تقسیم کے وقت برصغیر پاک و ہند میں 560 چھوٹی اور بڑی ریاستیں شامل تھیں۔ (Jinnah papers، Volume no V)
ان ریاستوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ یا تو وہ انڈیا کے ساتھ شامل ہو جائیں یا پاکستان کے ساتھ شامل ہو یا پھر اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھ سکیں۔
اس وقت چترال بھی ایک آزاد ریاست ہوا کرتی تھی۔ جس کا حکمران مہتر مظفر الملک تھا ( نئی تاریخ چترال غلام مرتضیٰ ترجمہ وزیر علی شاہ) ۔
اگرچہ چترال اندرونی طور پر ایک آزاد ریاست تھی لیکن 1878 کے کشمیر کے ساتھ معاہدے، اور 1895 کے محاصرہ چترال کے بعد کے فیصلے کے اور 1914 کے مستوج ایگریمنٹ کے مطابق چترال نے کشمیر کی سیادت (sovereignty) قبول کی تھی اور اس کے بدلے چترال کو کشمیر دربار کی طرف سے سبسڈی کے طور پر خاصی بھاری رقم مل رہی تھی۔
(Aitchiston, A collection of Treaties , Engagement and Sanads)
(An official Account of Chitral expedition 1895, Captain William Robertson)
( Accession and integration of princely States, Yaqoob Bangesh)
لیکن پاکستان کے آزادی کے ساتھ ہی چترال نے پاکستان ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا۔
اس حوالے سے یعقوب بنگش اپنی کتاب A princely Affairs، The accession and integration of Princely State of Pakistan 1947۔ 1955 میں لکھتے ہیں کہ ”1930 کی دہائی میں اس وقت کے چترال کے حکمران مہتر ناصر الملک نے کشمیر دربار کو سالانہ نذرانہ بھیجنا بند کر دیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اب کشمیر کی سیادت (Sovereignty) ختم ہو گئی ہے“ ۔ ( A princely Affairs، Accession and integration of Princely States، Yaqoob Bangesh) ۔
3 اگست 1947 چترال کے حکمران مہتر مظفر الملک قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر ایک آزاد ملک کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور چترال کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ بھی سناتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔
” First of all, I wish to offer my heartfelt felicitations on the formation of the new Muslim state of Pakistan. The decision of Chitral State to join Pakistan has already been communicated to you telegraphically“ .
( Jinnah Papers, Volume Viii, Letter from the ruler of Chitral to Jinnah)
ہزہائی نس مزید اس خط کے اندر لکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر ریاست چترال کئی کئی برسوں سے اپنی آزاد حیثیت اور پہچان رکھتی ہے، برطانوی راج سے ہمارے تعلقات سے پہلے ہم افغانستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھتے تھے۔ لیکن ہمارے دادا ( امان الملک ) کے زمانے میں جب افغانستان نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار اپنایا تو ہمارے آبا و اجداد نے بھی برطانوی راج سے حفاظت کی طلب کی۔ ان دنوں تمام دیگر راستے افغانستان کے زیر اثر ہوتے تھے کشمیر واحد ذریعہ تھا کہ جس کے ذریعے ریاست چترال برطانوی راج سے رابطہ کر سکتی تھی۔ اور کشمیر کے ساتھ دوستی لازمی تھی۔
وہ لکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت ساتھ ہمارے پہلے تعلقات ہماری خود کی کوششوں سے 1885 میں قائم ہوئے تھے۔ بعد میں کشمیر نے چترال کے اوپر اپنی سیادت اور حاکمیت کا دعویٰ کرنا شروع کیا جو ہمیں اب بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ اور چترال کے لئے بدترین صورت حال یہ تھی کہ کشمیر کو برطانوی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ ریاست چترال اس وقت مقابلے کی طاقت نہیں رکھتی تھی اس لئے میرے آبا و اجداد نے دباؤ کے تحت کشمیر کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کر لئے۔ (ایضاً)
مظفرالمک کی اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ چترال نے یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا تھا ہاں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ افغانستان کی طرف سے حملے کا خطرہ ہوتا تھا حالانکہ کشمیر اور برطانوی حکومت کی طرف رجوع کے لئے چترال کی طرف سے پہل کی گئی تھی۔ اور موصوف کے آبا و اجداد نے کشمیر سے ملنے والی سبسڈی کا فائدہ اٹھایا کیونکہ یہ ریاست چترال کے لیے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
