پاکستان کے سول ایوارڈز: پس نوآبادیات میں تاریخی و شعوری جائزہ


فطرت انسانی میں مادہ ایجاد و تقلید ہی، نوع انسانی کو دیگر انواع سے ممتاز کرتا ہے یہ فطرت انسان کے حب جمال سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انسان کا عالمی سماج، ارتقاء اور تجربات سے گزر کر جدید عہد تک پہنچا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے فلسفیانہ اسلوب کے مطابق، عالمی سماج چوتھے دائرہ میں داخل ہو چکا ہے یعنی انسانی سماج کا ارتقاء مکمل ہو چکا ہے جس میں انسان نے بین الاقوامی سطح کا نظام متعین کر لیا ہے۔ یہ نظام ظلم ہے، نظام انصاف ہے، عادل ہے، منصفانہ ہے یا پھر جبر و استبدادیت پر مبنی ہے، فی الحال یہ نکتہ ہماری بحث سے خارج ہے۔

جدیدیت نے عالمی سماج کو گلوبل ساؤتھ اور گلوبل نارتھ میں تقسیم کر رکھا ہے، پاکستان عالمی جنوب میں شامل ہے جس کا علمی معنی ہے کہ ہم دنیا کی پسماندہ اقوام کا حصہ ہیں، پسماندگی کا یہ تصور بھی بنیادی طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد اور نوآبادیاتی عہد کے خاتمے سے اخذ شدہ ہے۔ نوآبادیاتی حکمرانی کا تجربہ رکھنے والی اقوام کو غیر متمدن تصور کیا گیا۔ برصغیر کو جس نوآبادیاتی تجربہ کا سامنا کرنا پڑا، وہ برطانوی و یورپی بربریت اور بالادستی کے تصورات پر مبنی ہے، بالادستی کے انھی تصورات کے ذیل سے حکمران طبقات نے مقامی سطح پر ایسا طبقہ پیدا کیا جو نوآبادیاتی ریاست کا وفادار رہے اور ان طبقات کو سرکاری تائید دینے کے لیے خطابات سے نوازا گیا۔

یہ خطابات تقسیم کرنے کی تین بنیادی وجوہات تھیں : اول، ہندستان کے حکمران طبقات میں یہ خطابات تقسیم کرنا نئے آقاؤں (برطانوی سرکار) کے نزدیک تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔ دوم، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے جائز جانشین کی حیثیت سے مقامی قبولیت حاصل کرنے کی غرض سے خطابات کا آغاز کیا۔ سوم، خطابات کے ذریعے ممتاز ہندستانیوں، بالخصوص ریاستوں کے حکمرانوں کو خطابات دینے سے برطانوی راج کو تحفظ بخشنے والا وفادار طبقہ تیار ہو سکے گا۔ ان خطابات کے ذریعے برطانوی سرکار نے ہندستان میں مقامی سطح پر سیاسی اتحادی پیدا کیے۔

جنگ آزادی کے فوری بعد ، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے اعزازات کو نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تبدیل کر دیا گیا۔ ہندستان میں آرڈرز آف شیولری یعنی تمغہ بہادری مشہور ہوا، جسے اکثر نائٹ ہڈ کہا جاتا تھا۔ نائٹ ہڈ کا خطاب دراصل قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں رائج تھا، یہ اس بات کی علامت تھی کہ اشرافیہ طبقے کا ایک نوجوان مکمل طور پر جنگجو بننے کے لیے تیار ہے۔ نوآبادیاتی عہد میں برطانوی سرکار نے خطابات کو معاشرتی سر بلندی اور طاقت ور افراد کو ساتھ ملانے کے لیے بہ طور ہتھیار استعمال کیا۔ وائسرائے لارڈ کیننگ نے 1861ء میں آرڈر آف سٹار آف انڈین متعارف کرایا جو ممتاز ہندستانیوں کو برطانوی سرکار کی خدمات کے عوض دیا جاتا تھا۔

