بے مہار مہنگائی، وزیر اعلیٰ پنجاب سے چند گزارشات!
ملک میں بارہویں عام انتخابات ہونے کے بعد وفاق اور صوبوں میں نوے فیصد حکومت سازی مکمل ہو چکی ہے سینیٹ انتخابات کے بعد باقی ماندہ دس فیصد حکومت سازی کا مرحلہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ معاشی آسودگی کی راہیں تکتے تکتے عام آدمی اعصاب شکن مسائل کی دلدل میں پور پور دھنس چکا ہے۔ مسائل کا حل قطعاً وعدے وعید اور اعلانات میں پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ مسائل کے حل کے لئے حکومتیں عوام کے سامنے روڈ میپ رکھتی ہیں اور پھر ٹھوس عملی اقدامات کے ساتھ اس پر عمل کر کے مسائل کو حل کرتی ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر زرخیز ملک میں اب تک جتنی بھی حکومتیں عوام کے دوام سے معرض وجود میں آئیں انہوں نے غربت‘ بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں کمی کے ہیرا پھیری سے ایسے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھ کر دھول جھونکی جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ ملک میں غربت ’مہنگائی اور بے روزگاری ایسے مہلک مسائل ہیں جس کے بطن سے مزید مسائل جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ملک میں غربت کے درست اعداد و شمار کیا ہیں غربت اس نہج پر پہنچ چکی ہے شاہراؤں‘ چوراہوں اور عوامی مقامات پر گدا گر اور مزدور پیشہ افراد کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں جن کے ہاتھ اور نظریں چند روپوں کی متلاشی ہوتی ہیں۔
آبادی میں ہوشربا اضافہ اور معاشرے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ’ناخواندگی‘ ہنر کا فقدان ’روزگار کے مواقع میسر نہ ہونا ایسے عوامل ہیں جو غربت‘ بے روزگاری اور مہنگائی میں تواتر کے ساتھ اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت نے اس ضمن میں عملی اقدامات نہیں اٹھائے جس سے عام آدمی کی زندگی میں آسودگی آ سکے۔ ترقی یافتہ ممالک کے رول ماڈل کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا ان ممالک نے عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی عام آدمی کی حیات پر گرہ کس رہی ہے عام آدمی کے پاس روزگار کے مواقع نہیں ہیں یہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے کہ عام آدمی کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ غربت اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے ہمیں پہلے ان اسباب کا جائزہ لینا ہو گا جو مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں جب تک ان مہلک اسباب کا تدارک نہیں ہو گا معاشرے میں ہیجانی کیفیت برقرار رہے گی اور مسائل عام آدمی کی پشت پر کوڑے کی صورت برستے رہیں گے۔
کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے اس کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر کسی بھی مسئلہ کا پائیدار حل ممکن نہیں ہوتا۔ جب تک انقلابی اقدامات اٹھاتے ہوئے پیشہ وارانہ اہلیت کے حامل اور قابل لوگوں کو مختلف شعبہ جات میں جگہ نہیں دی جائے گی اور ٹھوس مثبت معاشی پالیسیاں ترتیب دے کر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جائے گا غربت ’بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ کے مہیب سائے منڈلاتے رہیں گے۔ مریم نواز شریف آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ بنتے ہی انہوں نے متعدد عوامی و فلاحی منصوبوں کے اعلانات کیے ہیں راقم کی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں منہ زور‘ بے مہار مہنگائی نے عام آدمی کی نسیں بند کر دی ہیں اس وقت عام آدمی کو تن آسانی کے ساتھ دو وقت کی روٹی درکار ہے۔ ماہ رمضان میں تو جس انداز میں برق رفتاری کے ساتھ اشیائے خورد و نوش اور سبزیوں ’پھلوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں آسودہ حال انسان کو بھی اس کمر شکن مہنگائی نے پریشان کر دیا ہے۔
ضلع سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں نہ ہونے کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کوئی روک نہیں ہے ایسے تکلیف دہ حالات میں عام آدمی کی گزر بسر کیسے ہو گی۔ ملک میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں ایک گھر کا کفیل جس کے پاس روزگار نہیں ہے وہ کیسے اپنے بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلا سکتا ہے، غربت‘ بے روزگاری اور مہنگائی ایسے مسائل ہیں جن کو سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مسائل کے مستقل حل کے لئے عوام کے سامنے روڈ میپ رکھیں تاکہ عام آدمی کی نئی حکومت سے وابستہ امید کو جلا مل سکے ’روٹی‘ کپڑا ’مکان‘ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عام آدمی کو فراہمی ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
آپ بارہ کروڑ عوام کی سربراہ ہی نہیں بلکہ بارہ کروڑ عوام کی آپ امید ہیں اس وقت آپ نے جتنے عوامی منصوبوں کا اعلان کیا ہے وہ بھی اپنے وقت پر پایہ تکمیل تک ضرور پہنچیں لیکن اس وقت موجودہ حالات میں عام آدمی کے لئے روزگار ’مہنگائی اور غربت صف اول کے مسائل ہیں جن کے تدارک کے لئے فوری عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ مریم نواز صاحبہ ان مسائل پر پہلے فوکس کریں تاکہ عام آدمی جو ان مسائل کے دو پاٹوں میں پس کر رہ گیا ہے ان کی اشک شوئی ہو سکے۔
ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث عام آدمی کی معاشی مشکلات میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کمر شکن مہنگائی کے دور میں گھر کا واحد کفیل گھر کے اخراجات کیسے پورا کرے‘ بجلی و گیس کے بھاری بھر کم بل ’بچوں کی سکول فیس‘ پٹرول کا خرچ اس کے لئے سوہان روح بن چکے ہیں۔ یہ مسائل پاکستان میں اب کسی ایک گھر ’دفتر تک محدود نہیں پٹرول‘ گیس ’بجلی اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں نے ہر طبقہ کو متاثر کیا ہے۔
موجودہ حالات کی گھٹن میں عام آدمی گھر کا کرایہ ادا کرے‘ راشن خریدے یا بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرے مہنگائی نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ یہ عام آدمی کے ایسے مسائل ہیں جو اس کی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ کر کم کر رہے ہیں۔ جس ملک میں ایک اچھی نوکری کرنے والے کو گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے پارٹ ٹائم ملازمت کرنا پڑے وہاں ایک عام آدمی کے لئے گھر کے اخراجات پورے کرنا کیسے ممکن ہے ملک میں روزگار نہیں مہنگائی اور غربت انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ حکومت پنجاب اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہو جائے صوبہ میں مہنگائی کو کم کرنے ’روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ضروری عملی اقدامات اٹھائے۔ ترقیاتی منصوبوں پر کچھ عرصہ کے لئے روک لگا دیں اور عوام کی مالی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے اس کی معاشی آسودگی کے لئے بروقت اقدامات اٹھائیں۔ مہنگائی‘ بے روزگاری سے جنم لینے والی سفاک غربت خودکشیوں اور خود سوزیوں کو جنم دے کر جیتی جاگتی زندگی کی قندیلوں کو بجھا رہی ہے ایسے حالات حکمرانوں اور معاشروں کے لئے الارمنگ اور فکر مند اشارہ ہوتے ہیں۔


