سردار شاہ آگے بڑھو ہم آپ کے ساتھ ہیں


سندھ میں تعلیم کے وزیر سردار شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ گھر نہیں بیٹھیں گے اور سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ کام کریں گے۔ میں ان کے اس ریزولو کو سراہنا چاہتا ہوں کہ اب ان کو یہ خیال آیا کہ ساری چیزوں کو خود دیکھنا چاہیے۔ میں سندھ کے تعلیم کے وزیر سردار شاہ کا بہت بڑا ناقد رہا ہوں اور ان کی وجہ صرف یہ ہے سردار شاہ نے اپنے پچھلے دور میں تعلیم کا کام دوستوں اور یاروں کے حوالے کر دیا تھا اور اس کے دوست ان کو ہمیشہ اپنے فائدے میں غلط مشورے دیتے تھے۔ اس لیے اکثر ان کے فیصلے پر عمل نہیں ہوتا تھا اس لیے اس پر بہت تنقید ہوتی تھی۔

میں سب سے پہلے وزیر تعلیم کے پچھلے دور میں جو غلطیاں ہوئی اس پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں یہ غلطیاں اب نہیں ہوگی۔ سردار شاہ اکثر اپنے دوستوں کے کہنے پر میڈیا پر ایسے بیان داغ دیتے تھے جس پر وہ کبھی عمل نہیں کرا سکے۔ جیسا کہ اس نے کہا کوئی پرائیویٹ اسکول ٹیچر کو 25000 سے کم تنخواہ نہیں دے سکتا لیکن اس پر عمل ہی نہیں ہو سکا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جو پرائیویٹ اسکول سندھی نہیں پڑھائے گا اس کی رجسٹریشن ختم کر دی جائے گی لیکن کسی بڑے اسکول کی رجسٹریشن ختم نہیں ہوئی اور آج تک بڑے اسکولوں میں سندھی نہیں پڑھائی جاتی۔

جب عمل نہیں کرا سکتے تو ایسے اعلان کرتے ہی کیوں ہو۔ تعلیم کے وزیر سردار شاہ نے پریس کانفرنس کر کہ کہا کہ سندھ سنگل نیشنل کریکیولم پر عمل نہیں کرے گا کیوں کہ 18 ترمیم کے بعد ہر صوبہ اپنا کریکیولم خود بنائے گا یہ وہ وقت تھا جب عمران خان وزیراعظم تھے۔ لیکن جیسے ہی عمران خان کی حکومت گئی سندھ میں بھی سنگل نیشنل کریکیولم پر عمل ہونا شروع ہو گیا۔ ورکنگ گروپ بنے اور جو مذہبی مواد سنگل نیشنل کریکیولم میں تھا اس پر سندھ میں بھی عمل ہونا شروع ہو گیا۔

جب ناہید شاہ سندھ ایجوکیشن کی مینیجنگ ڈائریکٹر تھی اس وقت سردار شاہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی پالیسی پر نجی محفل پر بڑی تنقید کرتے تھے کہ ناہید شاہ کسی کی نہیں سنتی جب وہ چلی گئی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں کرپشن بڑھ گئی۔ جس دن اسکول کی انسپیکشن ہوتی تھی اور اسکولوں مٰیں بچوں کا ہیڈ کاؤنٹ ہوتا تھا اس دن گورنمنٹ اسکول کے بچے ایس ای ایف کے اسکول میں آ جاتے تھے اور ان انٹرپرینر کو بچوں کے حساب سبسڈی ملتی تھی۔ اور بہت سارے اسکول بند کر دیے گئے اور سندھ میں بڑا احتجاج ہوا مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

سندھ کے پالیسی کے ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ نے ایک آرڈر نکالا کہ سبجکٹ اسپیشلسٹ کسی پروجیکٹ میں کام نہیں کرے گا کیوں کہ ہائر سیکنڈری اسکولوں میں سبجکٹ اسپیشلسٹ نکل جاتے ہیں اور بچوں کو انگلش، کمپیوٹر، فزکس، کیمسٹری پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مگر سردار شاہ کے پچھلے دور میں اس آرڈر کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا اور ان کی سفارش پر آج بھی سبجکٹ اسپیشلسٹ بہت سارے پروجیکٹس میں کام کر رہے ہیں۔

سردار شاہ کے پچھلے دور میں تھوک کے حساب سے لوگوں کی پروموشن کی گئی۔ اور جو لوگ پروموشن کے امتحان میں فیل ہوئے ان کو تین تین دفع چانس دی کر 17 سے 18، 18 سے 19، اور 19 سے 20 گریڈ دے دیے گئے ہین جب کے ان کی پرفارمنس پر سیکٹری اسکول ایجوکیشن خود کہتے رہے کہ ہمارے ڈی اوز اور ٹی اوز نا اہل ہیں مگر ان نا اہل کو پروموٹ کر دیا گیا۔ اب وہ کیا کام کریں گے جو پہلی پوزیشن پر بھی کام نہیں کرتے تھے۔

سندھ کی تعلیم کے سب سے اہم کام اسکول اینیول سینسس ہے وہ کبھی بھی صحیح طریقے سے نہیں ہوئی، اور اس وجہ سے بچوں کو 2023 میں کتابیں نہیں ملی۔ کوئی اسکولوں کا ڈیٹا ہی نہیں ہوتا۔ کہیں کتابیں زیادہ مل گئی اور کباڑی کے پاس بکنے لگی اور کہیں بالکل نہیں ملی۔

میں خود سی ایم سندھ کے سیمینار اٹینڈ کرتا رہتا ہوں اور وہ اپنے تقریر میں کہتا ہے تعلیم کے لیے جتنا پیسہ چاہیے میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اس کے باوجود اسکولوں میں فرنیچر نہیں۔ ہر سال ریجن پر 40 سے 50 ملین کا فرنیچر کا بجٹ آتا ہے مگر وہ لیپس ہو جاتی ہے یا کچھ لوگوں کے جیب میں چلا جاتا ہے مگر اسکولوں کو فرنیچر نہٰیں ملتا۔

میں آخر میں بڑے احترام کے ساتھ وزیر تعلیم کو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ خود چیزوں کو دیکھیں اور اس کے بعد عمل کریں۔ جو لوگ آپ کو مس گائیڈ کرتے ہیں ان سے دور رہیں اور تعلیم کے لیے کام کریں، پورا سندھ آپ کے ساتھ ہوگا۔

Facebook Comments HS