تئیس مارچ: یوم الحاد یا تنقیدی سوچ کے شعور کا دن


دنیا بھر میں ہر سال 23 مارچ کو ”ایتھیسٹ ڈے“ کے طور پر منایا جاتا ہے، انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ جس سچائی کی چھتر چھایا میں آنکھ کھولتے ہیں اسی کو اپنے شعوری سچ کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

عموماً جو جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے اسی کا پیروکار بن جاتا ہے اور اپنی نسل کو بھی اسی پر کاربند رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ رنگ، نسل، علاقہ، قوم یا وطن کی طرح سے مذہب بھی انسان کا اختیاری یا شعوری چناؤ نہیں ہوتا بلکہ حادثاتی یا غیر اختیاری چناؤ ہوتا ہے، عین ممکن ہے کہ اگر ہم مسلمانوں کی بجائے یہودی یا عیسائی گھرانوں میں پیدا ہو جاتے تو ہمارے لیے بھی وہی مذہب حق سچ ہوتا اور دوسرے مذاہب کی ہماری نظر میں کوئی حیثیت نہ ہوتی بالکل اسی طرح سے جس طرح مسیحی، یہودی، ہندو اپنے اپنے مذہب یا فلسفہ حیات کو سچا یا حتمی سچائی سمجھتے ہیں اور باقی مذاہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔

دنیا میں کتنے فیصد ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے واقعی میں بلوغت یا شعور کے بعد اپنے غیر اختیاری مذہب یا سچ کو محنت و ریاضت کے ذریعے سے شعوری طور پر اپنانے کی کوشش کی ہوگی؟

ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوگی۔ کیونکہ انسان بہت سہل پسند واقع ہوا ہے، اسی لیے تو دماغ سے سوچنے والے یا تنقیدی شعور کو اپنی ذات کا حصہ بنانے والے دنیا بھر میں اقلیت میں ہوتے ہیں اور روایات کی شاہراہوں پر چلنے والے اکثریت میں ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں بہت سارے مذاہب پائے جاتے ہیں اور بہت سوں کے تو شاید ہمیں نام بھی نہیں آتے نظام عبادت و ریاضت کو جاننا تو بہت دور کی بات ہے۔

انسانی المیہ ہے کہ ہمیں تو صرف اسی مذہب یا فلسفے کا ہی پتا ہوتا ہے جس سے یا تو ہماری قلبی و اندھی وابستگی ہوتی ہے یا بہت زیادہ دشمنی۔ اس سے بڑا انسانی المیہ بھی کیا ہو گا کہ گہوارے یا پالنے میں حاصل ہونے والے غیر اختیاری مذہب کی بنیاد پر ہم انسانوں کے درمیان نفرتوں کی دیواریں قائم کریں اور کسی کی فکر یا مذہب کے مختلف ہونے کی بنیاد پر اسے تضحیک کا نشانہ بنائیں۔ مذاہب عالم کا بندوبست ایمان، یقین اور اندھی تقلید پر ٹکا ہوتا ہے اور ایمانی اصطلاح و تشریح کے مطابق جو جتنا ایمان کی اتھاہ گہرائیوں میں اترا ہو گا وہی کامل ایمان والا کہلائے گا۔ ایمانی راہوں پر چلنے والوں کے لیے شک، سوال یا ریزننگ کی قطعی طور گنجائش موجود نہیں ہوتی، چونکہ ایمان کا تعلق پختہ یقین سے ہوتا ہے اور یقین کامل کا تعلق دل سے ہوتا ہے نا کہ دماغ سے۔

اسی لیے تو ہماری روایتی فکر مذہبی معاملات میں زیادہ سوال جواب کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن دنیا بھر میں کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو کسی بھی مذہبی نظام پر یقین نہیں رکھتے، ان کا ماننا ہے کہ جدید سائنس اور نئی تحقیقات کی بدولت آج کا انسان اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ تجرباتی و مشاہداتی بنیادوں پر مختلف انسانی افکار کی چھان پھٹک کر سکے اور ریزننگ و منطقی بنیاد پر اپنی نئی فکر یا نقطہ نظر تشکیل دے سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کائنات فطرت کے کچھ اٹل اصولوں کی بنیاد پر چل رہی ہے اور فطرت ایک خود رو عمل ہوتا ہے جس پر دعا و مناجات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس کائنات کو چلانے والا کوئی نہیں ہے، اگر کوئی ہے بھی تو انسانی فکر ابھی تک اسے کھوجنے میں ناکام رہی ہے اور جو بڑے یقین سے اس کا پتا دیتے ہیں یا بتاتے ہیں وہ بھی آج تک اس ”دانائی کل“ کو ثابت نہیں کر پائے۔ سوائے مختلف قسم کے بلند و بانگ ایمانی دعوے کرنے کے۔

