سندھ میں بلدیاتی ادارے غیر فعال


سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی الیکشن 2023 میں ہوئے ہیں اور سارے صوبے میں بلدیاتی اداروں کو سندھ حکومت ہر مہینے بجٹ دیتی ہے مگر افسوس سندھ حکومت ابھی تک بلدیاتی اداروں سے کام کروانے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ اگست 2023 سے لے کر اب تک سندھ حکومت کو 74 بلین روپیہ دی چکی ہے مگر اب تک سندھ کے شہروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شہر کے اندر کے راستے بن سکے نہ شہروں کے گٹر نالوں کی صفائی ہو سکی۔

پورے سندھ میں کسی شہر میں ابھی تک صاف پانی نہیں ملتا۔ تھر میں آروز پلانٹ لگے ضرور تھے مگر ان کی کوئی مینٹیننس نہیں ہوئی اس لیے آدھے سے زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ کس ضلعے کو کتنے پیسے ملے ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے یہ بات سمجھانا ضروری ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا سندھ میں الیکشن جیتنے کا اہم سبب یہ بھی ہے کہ وہ اربوں روپیہ اپنے لوگوں کو دیتی ہیں جو الیکشن جتوانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے مطابق سندھ کے دیہات میں ترقی کے لیے 22 ضلع کونسلوں کو ہر مہینے 76 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں جس میں ضلع کونسل بدین کو 4 کروڑ 45 لاکھ ملتے ہیں، دادو ضلع کونسل کو 4 کروڑ 58 لاکھ، گھوٹکی ضلعی کونسل کو 5 کروڑ 34 لاکھ جامشورو ضلعی کونسل کو 2 کروڑ 29 لاکھ کشمور اور کندھ کوٹ کو 2 کروڑ 57 لاکھ، خیرپور میرس ضلع کونسل کو 6 کروڑ 13 لاکھ، لاڑکانہ کاؤنسل کو 3 کروڑ 18 لاکھ، ضلع کونسل میرپور خاص کو 3 کروڑ 62 لاکھ، ضلع کونسل نوشہرو فیروز کو 4 کروڑ 46 لاکھ، بینظیر ضلع کونسل کو 4 کروڑ 33 لاکھ، سانگھڑ ضلع کونسل کو 4 کروڑ 97 لاکھ، شکارپور ضلع کونسل کو 3 کروڑ 26 لاکھ، سکر ضلع کونسل کو 4 لاکھ 47 لاکھ، ضلع کونسل ٹنڈوالہ یار کو 1 کروڑ 78 لاکھ، ٹنڈو محمد خان ضلع کونسل کو 1 کروڑ 92 لاکھ، ضلع کونسل تھرپارکر کو 3 کروڑ 36 لاکھ، ٹٹہ ضلع کونسل کو 2 کروڑ 79 لاکھ، عمرکوٹ ضلع کونسل کو 2 کروڑ 58 لاکھ اور ضلع کونسل سجاول کو 2 کروڑ 67 روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ یونین کمیٹیز اور یونین کونسلوں کو 79 کروڑ 80 لاکھ روپیہ ہر مہینے دیا جاتا ہے۔

سندھ حکومت تین میونسپل کارپوریشن کو 13 کروڑ روپیہ ہر مہینہ جاری کرتی ہے جس میں 4 کروڑ 50 لاکھ لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن، 4 کروڑ 50 لاکھ سکر میونسپل کارپوریشن اور 4 کروڑ حیدرآباد کو جاری کیے جاتے ہیں۔

کے ایم سی کو او زیڈ ٹی کی مد میں ہر مہینے 40 کروڑ اور 77 کروڑ کی گرانٹ سندھ حکومت دیتی ہے۔ اگست 2023 سے لے کر ابھی تک کی ایم سی کو 3 ارب 23 کروڑ او زیڈ ٹی کی مد میں اور سندھ حکومت نے الگ سے 6 ارب 49 کروڑ جاری کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ اسپیشل گراونڈ سیپمبر میں 31 کروڑ 25 لاکھ روپیہ دی گئی ہے۔

سندھ حکومت کی بلدیاتی اداروں کے اوپر دیے گئے فنڈ کے باوجود بلدیاتی ادارے ابھی تک غیر فعال ہے۔ کراچی میں 100 سے زیادہ لوگ غیر قانونی بھرتی کیے گئے ہیں جن کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے، مگر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ ابھی تک بلدیاتی اداروں میں اسٹاف کا ڈیٹا کمپیوٹرائز نہیں کیا گیا۔ کچھ لوگ بلدیاتی اداروں میں رکارڈ کو ڈجیٹل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

لوکل گورنمنٹ کمیشن مسلسل غیر فعال ہے، لوکل گورنمنٹ کمیشن کا مقصد لوکل گورنمنٹ کی کارگردگی کو بہتر بنانا تھا، مگر کمیشن کے افسران گھر بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں۔ سندھ فنانس ڈپارٹمنٹ کے اندر لوکل فنڈ آڈٹ ڈپارٹمنٹ ہے وہ بھی غیر فعال ہے۔ اس ادارے کو بلدیاتی اداروں کے فنڈ کی آڈٹ کرنی ہوتی ہے جو نہیں ہو رہی۔ اس لیے بلدیاتی اداروں کو سندھ گورنمنٹ فنڈ تو دیتی ہے مگر ان کے کام کو چیک کرنے والا کوئی نہیں۔ اکثر جھوٹے بل بنائے جاتے ہیں اور شہروں میں کام نہیں ہوتا۔ بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے اسٹاف کو تنخواہ بھی ٹائم پر نہیں ملتی، بہت سارے لوگوں کو پینشن بھی نہیں ملتی۔

سندھ لوکل گورنمنٹ کمیشن کے سابق ممبر سونو خان نے کہا ہے کہ لوکل فنڈ آڈٹ ڈپارٹمنٹ مسلسل غیر فعال ہے۔ بلوں کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا۔ اور سرکاری پیسہ لوگوں کے جیب میں جاتا ہے اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔

بلدیاتی نمائندوں اور آفیسرز کی ٹرینگ کے لیے سندھ سول سروس اینڈ لوکل گورنمنٹ اکیڈمی ٹنڈو جام میں بنائی گئی ہے لیکن وہ بھی مکمل ؑغیر فعال ہے اور بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کی کوئی ٹرینگ ابھی تک نہیں ہوئی۔

بہرحال ابھی تک کراچی کے میئر مرتضی وہاب کی کارگردگی سب سے اچھی جا رہی ہے، جس کا کام بھی کراچی میں نظر آتا اور وہ روزانہ کسی نہ کسی پروجیکٹ پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بلدیاتی رکارڈ کو ڈجیٹلائز کرنا ہے، اور اضافی اور غیر قانونی ملازمین کی چھٹی کرانی ہے

امید کی جاتی ہے سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو فعال کرے گی، اور سندھ کے شہروں کو بلدیاتی سروس مہیا کرے گی۔

Facebook Comments HS