سینیارٹی نظر انداز کرنے کی تاریخ


Hassan Umar Sahafi

پاکستان میں زیادہ تر سینیارٹی کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پاکستان کے آئین کو بنے ہوئے تقریباً 51 سال مکمل ہونے کو ہیں مگر آج بھی عملی طور پر یہ طے نہیں ہو سکا کہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کیسے سفر کریں۔

عدلیہ کی بدترین تاریخ کے موجد جسٹس منیر تھے جس کے الفاظ یہ تھے کہ ”ضرورت غیر قانونی کام کو قانونی بنا دیتی ہے،“ جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور حالیہ بھٹو پھانسی کیس میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی فیصلے میں ٹرائل کا طریقہ کار مکمل نہیں تھا، انہیں فیئر ٹرائل نہیں دیا گیا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

سینیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ججز اور جرنیل لانے کی خواہش نے ملک کو بحرانوں میں دھکیلا اور آج بھی ملک انہی بحرانوں سے دو چار ہے۔ سینیارٹی کو نظر انداز کرنے کی کمزوریاں ماضی کے اکثر مقبول وزرائے اعظم میں بھی نظر آتے ہیں کہ سنیارٹی کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند افراد کو آرمی چیف بنانا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے من کی مرادیں حاصل نہ کر سکا۔

1965 ء کی جنگ کا فاتح کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان بھی سنیارٹی کے بنیاد پر کمانڈر انچیف نہیں بنا تھا اور جب سکندر مرزا اپنی جلا وطنی کے پہلے مرحلے میں کوئٹہ روانہ ہو چکے تھے یہ وہ دن تھے جب جنرل موسیٰ خان کو کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ ایوب خان صدر مملکت کے طور پر اور جنرل موسیٰ خان کمانڈر انچیف کے طور پر تقریباً دونوں کا کیریئر ایک ساتھ شروع ہوا تھا۔

جنرل موسیٰ خان کو کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے دو بار ایکسٹینشن دی گئی تھی اور 1965 ء کی جنگ کے بعد جب وہ ریٹائر ہو گئے تھے اور انہیں گورنر مغربی پاکستان تعینات کر دیا گیا اور 1985 ء میں انہیں گورنر بلوچستان لگایا گیا اور 1991 ء میں اپنی وفات تک وہ گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔ میں یہاں ایک بات واضح کروں کہ سینیارٹی کو نظر انداز کر کے کمانڈر انچیف مقرر کرنا 1958 ء سے نہیں بلکہ 1951 ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔

جبکہ 1951 ء میں میجر جنرل محمد اکبر خان اور این اے ایم رضا ایوب خان سے بھی سینیئر جرنیل تھے لیکن سکندر مرزا جو اس وقت سیکریٹری ڈیفنس تھا انہوں نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قائل کیا کہ وہ ایوب خان کو کمانڈر انچیف بنائیں پر بعد میں ایوب خان پاکستانی فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ بنے۔ ڈاکٹر اشتیاق لکھتے ہیں کہ ایوب خان نے امریکیوں کو قائل کر لیا کہ وہ پاکستان کی فوجی مدد کریں۔ 1966 ء صدر ایوب نے ایک بار پھر دو سینیئر جرنیلوں لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر اور لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا کی سینیارٹی کو نظر انداز کر کے جنرل یحیٰی خان کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔

جب صدر ایوب نے استعفیٰ دیا تو انہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ کے سپرد کر دیا جنہوں نے 25 مارچ 1969 ء کو مارشل لا لگا دیا اور پھر سقوط ڈھاکہ ہوا۔

1976 ء میں بھٹو صاحب نے بھی سات فوجی افسران کی سینیارٹی کو نظر انداز کیا جن میں لیفٹیننٹ جنرل محمد شریف، اکبر خان، آفتاب احمد، عظمت بخش اعوان، ابراہیم اکبر، عبد المجید ملک اور غلام جیلانی خان تھے جنہوں کی سینیارٹی کو بھٹو صاحب نے نظر انداز کر کے جونئیر جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا۔ ان صاحب نے 1977 ء کو مارشل لا لگایا اور 1979 ء کو بھٹو صاحب کو پھانسی پر لٹکانے میں اہم کردار تھا۔

سینیارٹی کو نظر انداز کرنے کی غلطیاں ایک نہیں بار بار نواز شریف صاحب سے ہوئیں۔ 1988 ء میں دو فوجی جرنیلوں کی سینیارٹی کو نظر انداز کر کے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنا دیا گیا۔ جنرل علی قلی خان سب سے سینیئر تھے اور اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز تھے لیکن نواز شریف صاحب نے مشرف کو پہلے دو پر فوقیت دی اور مشرف ایک سال کے اندر اندر نواز شریف صاحب کو اقتدار سے فارغ کر کے خود قابض ہو گیا اور پھر یوں نواز شریف نے 2013 ء میں دو فوجی جرنیلوں کی سینیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف بنا دیا۔ بعض خبروں کے مطابق یہ صاحب مارشل لا لگانے والا تھا لیکن کچھ ساتھی افسران نے روکا۔

پھر 2016 ء میں وہی میاں صاحب اور پھر وہی پرانی غلطی ایک بار پھر کر دی ایک بار پھر چار سینئر جرنیلوں کی سینیارٹی کو نظر انداز کر کے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنا دیا اور ایک بار پھر ہمیں خلائی مخلوق کے خلاف نعرہ سنائی دیے پھر 2019 میں جنرل باجوہ کے بطور آرمی چیف تین سال مکمل ہو چکے تھے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم اور آج کے ’قیدی نمبر 804‘ ، صدر زرداری اور میاں برادران نے مل کر جنرل باجوہ کو توسیع دی۔

ایک بات قابل تعریف ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب سنیارٹی کے بنیاد پر اپنے عہدے پر اپنی ذمے داری سرانجام دے رہے ہیں۔ جنرل پرویز کیانی کے بعد جنرل عاصم منیر صاحب سینئر موسٹ جنرل ہیں جو 2022 ء میں پاک افواج کے آرمی چیف بنے۔

مجھے یہاں ظہیر احمد ناج کا شعر یاد آ رہا ہے،
آنسو جو امنڈ کر آہی گئے کچھ بات تھی دل میں رہ نہ سکے،
جذبات محبت رک نہ سکے ہم حال زباں سے کہہ نہ سکے۔

Facebook Comments HS