خیر ان کا نقطہ نظر یا ماحصل ان کے ساتھ۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ایتھی ازم کے غلغلے کی وجہ سے سارے تو نہیں لیکن کچھ ہمارے معزز علماء کرام نے پڑھنا شروع کر دیا ہے اور وہ عمیق بنیادوں پر مذہب کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں۔

میرے حلقہ اثر میں بھی خاصے مفتیان کرام ہیں جو میرے بڑے اچھے دوست ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا بڑے اچھے سے ادراک ہو چکا ہے کہ آج کے نوجوان اذہان کو لچھے دار باتوں یا واقعاتی حقائق سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔

وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اب تک کی عاشقانہ آوارگی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور ہمارے بڑے بڑے علماء کرام نے فکری دیانت برتنے یا اپنی کم مائیگی کا کھلم کھلا اظہار کرنے کی بجائے تاویلات کے انبار لگا دیے جنہیں حقائق کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔

ریشنلٹی اور ریزننگ کا اس سے بڑا معجزہ کیا ہو گا کہ ہمارے معزز علماء کرام اب اپنی تقاریر میں ملحدین کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرنے لگے ہیں، پہلے تو کسی ایتھیسٹ کا نام لینا ہی بہت معیوب بلکہ گالی تک سمجھا جاتا تھا اور آج غامدی اور انجینیئر ایسے علماء نا صرف ملحدین کا نام لیتے ہیں بلکہ احترام سے مخاطب بھی کرتے ہیں۔

اب اسے تاریخ کا جبر کہیں یا وسعت علم کا معجزہ یا تاریخ کا فیصلہ کن موڑ کہ اب دنیا بھر میں 23 مارچ کو یوم ایتھیسٹ کے نام سے منایا جاتا ہے، کہیں کوئی گالم گلوچ نہیں ہوتا، لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالتے اور انٹرنیشنل سطح پر بھی اس دن کو ایک ”سین وائس“ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے الہادی فکر کو سپیس دی گئی ہے۔

اگر ہم اس طرح سے دیکھیں تو دنیا بھر میں ایتھیسٹ ڈے تنقیدی فکر، برداشت اور لوجیکل بنیادوں پر سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔

لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تصورات میں سوال اور منطق کی گنجائش ضرور رکھیں اور کسی بھی بات یا فلسفے کو من و عن تسلیم کرنے کی بجائے اسے ذہنی ریاضت، جستجو اور تحقیقی بنیادوں پر ٹیسٹ کر کے اپنے شعور کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔

اسی لیے تو مہذب دنیا میں مذہب کو ہر انسان کا انفرادی یا ذاتی فعل قرار دیا گیا ہے اور وہاں ریاست کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

وہ انسانی بنیادوں پر انسانوں کے فیصلے کرتے ہیں اور اس حقیقت کو ہمارے بہت سارے سنجیدہ علماء کرام تسلیم کر چکے ہیں جن میں سے اکثر کو تو میں بھی جانتا ہوں کہ مذہب انسان اور خالق کے بیچ کا معاملہ ہوتا ہے اور یہ معاملہ یقین پر ٹکا ہوتا ہے، اگر ہم اس تعلق کو عقلی بنیادوں پر ثابت یا کریدنے کی کوشش کریں گے تو بڑے بڑے مسائل جنم لیں گے اور ایمانی باتوں کو عقلی پیمانوں پر ثابت کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔

بحث اور مناظروں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا بلکہ مذہب کی تحقیر ہوتی ہے۔

ہمیں ریشنلٹی کے آگے کسی بھی طرح کا بند نہیں باندھنا چاہیے بلکہ عقلی رویوں کو فروغ دینے کے لیے اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

انسانی فکر ایک طرح سے انسانی ورثہ ہوتا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ انسانی تجربات اور مشاہدات شامل ہوتے رہتے ہیں، ہم بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن انسانی فکر ایک طرح سے بہتے ہوئے چشمے کی مانند ہوتی ہے جس میں انسان اپنے اپنے حصے کی فکر اور تجربات شامل کرتے رہتے ہیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی رہتی ہیں جو فکری تنوع اور کثیر جہتی کو فروغ دیتی ہیں۔ کیونکہ جو مزا ”ڈائیورسٹی“ میں ہوتا ہے وہ بھلا ”منوٹنی“ میں کہاں؟

Facebook Comments HS