اور اس بارے میں Gazetteer of Eastern Hindukush میں لکھا ہے ”کہ مہتر کے ریوینیو میں سب سے بڑی رقم کشمیر سے سبسڈی کی شکل میں آتی تھی۔ دوسرے نمبر پر لکڑی کی تجارت اور تیسرے نمبر پر غلاموں کی تجارت سے آنے والی رقوم شامل ہیں“ ۔ (Gazetteer of Eastern Hindukush) اس بت سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کشمیر سے ایک خاصی موٹی رقم چترال کے حکمرانوں کو ملتی تھی۔
20 ستمبر 1947 کو مظفر الملک دوبارہ جناح صاحب کو خط لکھتے ہیں۔ جس میں جناح کو ریاست چترال کی طرف سے مالی مدد کرنے کے حوالے سے بتاتے ہوئے مظفرالمک لکھتے ہیں کہ،
”ریاست چترال کی پاکستان کے ساتھ شمولیت کے اعلان کے بعد سب سے میں سب سے زیادہ اس چیز کو لے کو پریشان ہوں کہ ہماری طرف سے بھی پاکستان کی کامیابی اور مضبوطی میں کچھ مالی اور معاشی حصہ شامل ہو۔ مالی حوالے سے اگرچہ چترال ایک امیر ریاست نہیں ہے اور فی الحال ہم اس پوزیشن میں بھی نہیں ہیں کہ ایک بڑی رقم دے سکیں لیکن ریاست کے پاس قدرتی وسائل، معدنیات اور جنگلات کی شکل میں موجود ہیں۔ پاکستان میں وسیع عمارتی پروگرام کو دیکھتے ہوئے مجھے خوشی ہے اور میں 5000 (پانچ ہزار) دیودار کے کھڑے درخت ( قیمت تقریباً 30 لاکھ) جو کہ ریاست چترال کے جنگلات میں کھڑی حالات میں موجود ہیں ریاست پاکستان کو عطیہ کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ ریاست کے اندر کافی معدنیات موجود ہیں۔ میں یہ معدنیات بھی خصوصی رعایت پر گورنمنٹ آف پاکستان کو پیش کرتا ہوں“ ۔ Ruler of Chitral to ) M۔ Ali۔ Jinnah 30 September ’s 1947 )
قائد اعظم محمد علی جناح 7 اکتوبر 1947 کو ایک خط ریاست چترال کے حکمران کے نام لکھتے ہیں۔ جس میں وہ مظفرالمک کے 20 ستمبر والی خط کا جواب دیتے ہیں۔ یہ ایک مختصر خط تھا جس میں جناح صاحب پاکستان کے ساتھ شمولیت پر مہتر چترال کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
جناح لکھتے ہیں۔
” میں پاکستان کے لیے آپ کی توجہ اور فکر کی قدر کرتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست چترال کی معیشت کے بارے میں بھی آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بھی نوٹ کرتا ہوں اور آپ کی طرف سے 5000 سبز دیودار کے درختوں کی پیشکش کے لئے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ آپ کا پاکستان میں شامل ہونا ہمارے مشترکہ فائدے میں ثابت ہو گا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو آپ اپنے نمائندے کو کراچی بھیجیں۔ تاکہ وہ آپ کے پاکستان میں شمولیت کی رسمی کارروائیوں کو پورا کرسکے“ ۔
( Jinnah Papers , Jinnah to Ruler of Chitral, 7th October 1947)
29 اکتوبر 1947 کو جناح صاحب کے خط کے جواب میں مظفر الملک ایک اور خط لکھتے ہیں۔ جس میں اس کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ شمولیت کی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لیے کسی نمائندے کی جگہ میں خود کراچی آنا چاہتا ہوں اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے گورنر سے بات چیت ہو چکی تھی کہ میرے کراچی کے سفر کے لیے ہوائی سفر کا بندوبست کیا جائے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں ہوائی سفر اور کا بندوبست کرنا اور خاص کر کراچی میں رہائش گاہ ڈھونڈنا نہایت مشکل ہیں۔ اور اسی دوران صحت نے بھی ساتھ نہ دینے کی وجہ سے یہ سفر مجبوراً معطل کرنا پڑا۔
” I have been considering the question myself, and I think it is much better if instead of sending a representative, I came to Karachi myself, so that besides going through the accession formalities personally, I may have the pleasure of paying my respect to you. I was intending to pay a visit to Peshawer, and had asked the Governor NWFP to arrange air passage for me from Peshawar to Karachi, but I was informed that there is a great difficulty these days of arranging air passage as well as finding accommodation in Karachi itself. Meanwhile owing to bad health, I had to postpone my visit to Peshawer for time being“ .
