روزہ ہونا اور روزے سے ہونا

غریب، پسماندہ و درماندہ معاشروں میں لوگ سال بھر اور ہمہ وقت روزے سے ہوتے ہیں۔ یہ روزے آرزووں کے حسرت ہو جانے، تمناؤں کے قتل ہو جانے اور خواہشوں کا گلا دبا دینے کے ہوتے ہیں۔ یہ روزے فرضی نہیں جبری ہوتے ہیں اور جبر زمین کے خداؤں کا وتیرہ ہے جن کے بقول یہ خدائے آفاق ہی کی طرف سے ہیں اور ان پر بھی اجر و ثواب کا وعدہ ہے گر، صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے! نیز یہ کہ ایسے دائمی روزے کسی مذہبی حکم کا تقاضا، مذہبی گروہ یا مذہبی مسلک کے لوگوں پر ہی عائد نہیں ہوتے بلکہ بلا امتیاز رنگ و نسل، علاقہ و قومیت، عقیدہ و مسلک سب ہی کو رکھنے پڑتے ہیں۔
دوسری طرف روزہ ہونے سے خاص مراد ہے۔ یہ روزے وقت کی پابندی و تخصیص، ماہ و ایام کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی محدود، گنے چنے ہوتے ہیں۔ ان کا آغاز و اختتام قمری تقویم کے ساتھ منسلک ہے۔ ان روزوں میں جبر نہیں، فرضیت ہوتی ہے اور فرضیت کے مکلف خالص مذہبی عقیدے کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان پر صبر و استقامت کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ کائناتی خدا نے دے رکھا ہے۔
یہ روزے پسماندہ، ترقی پذیر و ترقی یافتہ معاشروں کے سبھی امیروں و غریبوں پر یکساں فرض کیے گئے ہیں۔ ان روزوں کی حجیت؛ مذہبی حکم، غرض؛ فرد کی اخلاقی بالیدگی اور غایت؛ افراد معاشرہ کی اس طرز پر معاشی تربیت بتائی گئی ہے کہ بھوک میں بھوکوں کا احساس شکم پروری اور پیاس میں پیاسوں کی خشکی لب کے درد کو نہ صرف سمجھا جائے بلکہ اس تجربے سے گزر کر بھوک و افلاس کا سد باب کیا جائے
مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ادا کر دینے کی تلقین کا اطلاق یہیں اجر و ثواب کی صورت ہوتا ہے البتہ ثواب و گناہ کا ترازو یہاں نہیں اگلے جہاں میں لگنا ہے جدھر سب نے مر کر جانا ہے۔ جنت اور اس کی دیگر بیش بہا نعمتوں سے استفادے کے لیے یہاں کا ہر باعث ثواب عمل ہی وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔
ارتکاز دولت کے نتیجے میں رزق انسانی کی تقسیم توازن کھو بیٹھتی ہے جس کی مساوی تقسیم کا وعدہ، انسانی کوشش کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے خدائے واحد نے انسانوں سے کر رکھا ہے۔ ناخداؤں کے جبر ناروا اور غاصبانہ قبضے نے یہاں بہت سوں کو روزے سے رکھا ہوا ہے۔
سوال ہمارے سامنے کھڑا جواب طلب یہ ہے کہ اولاً ہم میں سے کتنے روزوں سے ہیں اور کس کس کا روزہ ہے؟ ثانیاً جن جن کا روزہ ہے، کیا وہ روزے کی غرض و غایت کے امین ہوتے ہوئے ان تمام افراد کی شکم سیری کر رہے ہیں جو روزے سے ہوتے ہیں یا کم از کم روزے سے حاصل ہونے والا، بھوک اور پیاس کا تجربہ ان میں افلاس کے سد باب کا جذبہ پیدا کر رہا ہے؟
اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ جس نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دے گا۔ کیا ہم ایمان سے ہیں اور کیا ہم اپنے آپ کو اپنے ہی سامنے احتساب کے لیے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے قابل ہیں؟ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے ان سوالوں کا جواب طلب کرنا چاہیے تب ہی ہم رمضان کی برکتیں سمیٹنے کے قابل ہوں گے!
اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور جو روزوں سے ہیں ان کی داد رسی فرمانے کے لیے ہمیں وسیلہ بنائے آمین!
خود نوشت۔

