سندھ میں ڈاکو راج
سندھ میں ڈاکوں کا راج جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، سنتا آ رہا ہوں۔ اور 90 کی دہائی میں سندھ میں بہت ڈاکو ہوا کرتے تھے اور اس میں ایک مشہور ڈاکو پرو چانڈیو بھی تھے اور اس پر سندھی میں ایک فلم بھی بنی تھی جو بہت مشہور ہوئی تھی اور اس فلم کا نام ہی پرو چانڈیو تھا۔ اس ڈکیت کے لیے کہا جاتا ہے وہ عورت اور بچوں کو کبھی اغوا نہیں کرتے تھے۔ اور جب پرو چانڈیو کو مقابلے میں مارا گیا تو سندھ کے لوگوں نے ان کی لاش پر 500 سے زیادہ سندھی اجرکیں ڈال دی۔
پرو چانڈیو کی وجہ سے سندھ میں چانڈیو برداری سے لوگ خوف زدہ ہو جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں دادو میں کسی ایں جی او میں کام کرتا تھا جب فیلڈ میں نکلتا تھا تو میرے اسٹاف کے لوگ مجھے کہتے تھے سر اگر آپ کی گاڑی کو کوئی روکے تو آپ کہنا میں چانڈیو ہوں اور آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اور یہ اس چانڈیو ڈکیت کا اثر تھا۔ نواز حکومت نے سندھ میں ڈاکوں کے خلاف آپریشن بھی کیا مگر سندھ میں ڈاکو ختم نہیں ہو سکے۔
سندھ میں اب جو ڈاکو پیدا ہوئے ہیں ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، وہ بچے بھی اغوا کر لیتے ہیں اور عورتوں کو بھی تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔ اور ان ڈاکوں کا مرکز سندھ میں کچے کا علاقہ ہے۔ اغوا برائے تاوان کا ملک میں سالانہ ریونیو 2 ارب تک بتایا جاتا ہے اور اس کرمنل بزنس کو کچے کے ڈاکو پکے کے ڈاکوں کی سپورٹ سے کرتے ہیں۔ اور پکے کے اکثر ڈاکو سندھ حکومت میں ہوتے ہیں۔ کوئی حکومت ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔
اب ملک میں مہنگائی بہت بڑ گئی ہے اور سندھ کے بہت سارے نوجوان بھی ڈاکو بن گئے ہیں۔ ان ڈاکوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ دریا سندھ کے کنارے بہت سارے وڈیروں کی زمین ہے اور ان ڈاکوں کو دریا سندھ کے ساتھ رہنے والے وڈیرے سپورٹ کرتے ہیں۔ مجھے خود کو بھی کچھ سال پہلے اغوا کیا گیا تھا تو میں ان کی واردات دیکھ چکا ہوں۔ مجھے اغوا کرنے والوں کے حلیے سے لگ رہا تھا وہ لوگ یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ وہ مجھے بحریہ روڈ سے اغوا کر کے دریا کے ساتھ ایک گاؤں میں چلے گئے اور وہاں پر ان کے لوگ پہلے ہی بیٹھے تھے اور وہ مجھے دریا سندھ کو کراس کرا کر کچے میں لے گئے اور وہاں ایک جنگل کی جھونپڑی میں چھوڑ دیا۔ وہاں سے ان کا ایک بندہ روزانٰہ دریا سندھ کراس کر کہ گاؤں سے کھانا لینے آتا تھا اور وہ ڈکیت دن میں ایک دفعہ ہی کھانا دیتے تھے۔
پولیس پہلے بھی ان ڈاکوں کے خلا اف کوئی ایکشن نہیں لیتی تھی، بلک ان ڈاکوں کے پاس اکثر اسلحہ بھی پولیس کا ہوتا تھا اور یہ بات مجھے ڈاکوں نے بتائی تھی۔ مگر اب تو ان ڈاکوں کے پاس نیٹو کا جدید اسلحہ ہے جو ہماری پولیس کے پاس بھی نہیں۔ اور کہا جا رہا ہے یہ اسلحہ افغانستان سے پاکستان میں آتا ہے۔ اب ڈاکوں کے پاس ایسے مشین گنیں ہیں جو 3 کلومیٹر تک کسی کو بھی مار سکتی ہے اور ہماری پولیس والوں کا اسلحہ مشکل سے 600 سے 800 فٹ تک کسی کو مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شکارپور، جیکب آباد، کندھ کوٹ شھداد کوٹ اور کشمور میں ان ڈاکوں نے سندھ کے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ یہ ڈکیت بچے بھی موٹر سائکل پر اغوا کر لیتے ہیں۔ اور ان سے بھاری تاوان مانگتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے تو ڈاکو بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کو اغوا کر کے ان مارتے ہیں اور وڈیو بناتے ہیں اور گھر والوں کو دھمکاتے ہیں اگر آپ نے پیسے نہیں دیے تو ہم آپ کا بندا مار دیں گے۔ اس وقت سندھ میں 30 لوگوں سے زیادہ ان ڈاکوں کے چنگل میں ہے۔ اور ان کی وڈیوز سوشل میڈیا پر بھی چل رہی ہے مگر سندھ حکومت ان لوگوں کو آزاد کرانے میں بالکل ناکام نظر آتی ہے۔
پچھلے ہفتے سرسو میں کام کرنے والا ایک استاد اللہ رکھیو ندوانی جس نے اپنے ساتھ بندوق لے کر اپنے اسکول بچے پڑھانے گیا۔ اور اس نے کہا میں ڈاکو سے ڈر کہ گھر نہیں بیٹھوں گا اور بچے پڑھاؤں گا۔ اور اس نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی جو وائرل ہو گئی۔ دو دن پہلے اس استاد کی لاش ملی ہے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے۔ سندھ میں سرسو ایک بڑا ادارہ ہے۔ ( سرسو ایک آر ایس پی این ہے ) اس نے شہید ہونے والے ٹیچر کے لیے کوئی کمپینسیشن نہیں دی اور نہ ہی سندھ حکومت نے کوئی اعلان کیا ہے۔
میری سرسو کے ہیڈ جو میرے یونیورسٹی کے سینئر فیلو ہے اس سی بھی گزارش کروں گا کہ اس غریب استاد کے لیے سرسو کی طرف سے کچھ انعام دیں اور حکومت سندھ کو بھی عرض کرتا ہوں کٰہ ایسے فرض شناس استاد کی فیملی اور بچوں کے لیے کوئی خطیر رقم دے کیوں کہ اب ان کے بچے یتیم ہو گئے ہیں جن کو اب پڑھنے کی لیے بہت مشکلات ہوگی اور شہید استاد کے بچوں کو پڑھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سندھ کے لوگ سندھ حکومت سے بہت ناراض ہیں۔ ان کا خیال ہے۔ ان ڈاکوں کو سندھ حکومت میں بیٹھنے والے وڈیرے اور سردار پالتے ہیں اور سندھ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سندھ حکومت کو چاہیے ان ڈاکوں کے خلاف آپریشن کرے اور ان کی جو سیاسی مجبوریاں ہے ان سے باہر نکلے اور سندھ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تحفظ فراہم کرنا اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔ اگر سندھ حکومت اپنے لوگوں کا تحفظ نہیں کر سکتی تو ایسی لولی لنگڑی حکومت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں سندھ حکومت کی اس ناکامی پر مسلسل لکھتا رہوں گا جب تک سندھ حکومت سندھ کے غیور لوگوں کی سیکیورٹی کا بندوبست نہیں کرتی اور ان ڈاکوں کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کرتی۔


