پولیو کو شہہ مات !
ایف ایم الیگزینڈر کا قول ہے کہ لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے رویوں کا فیصلہ کرتے ہیں اور ان کے رویے ہی ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کرہ ارض پر ہم اپنے ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ تنہا اور اکیلے کھڑے ہیں، باقی دنیا نے اپنے رویے سے اعتماد اور یقین سے چوٹی سر کرلی ہے انہوں نے اپنے معاشرے اور اپنی دنیا کو پولیو جیسے مرض سے چھٹکارا دلانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے، ان کی کامیابی و کامرانی یقیناً ان کے اپنے اداروں پر اعتماد اور اپنے رویؤں میں مثبت کردار کے مرہون منت ہیں۔
ہم سے بڑی آبادیاں بھی کامران ہوئی ہیں، ہم سے غریب اور مفلس دنیاؤں نے بھی اپنی جہاں کو پولیو سے پاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، مسلم امہ بھی سعودیہ سے لے کر انڈونیشیا جیسی بڑٰی آبادی رکھنے والے ملک اور افریقہ کے مفلوک الحال ممالک نے بھی پولیو وائرس کو مات دے دی ہے، تاہم یہ مات ساری انسانیت کے لیے شہ مات اگر نہیں ہے تو وہ ہماری وجہ سے ہے، ہمارے رویوں میں منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے اور اعتماد میں کمی کی وجہ سے ہے کہ جس کے سبب عالمی ادارہ صحت اس کرہ ارض کو پولیو سے پاک قرار دے سے قاصر نظر آتا ہے۔
پولیو وائرس ایک ایسا وائرس ہے جو کہ صرف انسانوں میں ہوتا اور پنپتا ہے، اس وائرس کو نہ حیوانات اور نہ ہی پودوں میں جائے پناہ حاصل ہے، اسی بنا پر اسے جڑ سے ختم کرنا ممکن ہے، پولیو وائرس کے علاوہ دیگر بیماریاں حیوانات اور پودوں میں بھی افزائش نسل پاتی اور انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں لہذا ان پر مکمل طور پر قابو پانا اس قدر آسان اور ممکن نہیں جس قدر پولیو وائرس پر قابو پانا ممکن ہے، بلکہ ہم جانتے ہیں کہ باقی دنیا نے پولیو وائرس پر مکمل قابو پاکر پولیو سے پاک ممالک کے طور پر عالمی ادارہ صحت سے سرٹیفکیشن حاصل کرلی ہے۔
تو پھر پوری دنیا کو پولیو سے پاک قرار دینے میں کیا امر مانع ہے؟ جی ہاں وہ ہمارے رویے ہیں ہمارے رویوں میں اعتماد، اعتبار اور یقین کا فقدان ہے۔ ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کے اپنے پلے باندھ دیتے ہیں اور اس کے مضمرات جانے بغیر اسے پھیلا دیتے ہیں، ہمارے یہی رویے ہمارے اعتماد، اعتبار اور یقین کو متزلزل کرتے ہیں، ہم پولیو وائرس کے خلاف قومی مہم کے دوران چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتے ہیں اپنے بچوں کو ویکسین نہیں کرواتے جو کہ پھر پولیو وائرس کا آسان ہدف اور شکار بن جاتے ہیں۔
ایک طرف ریاست اپنی ہر ممکن کاوشیں کر رہی ہے، محکمہ صحت کے ماہرین نے پولیو ویکسین کو محفوظ اور مضر اثرات سے پاک قرار دیا ہے، ہر مکتبہ فکر کے علماء، مفتیان اور مدارس سے پولیو ویکسین کے بارے میں فتویٰ جات دیے جا چکے ہیں، گزشتہ قریبا تیس سالوں سے پولیو وائرس کے خلاف قومی مہمات میں ہم نے پولیو ویکسین کے مضر اثرات نہیں دیکھے البتہ باقی ساری دنیا نے ان ہی ویکسین سے پولیو وائرس پر قابو پایا اور ہمارے ہاں بھی پولیو وائرس کے تین اقسام میں سے دو کا خاتمہ ہو چکا ہے صرف ایک قسم کا خاتمہ ابھی ہونا ہے، تو پھر اس کے باوجود بھی اگر کوئی امر مانع ہے تو وہ ہمارے رویے ہیں، ہم دودھ اور خوردنی گھی میں ملاوٹ پر معترض نہیں ہوتے خود بھی زہر کھاتے اور اپنے بچوں کو بھی کھلا اور پلا رہے ہوتے ہیں، مقامی سطح پر تیار دو نمبر ادویات پر اعتراض نہیں کرتے جو ہمارے لیے مہلک ثابت ہو رہے ہیں اشیاء خورد و نوش کی قریبا ہر چیز ہمارے ہاں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں مگر ہمارا دھیان اس طرف جاتا نہیں، ہم اعتراض کرتے ہیں تو پولیو ویکسین پر جو کہ پولیو وائرس کے خلاف ہمارا واحد ہتھیار ہے اور ہمارے اعتراضات کی بنیاد صرف اور صرف ہوئی پروپیگنڈے اور افواہوں کی بنیاد پر ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پر عمل کے بجائے متعلقہ ماہرین کی بات سنی جائے اور علماء و مدارس کے فتویٰ جات پر اعتماد اور یقین کا اظہار کیا جائے تاکہ ہم اپنے کرہ ارض کو پولیو جیسے موذی مرض سے چھٹکارا دلانے میں کامیابی حاصل کر لیں۔
یقین جانیں اس مرض کا کوئی علاج نہیں اس سے بچا جاسکتا ہے جس کا واحد حل پولیو ویکسین ہے۔