ملکہ وکٹوریا نے جب 1878ء میں ایمپریس آف انڈیا (ملکہ ہندستان) کا لقب اختیار کیا تو اس نے دو مزید خطابات تشکیل دیے جس میں آرڈر آف دی انڈین ایمپائر اور آرڈر آف دی کراؤن آف انڈیا شامل تھے۔ ہندستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے لیے دو الگ سے خطابات مقرر کیے گئے تھے، ریاستی حکمرانوں کے لئے ملکہ وکٹوریا کی خدمات کے عوض 1896ء میں رائل وکٹورین آرڈر اور 1917ء میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر تشکیل دیا گیا تھا۔ خطابات کے علاوہ ہندستانیوں کو برطانیہ کے پیریج (ہم خیال) ، بیرونیٹس (موروثی سردار یا چھوٹا نواب) اور پریوی کونسل (مجلس مشاورت حکمران) کا رکن مقرر کیا جاتا، اس درجہ بندی میں ہندستان کے حکمران طبقات کو شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

خطابات کی سرکاری سطح پر درجہ بندی کی گئی تھی جس میں اسٹار آف انڈیا کا سب سے اونچا مقام اور برٹش ایمپائر کو نچلے درجے پر رکھا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کراؤن آف انڈیا کے علاوہ ہر خطاب کی تین یا اس سے زیادہ زمرہ بندیاں کی گئی تھیں۔ برطانوی سرکار کے دربار کی رسمی تقریبات میں ہندستانیوں کی فوقیت کا تعین خطاب کے نام اور زمرے کے لحاظ سے کیا جاتا تھا۔ تاہم، حکمرانوں کا معاملہ ایسا نہیں تھا، کیونکہ ان کی فوقیت پہلے ہی دوسرے معیارات کے مطابق طے تھیں، ریاستی حکمران کی اہمیت توپ خانے کی سلامی سے طے ہوتی تھی اور یہ سلامی ہر حکمران کے منصب، طاقت اور عوامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوتی۔

اکیس توپوں کی سلامی حاصل کرنے والے ریاستی حکمران کو آرڈر آف دی اسٹار آف انڈیا اور آرڈر آف دی انڈین ایمپائر کے خطاب سے نوازا جاتا تھا۔ تیرہ توپوں کی سلامی کے حکمران کو کمانڈر آف انڈین ایمپائر، نو توپوں کی سلامی والے حکمران کو زیادہ سے زیادہ نائٹ کمانڈر کا خطاب دیا جاتا تھا۔ ایسا حکمران جسے توپوں کی سلامی نہیں دی جاتی تھی وہ صرف کمپانیئن ہڈ کا خطاب پاتا جو نچلے درجے کا اعزاز ہے۔ برطانوی سرکار نے مقامی حکمرانوں کو خطابات سے نوازنے کے لیے ایک منظم نظام وضع کر رکھا تھا جس کے تحت حکمران کو خطاب سے نوازا جاتا، اس کا آغاز ایجنسی سے ہوتا تھا۔ ہر سال فروری اور اگست یا ستمبر کے مہینوں میں ایجنسی کے ریذیڈنٹ حکمرانوں، عام ہندستانیوں اور برطانوی افراد کی ایک فہرست مرتب کرتا، جو ریذیڈنٹ کے خیال میں اعزاز کے مستحق ہوتے تھے۔

یہ ریذیڈنٹ، مقامی حکمران یا عام ہندستانیوں کی انگریزوں کے لیے وفاداری اور نوآبادیاتی مفادات کی تکمیل میں انگریزوں کے ساتھ معاونت کو پیش نظر رکھ کر سفارشات مرتب کرتا اور خطاب سے نوازنے کی وجوہات پر مبنی الگ سے تحریری نوٹ پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے یہ فہرست وائسرائے، سیکرٹری آف سٹیٹ (برطانیہ کی کابینہ کا ایک وزیر اس عہدے پر مقرر کیا جاتا) اور برطانوی بادشاہ یا ملکہ تک پہنچتی اور حتمی منظوری کے بعد برطانوی ملکہ یا بادشاہ کی سالگرہ کے موقع پر یہ اعزازات عطاء کیے جاتے۔

