وی اے آر ٹیکنالوجی اور فوائد


وی اے آر یا وڈیو اسسٹنٹ ریفری ٹیکنالوجی کھیل کے میدان میں موجود ریفری کو اپنے کیے گئے فیصلے کو درست ثابت کرنے یا اپنے فیصلے کو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ جائزہ لینے میں مدد مہیا کرتی ہے۔ اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو کھیل کے میدان میں لاگو کرنے اور اس کے استعمال کے لئے اس کی ٹیم میں ایک وڈیو اسسٹنٹ ریفری اور اس کے ساتھ تین ساتھی اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں۔ اس کا استعمال کھیل کے میدانوں میں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ یہ اب کرکٹ اور فٹ بال کے میدان میں نہایت موثر و آزمودہ ٹیکنالوجی ہے۔

کھیلوں اور بچوں کی گیمز میں وی اے آر ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ورلڈ کپ فٹبال میں گول لائن ٹیکنالوجی کا استعمال، خود کار روبوٹ فٹبال کھیلنا، اور ویڈیو گیمز میں اے آر کی ٹیکنالوجی کا استعمال مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ، وی اے آر ٹیکنالوجی کو کھیلوں میں کوچنگ اور تربیت کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے جیسے کہ تجزیہ و تبصرہ کے لئے تجاویز دینا اور ہدایتیں فراہم کرنا۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف کھیلوں یا گیمز میں ہی نہیں ہو رہا بلکہ اسے تعلیمی کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

چلنے پھرنے والے روبوٹس طالب علموں کو ٹیکنیکل علم کی فراہمی کے علاوہ دوسری معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ صحت کی میدان میں وی اے آر کے حامل چلتے پھرتے روبوٹس صحت بارے معلومات و بیماریوں بارے لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ترقی کے لئے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام تک معلومات کی فراہمی، بنیادی سہولتوں بارے آگاہی وغیرہ۔ بنیادی طور پر کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی پہلوؤں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

گو کہ ابھی یہ ٹیکنالوجی فی الحال کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ لیکن بعد ازاں اس نے ہماری روزمرہ زندگی میں اپنا اثر جمانا شروع کرنا ہے۔ اب سائنسی ترقی کا دور ہے اور ہر قوم اس دوڑ میں آگے نکلنے کی جستجو کر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے اہداف مقرر کر رکھے ہیں اور ایسی تمام ٹیکنالوجی کو زیر استعمال لانے میں جڑے ہوئے ہیں جس سے ان کے معاشرے میں نمایاں ترقی ہو اور عوام اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوں۔

وی اے آر ٹیکنالوجی کے خیال کو رائل نیدرلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن نے 2010 ء میں اپنے ایک پراجیکٹ کے ذریعے اسے دنیائے فٹبال میں متعارف کروایا۔ جسے بعد ازاں 13۔ 2012 ء میں آزمائش کے لئے پیش کر دیا گیا اور پھر اس کا استعمال آزمائشی طور شروع ہو گیا۔ جب یہ ٹیکنالوجی آزمائشی دور سے گزری اور اس کے نتائج و فوائد احسن طور برآمد ہوئے تو اسے بین الاقوامی فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ کو پیش کر دیا گیا، تا کہ فٹبال کھیل کے ضوابط میں تبدیلی لاتے ہوئے اس کا استعمال زیادہ کیا جائے۔

جس کی منظوری بورڈ نے دیتے ہوئے اس کے استعمال کی اجازت 2016 ء میں دے دی۔ ایسی بات نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں سو فیصد درست ہے۔ پرتگال کے ایک میچ میں ایک پرستار کے جھنڈا لہرانے کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کے نظام میں خلل پڑا۔ اسی طرح آسٹریلیا میں ایک میچ کے دوران ٹیکنالوجی کے سافٹ وئیر میں گڑبڑ ہو جانے سے جیتنے والی ٹیم کو غلط سکور کی وجہ سے کامیاب قرار دیا گیا۔ جب کہ میچ کا نتیجہ کچھ اور بھی ہو سکتا تھا۔ اب ان کمزوریوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔

فیفا کے 2018 ء کے ورلڈ کپ میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو کامیاب گردانا گیا۔ اور اب کرکٹ اور فٹبال دونوں میں اس کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ وی اے آر ٹیکنالوجی اب فٹبال و کرکٹ کے کھیل کا حصہ بن چکی ہے لیکن اس کی لاگت پاکستان میں فی میچ بیس تا پچیس لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے جو بہت زیادہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میچ کو تواتر سے مانیٹر کرتی ہے۔ جس میں سیریس فاؤل، کھلاڑیوں کی پوزیشنوں کی تبدیلی تا کہ معلوم ہو بالخصوص جب کہ کھلاڑی آف سائیڈ ہو تو معلوم ہو کہ فارورڈ کھلاڑی کی پوزیشن دفاعی کھلاڑی کے مقابل کیا تھی۔ ڈی کے ایریا میں ہینڈ بال یعنی پینلٹی ہے کہ نہیں، گول، ریڈ کارڈ کا اجراء، دی گئی غلط پینلٹی کے فیصلے کی تصحیح کرنا اس میں شامل ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کی بدولت ریفریوں کے صحیح فیصلوں کی اوسط 92.1 سے بڑھ کر 98.3 فیصد ہو گئی ہے۔ گو کہ وی اے آر ٹیکنالوجی کی بدولت ریفری اپنے فیصلے درست صادر کر رہے ہیں لیکن ابھی بھی کبھی فریم کی رفتار فٹبال میچ کے رفتار سے مطابقت نہ رکھتے ہوئے غلطی کا امکان رہتا ہے۔

کچھ ایسا ہی آج کل کھیلے جانے والے پی ایس ایل کے ایک میچ کے دوران ہوا جب کہ کھلاڑی آؤٹ تھا لیکن فریم کی رفتار بال کی رفتار سے مطابقت نہ رکھنے سے اسے ناٹ آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ جس کا اثر ٹیم پر پڑا اور وہ میچ ہار گئے۔ جب دوبارہ فریم کو دیکھا گیا تو پتہ چلا کھلاڑی آؤٹ تھا لیکن کھیل ختم ہونے اور ہار جیت کا فیصلے ہو جانے کی صورت میں اب کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بس صرف معافی مانگ کر اپنی ذمہ داری سے نجات حاصل کر لی گئی۔

ترقی یافتہ ممالک کے لئے اس ٹیکنالوجی کا حصول اور عملی جامعہ پہنانے میں اتنی تگ ودود نہیں کرنی پڑتی لیکن ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے فٹبال کے کھیل میں اس کو لاگو کرنا مشکل کام ہے۔ صرف گول کو کنفرم کرنے کے لئے گول لائن ٹیکنالوجی کی لاگت تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر ہے جس پر مزید ہر میچ کے لئے تین ہزار نو سو ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ جب بال گول لائن کراس کرتا ہے تو ریفری کی کلائی پر بندھی گھڑی اسے واضح اشارے کی بدولت گول بارے آگاہ کر دیتی ہے۔

Facebook Comments HS