ہر دل عزیز پکوڑے


یار تمہیں پتہ ہے میں دراصل پہلے رمضان سے ہی سوچ رہا ہوں کہ پکوڑے پر لکھوں مگر لکھ نہیں پا رہا تھا۔

کیوں؟
پکوڑے کھانے سے فرصت ہی نہیں مل رہی تھی اور پکوڑے کھانے کے بعد ہمت ہی نہیں بچ رہی تھی کہ کچھ خاطر جمع کرکے کچھ لکھوں۔
بھائی تو اتنے پکوڑے کیوں کھا رہا تھا یہ بتا۔ فیصل نے حیرت سے پوچھا۔
یاردو ہی تو کیفیتیں ہیں جن میں پکوڑا اپنی شدت اور احساس کے عروج پہ ہوتا ہے ایک بارش دوسرا روزہ۔ اور رمضان میں تو لگتا ہے اس کی قدرتی طلب بڑھ جاتی ہے۔
مرے بھائی باقی اسلامی ممالک میں تو ایسا نہیں۔
ارے یار فیصل بقول جوش صاحب، انسان کو بیدار تو ہولینے دو۔۔۔
ایک دن آئے گا پوری دنیا میں رمضان کے ساتھ مرحبا پکوڑوں کی آوازیں آئیں گی۔
یعنی تم یہ کہہ رہے ہو کہ برصغیر کے لوگ بیدار ہوگئے ہیں۔
ہاں پکوڑے اور اس کے  استعمال میں ہم سے زیادہ بیدار کوئی نہیں، ہم نے تو پکوڑے کو روز مرہ میں استعمال کر لیا یار۔۔
مطلب؟
کسی کی ناک کو پکوڑا کہہ دیتے ہیں یار۔۔۔ اور تو اور رمضان میں لغو باتوں سے بچنے کے لئے اکثر دیکھا ہے دوست گالی کے گناہ سے بچنے کے لئے اکثر کہتے ہوئے پائے گئے کہ پکوڑے لگ گئے۔
واہ بھئی واہ کیا احتیاط ہے سبحان اللہ۔
دیکھ یار کیسے کیسے نئے سانچوں میں ڈھل جاتی ہے کوئی بھی چیز جب ہم لوگوں تک آتی ہے، پکوڑے نے بھی سوچا ہوگا کبھی؟
تجھے پتہ ہے فیصل میں پکوڑے کھا کھا کر جب تھک جاتا ہوں تو دسترخوان کے قریب ہی ڈھیر ہوجاتا ہوں اور پھر محض مسکرا کر پکوڑوں کو دیکھتا ہوں اور غالب کا شعر دہراتا ہوں
گو ہاتھ کو جنبش نہیں،  آنکھوں میں تو دَم ہے
یار کس قدر اندوہناک منظر ہوگا جب تیرے سامنے پکوڑے ختم ہورہے ہوتے ہونگے۔ کچھ مزید ارشاد فرما مومن کی اس ایجاد پر۔۔!
 ہاں یا ر کہاں سارا سال یہی دیکھتا اور سنتا رہتا ہوں کہ مسلمان اپنی ایجادات  میں کتنے پیچھے رہ گئے تو یہ رمضان کے تیس دن مجھے اس ایجاد کے احسانات سمجھنے میں کم  لگتے ہیں، رمضان میں میرے ہجر و وصال ہی پکوڑوں کی پلیٹ آنا اوراس کا  ختم ہو جانا ہے۔ یہ رمضان کے سفیر یا برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ جو ہر کچن میں رمضان کی رونق کو مزید بڑھاتا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ  بر صغیر میں پکوڑے کیسے آئے اوراس سے زیادہ معتبر اور خوش آئند بات یہ ہے کہ لوگ اس بارے جاننا بھی نہیں چاہتے۔ پکوڑے کو آپ کچھ دیر غور سے دیکھیں تو آپ اس کی شکل کا تعین نہیں کر پائیں گے یہ  مختلف شکلوں میں بنائے جاتے ہیں سب سے مشہور شکل یہ ہے کہ کوئی شکل ہی نہیں ہوتی۔ پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے۔ عصر جدید میں کیچپ اول نمبر پہ ہے لیکن امی سے سند کے ساتھ ثابت ہے کہ پودینے کی چٹنی اس کے رتبے او رفضیلت میں اضافہ کرتی ہے۔ اک بات اور کہ گھر میں کھائی جانے والی سب سے زیادہ جو چیزیں ہیں ان میں دو سرِ فہرست ہیں ایک ڈانٹ ڈپٹ اور دوسرا پکوڑے، یعنی یہ ایسی متفقہ خوراک ہے جسے لوگ بازار سے انتہائی کم خریدتے ہیں۔ ہمارے سامنے تو جب بھی پکوڑے آئے تو ہمیں اظہر فراغ کا یہ شعر یاد آیا کہ
جتنی بھی ہو مشہور مشینوں کی  مہارت
کچھ ذائقے ہاتھوں کے علاوہ نہیں بنتے
یار تو اتنا سیریس ہے پکوڑوں کو لے کر مجھے آج اندازہ ہوا۔۔
یار فیصل ہر چیز لینے پہ مت لے جایا کر کچھ چیزیں کھانے کی بھی ہوتی ہیں۔ آجا افطار کا وقت ہو نے کو ہے جزیرہ عرب میں کھجور اور جزیرہ دل پہ ہم پکوڑوں سے روزہ افطار کرتے ہیں۔
Facebook Comments HS