حکمرانوں میں یہ تصور رائج ہوا کہ نائٹ ہڈ کا خطاب حاصل کرنے کے بعد ایک مقامی حکمران نے اپنی سلطنت کے دائرے کی عزت کو برقرار رکھنے کا اپنا فرض ادا کیا۔ اگر مقامی حکمران انگریز سرکار کو مطلوب کوئی غیر معمولی کام کرتا تو وہ بھی خطاب کے لیے اہل تصور کیا جاتا تھا، ہندستان کی مغربی شاہی ریاستوں کی ایجنسی میں 15 ایسی ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں جن کے حکمرانوں نے غیر معمولی کام کیے اور انھیں نائٹ ہڈ سے نوازا گیا، ان کی تفصیل آگے آئے گی۔

مقامی حکمرانوں کے پاس برطانوی راج میں یہ خطابات حاصل کرنے کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز سرکار خطاب دینے سے پہلے مقامی حکمران کی مکمل جانچ پڑتال کرتی اور جب حکمران کو نائٹ ہڈ کا خطاب عطاء کر دیا جاتا تو یہ دراصل برطانوی مہر کے مترادف تھا کہ مقامی حکمران پر اپنا طرز حکومت تبدیل کرنے کے لیے برطانیہ مداخلت نہیں کرے گا اور خطاب حاصل کرنے کے بعد مقامی ریاست کے امور سلطنت میں مستقبل میں برطانوی مداخلت محدود ہوجاتی تھی۔ اسی طرح نائٹ ہڈ دراصل یہ وعدہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر بعد میں ریاستی حکمران کو انگریزوں کی ضرورت ہوئی تو وہ ان کی مدد کریں گے۔

شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو انگریزی خطابات کی تقسیم کا تاریخی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطابات کے وقت ایک اور عنصر نے بھی مرکزی کردار ادا کیا، اس عنصر کا سرکاری خط و کتابت میں جان بوجھ کر ذکر نہیں کیا گیا تاکہ دستاویزات کا حصہ نہ بن سکے۔ انگریز راج میں بالخصوص 1925ء تا 1947ء تک ہندستانی ریاستوں کے تمام حکمرانوں، ان کی بیگمات، ماؤں کو خطاب دینے کی ایک فہرست ہے جس میں مجموعی طور پر 142 اعزازات ہیں جنھیں مختلف 45 فہرستوں کے ذریعے سے اعزاز دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ایسے حکمران موجود تھے جنہوں نے انگریزوں کے لیے مفید خدمات انجام دیں اور اس کے عوض انھیں نائٹ ہڈ دیا گیا اور ایک وقت میں خطاب دینے کی رفتار بھی بڑھ گئی۔

برطانوی سرکار سیاسی وجوہات، سیاسی بے چینی، ہلچل اور حالات کے تناظر میں بھی خطاب دینے کا فیصلہ کرتی، ہندستان کے سیاسی منظر نامے پر 1927ء میں آئینی اصلاحات پر آل برٹش سائمن کمیشن کی تقرری پر برہمی میں اضافہ ہوا اور لارڈ ارون نے ہندستانی سیاست دانوں کی اس برہمی کو قابو میں لانے کے لئے دو سال تک کوششیں جاری رکھیں اور بالآخر لندن میں پہلی گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ برطانوی سرکار نے سیاسی بے چینی کے اس دور میں ریاستی حکمرانوں کو اپنا اتحادی بنانے کی پالیسی کو تیز کیا، یہی وجہ ہے کہ برطانوی استعمار نے سن 1928ء سے 1930ء کے سیاسی بحران کے دوران شاہی حکمرانوں کو ماضی کی نسبت زیادہ خطابات دیے۔

یہی وجہ ہے کہ جب وائسرائے اور سکریٹری آف اسٹیٹ نے محسوس کیا کہ انہیں شاہی حلیفوں کی ضرورت ہے تو انہوں نے ریاستی حکمرانوں کو خطاب دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ ریذیڈنٹس کی سفارشات کو منظور کیا۔ دراصل برطانوی سرکار کو اطمینان تھا کہ خطابات شاہی حکمرانوں کو مضبوطی سے برطانوی راج کا طرفدار بنائیں گے۔ یہ خطاب محض ان ریاستوں کے حکمرانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نہیں تھے جنھوں نے اصل میں اعزازات حاصل کیے تھے بلکہ ایسے حکمرانوں سے باہمی تعاون حاصل کرنے کا وعدہ لینا تھا جنھیں تاحال کوئی اعزاز نہیں ملا تھا۔

