پاکستان، آئی ایم ایف اور نجکاری
پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان سٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جاری کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ تاہم تیسری قسط کی ادائیگی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس معاہدہ کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں آئی ایم ایف مشن اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کوئی مشکل مراحل درپیش نہیں آیا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ آئی ایم ایف کی آنکھوں میں کھٹکنے والے شخص کو وزارت خزانہ کا قلمدان ہی نہیں دیا گیا اب کی بار آئی ایم ایف مشن کو فرینڈلی پاکستانی ٹیم سے مذاکرات کرنے پڑ رہے تھے۔
مستعار لی گئی ٹیم آئی ایم ایف مشن کو آنکھیں دکھا سکتی تھی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی مزاحمت کرنے کا حوصلہ تھا۔ مذاکرات کے دوران وفاقی وزارت خزانہ کی طرف سے ایک پریس جاری کرنے پر آئی ایم ایف مشن نے ناراضی کا اظہار کیا تو وفاقی وزارت خزانہ کے افسران معذرت خواہانہ وضاحتیں کرتے نظر آئے 16 ماہ کی شہباز شریف کی حکومت نے آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا تو لیا لیکن پاکستان کے عوام کو جہاں مہنگائی کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ وہاں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں اضافے سے لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کچھ تو بجلی مہنگی ہوئی رہی سہی کسر واپڈا نے زائد بل بھجوا کر نکال دی بظاہر آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آتی ہے لیکن عملاً اپنے قرضوں کی واپسی کے لئے حکومت کو سبسڈی ختم کرنے اور عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت اس حد تک ابتر ہو گئی ہے کہ بیل آؤٹ پیکج کے تحت ایک ارب ڈالر ملتے ہیں۔
اسلام آباد میں خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔ گزشتہ 75 سال کے دوران پاکستان کی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ پاکستان کے بجٹ کا 70 فیصد قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے جس ملک کے پاس بجٹ کی صرف 30 فیصد رقم بچتی ہو وہ خاک ترقی کرے گا۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے سٹیٹ بنک سے قرض لینا پڑتا ہے۔ ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط ملنے پر ہماری باچھیں کھل گئی ہیں۔
ہم اپنے آپ اس خوش فہمی میں مبتلا کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مزید ادھار ملنے تک پاکستان برآمدات اور درآمدات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہو جائے گا۔ پاکستان کا معاشی نظام آئی ایم ایف اور رول اوور کی عنایات و نوازشات کا مرہون منت ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو مشروط طور پر قرض دیا ہے۔ ہر بار قرض دینے کے عوض پاکستان سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مجھے یاد ہے۔ چند سال قبل دوبئی میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار اور آئی ایم ایف کے درمیان اس وقت مذاکرات ناکام ہوتے ہوتے رہ گئے جب مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف مشن نے ان سے ڈالر کے مقابلے میں 8 روپے قدر کم کرنے کا تقاضا کیا آئی ایم ایف کو ایسا پاکستانی ذمہ دار ایک آنکھ نہیں بھاتا جو اس کے سامنے قرض دینے کی آڑ میں ناجائز مطالبات کو مسترد کر دیتا ہو اب پاکستان آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے حصول کے لئے کو شاں ہو جائے گا۔
ہم آئی ایم ایف کے اس حد تک محتاج ہو گئے ہیں کہ پاکستان کے مالیاتی اداروں میں آئی ایم ایف کے منظور نظر افراد کو تعینات کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی مختلف حکومتوں نے 75 سال میں جتنے قرضے لئے ان کا 80 فیصد عمران خان کی پونے چار سال کی حکومت نے لئے پاکستان کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم اپنی مرضی کا پریس ریلز جاری کرنے پر مصر ہے۔ آئی ایم ایف نے اس بات کو سراہا ہے۔
سٹیٹ بینک اور نگران حکومت نے حالیہ مہینوں میں آئی ایم ایف کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے اور نئی حکومت نے بھی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی خبروں پر مسلم لیگی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایما پر بجلی اور گیس کتنی اور مہنگی کی جائے گی؟
عوام کے صبر کو کب تک آزمایا جائے گا؟ آئی ایم ایف کے معاہدے سے قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے اندر بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافے کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لا جائے گا تو پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کے ایما پر کیے جانے والے اضافہ کو منظور کرانا خاصا مشکل ہو گا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول سطح پر معاہدہ حکومت پاکستان کی طرف سے یکم جولائی 2024 سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی یقین دہانی پر ہی ہوا ہے۔
پہلی بار پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار جنہیں بوجوہ وزارت خارجہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔ کو آئی ایم ایف مشن سے مذاکرات سے دور رکھا گیا اور ان کے بغیر ہی آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل کیے گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں اگلے پانچ سال کے معاشی اہداف میں پرائیویٹائزیشن کو نمایاں حیثیت دی تھی لیکن 8 فروری 2024 کے انتخابی نتائج نے مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی بیساکھیوں کے سہارے حکومت قائم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے لئے ووٹ تو دے دیا ہے لیکن حکومت کا حصہ نہ بن کر اصل اختیار اپنے پاس رکھ لیا ہے اگرچہ آصف علی زرداری نے راولپنڈی اور جاتی امرا کو شہباز شریف کی حکومت نہ گرنے دینے کی ضمانت دے رکھی ہے لیکن وزیر اعظم کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ارسا کا چیئرمین تک نہیں لگا سکتے انہوں نے ارسا کے چیئرمین کی تقرری کی تو پیپلز پارٹی ہنگامہ کھڑا کر دیا جس نے وزیر اعظم کو اپنے حکم کی سیاہی خشک ہونے سے قبل اپنے حکم کو فوری طور پر واپس لینے پر مجبور کر دیا مسلم لیگ (ن) پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس کی بھی مخالفت کر دی ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی تجویز پیش کر دی ہے۔ ایسی صورت حال میں مسلم لیگ (ن) بیمار اداروں کی پرائیویٹائزیشن نہیں کر پائے گی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس حکومت تو ہو گی لیکن اہم اقدامات کی منظوری کا اختیار پیپلز پارٹی استعمال کرے گی۔