اس کے علاوہ اس خط میں مہتر چترال نے مشرقی پنجاب اور انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم اور سنگین جرائم کے حوالے سے اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی طرف سے 30000 روپے جناح ریلیف فنڈ کے لیے پیش کرتے کا اعلان کرتے ہیں۔
( Ruler of Chitral to Jinnah, 29 October 1947) .
چترال کی طرف سے الحاق کے لئے کافی پہل کرنے کے باوجود بھی گورنمنٹ آف پاکستان اور قائد اعظم محمد علی جناح اس معاملے میں کافی سنجیدگی اختیار کرتے ہیں۔ اور کافی عرصے تک کوئی بھی حتمی فیصلہ دینے سے احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
کیونکہ کشمیر کے ساتھ چترال کے تعلقات اور پیچیدگیوں کے حوالے سے جناح کافی محتاط تھے۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ تھا کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان اپنی پوزیشن کو کسی صورت میں بھی خراب کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ کشمیر نے 26 اکتوبر کو ہی انڈیا کے ساتھ الحاق کا قانونی یا غیر قانونی طور پر اعلان کر چکا تھا۔
ان تمام حالات کے باوجود قائد اعظم محمد علی جناح چترال کے معاملے میں جلد بازی سے کام نہیں لیا۔ آخر ایک سال کا دورانیہ بیت جانے کے بعد جناح صاحب چترال کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو قانونی طور پر قبول کر لیتے ہیں۔
اس حوالے سے یعقوب بنگش اپنی کتاب میں لکھتے ہیں
” جب کشمیر کا تنازعہ بڑھ جاتا ہے۔ اور لگ رہا تھا کہ اس کا کوئی فوری حل نہیں نکل رہا ہے جناح آخر کار 18 فروری 1948 کو ریاست چترال کی الحاق کو قبول کر لیتا ہے“ ۔ ( A princely Affairs، The accession and integration of Princely State of Pakistan 1949۔ 1955، Yaqoob Bangesh)
1947 سے 1969 تک ریاست چترال دھیرے دھیرے اپنی خودمختاری کھو دیتی ہے۔ اور آخر کار 1969 میں پاکستان کا ایک انتظامی صوبہ بن جاتی ہے۔
اگرچہ الحاق کر حوالے سے چترال کے مہتر نے جناح کے ساتھ کافی خط و کتابت کی ہے لیکن اس دوران جناح کو ایک خط چترال کے عوام کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں جناح صاحب سے انتہائی دردمندانہ اپیل کی گئی تھی کہ ریاست کے حکمران سے ہمیں کسی طرح آزاد کیا جائے۔ اس خط میں مظفر الملک کو ظالم اور نا انصاف کہہ کر لوگوں نے جناح سے مدد کی درخواست کی تھی۔ خط میں درج ذیل لوگوں کے نام دستخط کے طور پر شامل تھے۔
1۔ شیر صوبیدار
2 میر ژالہ خان
3 جمعدار
4 سیدان خان حوالدار۔
(Jinnah Papers, Volume Viii, letter from Muslims of Chitral to Jinnah )
….
Primary sources..
1……Jinnah Papers, Volume 5
2…..Jinnah Papers, Volume Viii, letter from ruler of Chitral to Jinnah, 3 August 1947 .
3….ibid ….letter from ruler of Chitral to Jinnah, 20 September 1947.
4……ibid…letter from Jinnah to Ruler of Chitral, 7 October 1947.
5….ibid …letter from ruler of Chitral to Jinnah, 29 October 1947…
6…..ibid….letter from Muslims of Chitral State to Jinnah,,, 3 March 1947…
Secondary sources….
1……An official Account of Chitral expedition 1895, Captain William Robertson…
2 A princely Affairs, Accession and integration of Princely States, Yaqoob Bangesh..
3…….. Aitchiston, A collection of Treaties, engagement and Sanads….
4 Gazetteer of Eastern Hindukush…
5 نئی تاریخ چترال، غلام مرتضیٰ ترجمہ وزیر علی شاہ۔