سانحہ جلیانوالہ کے بعد پنجاب میں انگریز راج کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی تحریک ابھری جس پر پنجاب میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، اسلامیہ کالج لاہور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، دیال سنگھ کالج، پنجاب یونیورسٹی کے طلباء نے احتجاجی مظاہرے شروع کیے تو طلباء کی برطرفیاں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ برطانوی سرکار نے لاہور میں مزاحمتی تحریک کو روکنے کے لیے با اثر افراد کی مدد حاصل کی۔ مارشل لاء کی سرکاری دستاویزات میں شیخ علامہ محمد اقبال کا نام مسلمانوں کی فہرست میں درج ہے جنھوں نے مزاحمتی تحریک کو روکنے کے لیے انگریزوں کی مدد کی، علامہ اقبال کو بعد ازاں نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دیا گیا۔ انگریز راج کے خلاف سالٹ مارچ سے گاندھی۔ ارون معاہدہ تک، اور سول نافرمانی کی تحریک سے برطانویوں کو بڑے پیمانے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران برطانوی راج نے شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کی وفاداری کو خریدنے کے لیے 18 خطابات تقسیم کیے۔ چونکہ برطانوی سرکار برٹش انڈیا میں فیڈریشن کے تصور کے لیے ہندستانی ریاستوں کی حمایت حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی جس کی منظوری لندن گول میز کانفرنس میں برطانوی اور ہندستانی رہنماؤں نے دی تھی۔ اس لیے برطانوی سرکار خطابات کو یکسر ختم کر کے ریاستی حکمرانوں کی نئی مخالفت کا خطرہ مول لینے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔

نومبر 1934ء میں وفاقی آئین کے مسودے کی تکمیل سے برطانوی سرکار پر یہ لازم ہو گیا کہ وہ ریاستوں کی فیڈریشن کی مخالفت پر قابو پائے، بصورت دیگر آئین (بعد میں یہ آئین حکومت ہند ایکٹ 1935ء کے طور پر نافذ کیا گیا) کبھی بھی نافذ نہیں ہو پاتا۔ اسی بناء پر 1935ء تا 1936ء کی آئندہ خطابات کی چار فہرستوں میں برطانوی راج کی حمایت خریدنے کے لئے 23 ریاستوں کو خطاب سے نوازا گیا۔ لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ ریاستی حکمران وفاقی طرز کی حکومت کی شرائط وسیع تر تبدیلیوں کے بغیر قبول نہیں کریں گے اور بظاہر برطانوی سرکار نے فراخدلی سے حکمرانوں میں خطاب تقسیم کرنا بند کر دیے۔

ریاستی حکمران وفاق کی تجاویز کو مسترد کرتے رہے اور ستمبر 1939ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد وائسرائے لارڈ لنلیتھگو نے وفاق سے ریاستوں کے الحاق یقینی بنانے کے لئے اپنی کوششیں ترک کر دیں۔ جنگ کے بعد برطانوی نوآبادیاتی حکمت عملی میں تبدیلی لائی گئی اور مقامی ہندستانیوں کی بھرتیوں میں معاونت کے لئے انھی شاہی ریاستوں سے مدد لی گئی اور دوسری عالمی جنگ کے ان پانچ سالوں کے دوران برطانوی سرکار کی معاونت کی تعریف میں 28 اعزازات دیے گئے۔ جن ریاستوں میں برطانوی سرکار نے اعزازات تقسیم کیے ان میں جودھ پور، جموں اینڈ کشمیر، گوالیار، سوات، بہاولپور، قلات، رام پور، تنجور، پٹیالہ، پٹنہ، میسور قابل ذکر ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد ، ریاست پاکستان میں 1951ء میں شہریت کا قانون لاگو کیا گیا، جب یہ ایکٹ لاگو کیا گیا اس وقت پاکستان برطانیہ کی ڈومینین (ماتحت) ریاست تھا اور گورنر جنرل تاج برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھاتا۔ جنرل اسکندر مرزا نے، پاکستان میں 19 مارچ 1957ء میں سول ڈیکوریشن آف پاکستان ایکٹ لاگو کیا گیا جس کے تحت پاکستان میں سول خطابات عطاء کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں، جب 1973ء میں دستور پاکستان نافذ کیا گیا تو دستور کی شق 259 کے تحت صدر پاکستان کو سول خطابات کی منظوری اور عطاء کرنے کا استحقاق سونپ دیا گیا اس کے بعد ڈیکوریشن ایکٹ 1975ء لاگو کیا گیا۔ پاکستان میں سول خطابات کی چار حصوں میں درجہ بندی کی گئی: نشان، ہلال، ستارہ اور تمغہ، اس میں پہلے درجہ کا سول خطاب ’نشان‘ ہے جسے مزید پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ؛ نشان پاکستان، نشان شجاعت، نشان امتیاز، نشان قائد اعظم، نشان خدمت۔

