دائیں اور بائیں بازوں کی سیاسی جماعتیں

گزشتہ کئی دنوں سے قریبی احباب میں ایک بحث نے شدت سے جنم لیا اور کئی روز کی طوالت بحث کے نتیجہ میں گزشتہ روز کچھ نہ کچھ گتھی سلجھی تو یہ شعر یاد آ گیا۔
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
خیر بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی اصطلاح اکثر و بیشتر استعمال کی جاتی ہے۔ جسے عام آدمی و کند ذہن تو کجا اچھا خاصا پڑھا لکھا بھی سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے۔
دائیں بازو کی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام کی حمایت یافتہ اور بائیں بازو کی جماعتیں سوشلزم، سماج اور عوامی حمایت میں نظر آتی ہیں۔ اسی طرح مذہبی سیاسی یا سیاسی مذہبی جماعتیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی الہ کار، گروہیت و فرقہ واریت پر مبنی ہوں ان کو بھی دائیں بازو کی جماعتیں ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح جو مذہبی جماعتیں کسی مخصوص گروہیت یا فرقہ واریت کی بجائے عالم گیریت کا نظریہ، سماجی حقوق و انسانیت کی بات کریں انہیں بائیں بازو کی جماعتوں میں شامل کیا جاتا ہے
بائیں بازو کی جماعتوں کو عام طور پر انسان دوست، روشن خیال، عوامی، حقیقی جمہوری ( انقلابی ) جماعتیں تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے برعکس دائیں بازو کی جماعتوں کو دقیانوس، مروجہ، نام نہاد جمہوری، انقلاب دشمن، گروہی و مفاداتی جماعتوں کی اصطلاح میں لیا جاتا ہے
جو ممالک سامراجی و آلا کار ہیں ان میں درج بالا فارمولا سے باآسانی دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر سوشلسٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار ممالک میں کچھ مزید ذیلی اصطلاحات کے ساتھ ان کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
آسان الفاظ میں دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات کے ساتھ ساتھ سینٹر لیفٹ پارٹیز اور سیٹر رائٹ پارٹیز کی اصطلاحات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
سینٹر رائٹ پارٹیز ایسی جماعتیں ہوتی ہیں جو مخصوص حد تک اپنا جھکاؤ لیفٹ بازوں جماعتوں کی طرف بھی رکھتی ہیں۔ تاہم زیادہ تر ایجنڈا رائٹ ونگ کا ہی فالو/ عمل درآمد کرتی ہیں۔ اور اسی طرح سینٹر لیفٹ ونگ ہے جو کچھ نرمی کے ساتھ رائٹ ونگ کی کچھ باتوں یعنی انقلاب کی بجائے تبدیلی بذریعہ الیکشن وغیرہ اور جیسے سرمایہ دارانہ کنٹرولڈ معاشی نظام اور دوسری باتوں پر افہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے رائٹ ونگ کی کچھ پالیسیوں سے متفق نظر آتا ہے۔
پاکستان میں پی ٹی آئی، کسی حد تک سینٹر رائٹ ونگ جماعت کی بہترین مثال ہے۔
جاری ہے۔