ڈیکوریشن ایکٹ میں تعلیمی امتیاز کی درجہ بندی رکھی ہے جس کے تحت؛ ریسرچ، طب، سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، فلسفہ، تاریخ، ادب یا فنون اور قومی سطح کی ایجاد شامل ہیں۔ ڈیکوریشن ایکٹ میں شامل باقی تین کیٹیگریز کا تعلق افواج، بہادری اور شجاعت سے متعلقہ ہیں۔ گزشتہ روز 23 مارچ، پاکستانی شہریوں کو سول خطابات سے نوازا گیا ہے۔ پنجاب میں 132، سندھ میں 76، بلوچستان میں 15 اور پختونخوا میں 59 شخصیات کو سول خطابات سے نوازا گیا ہے۔

شہریوں میں یہ خطابات تقسیم کرنے کی رائج پالیسی کے تحت 2023ء میں ان افراد کے نام صدر پاکستان کو وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے سرکاری طور پر صدر پاکستان کو بھجوائے گئے تھے، وزارت ہر شہری سے متعلقہ کیٹیگری کے تحت سول خطاب کے لیے درخواستیں طلب کرتی ہے اور یہ شہری اپنی خدمات کی تفصیلات کے ساتھ فارم متعلقہ وزارت کو ارسال کر دیتے ہیں جس کے بعد سکروٹنی کمیٹی میں شامل سرکاری افسران ناموں کی سفارشات صدر پاکستان کو بھجواتی ہے، یوں سول خطاب کا مکمل اختیار سرکاری کمیٹی کے سپرد ہوتا ہے۔

دو روز سے پاکستان کے تعلیمی حلقہ جات میں یہ مباحثہ جاری ہے کہ اداکاراؤں، فلمی ستاروں، صحافیوں کو یہ ایوارڈ نواز کر پاکستان کے شعبہ علم و تحقیق سے وابستہ افراد کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ایسے شہریوں کو سول خطابات سے نواز دیا گیا ہے جو ملک کے غیر پیداواری شعبہ جات سے منسلک ہیں۔ ڈیکوریشن ایکٹ کے تحت تو فلاسفرز کو بھی ایوارڈ دیا جائے گا، کیا پاکستان میں قومی سطح کے فلسفی ناپید ہیں؟ کیا سائنس و انجینئرنگ کے شعبہ جات میں ماہرین پیدا کرنے کے لیے جامعات بانجھ پن کا شکار ہیں؟

پاکستان میں میڈیکل شعبہ میں پوزیشن ہولڈرز داخلہ حاصل کرتے ہیں، کیا شعبہ طب بھی بانجھ پن کا شکار ہے؟ کیا ریاست پاکستان میں ادیب پیدا نہیں ہو رہے؟ اگر تو یہ سب نہیں ہو رہا تو پھر ریاست چلانے والے ایلیٹ طبقات کو مملکت پاکستان پر حاکمیت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ان کی حاکمیت میں سماج اہم ترین پیداواری شعبہ جات میں بانجھ پن کا شکار ہو چکا ہے اور اگر بانجھ پن کا شکار نہیں ہے تو پھر ایسے افراد کو نظر انداز کر کے پاکستان میں سول خطابات کو اقرباء پروری، تملق اور مخصوص فکر کے حامل افراد پر نوازشات کر کے پاکستان کے ذہین طبقات کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS