جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو کیوں برطرف کیا گیا؟
یہ کم و بیش 6 سال قبل کی بات ہے۔ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے عمران خان پراجیکٹ پر کام ہو رہا تھا۔ نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کر لی گئی تھی۔ نواز شریف کو جمہوری سسٹم سے نکال باہر کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جا رہی تھی۔ عدلیہ واحد ادارہ تھا۔ جہاں نواز شریف کو ریلیف ملنے کی امید تھی لیکن اس پر بڑی حد طاقت ور لوگ سوار ہو چکے تھے۔ اکا دکا ججوں کو رام کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں اس وقت کے ڈی جی سی جنرل فیض حمید جو پچھلے دو سال سے نواز شریف کو نشان عبرت بنانے کے لئے سرگرداں تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کی رہائش گاہ پر آئے تو انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے کیسوں کے بارے میں استفسار کیا جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا جس پر جنرل فیض حمید نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا تو ہونی ہے۔ صرف کوانٹم پر بات کروں گا جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل فیض حمید کو دو ٹوک جواب دے دیا کہ میں کسی کی دنیا بنانے اور بگاڑنے کے لئے اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا جنرل فیض حمید جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا خلاف توقع جواب سننے کے لئے تیار نہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کی بات کی تو ملاقات ناخوشگوار نوٹ پر ختم ہوئی جنرل فیض حمید کی درخواست پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے ان کے گھر پر ہی ملاقاتیں ہوئیں، ایک ملاقات نواز شریف کو سزا سے چار دن پہلے ہوئی، جنرل فیض حمید کو احتساب عدالت میں چلنے والے کیس کے فیصلے کا پہلے سے پتا تھا جنرل فیض حمید نے کہا کہ طے ہو گیا ہے کہ سزا ہونی ہے۔
صرف اس کی نوعیت پر بات ہونی ہے۔ جنرل فیض حمید چاہتے تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس بنچ کے پاس کیس کی سماعت ہو جس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی شامل ہوں فیصلہ دینے سے اس کی ساکھ بنے گی جنرل فیض حمید اس وقت ڈی جی سی تھے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پاس آئے، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کی کوئی حیثیت نظر نہیں آتی تھی۔ شاید کسی کو پتا بھی نہ ہو کہ اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی کون تھا۔ اس وقت سب کچھ ڈی جی سی اور آرمی چیف تھے۔
جنرل فیض حمید نے دوسری ملاقات میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے کہا آپ کیوں میری نوکری کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ میرے باس کہتے ہیں۔ تم سے ہائیکورٹ کا ایک جج ڈیل نہیں ہوتا جسٹس شوکت صدیقی نے بنچوں سے ہٹانے پر اس وقت کے چیف جسٹس انور کاسی سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے بہت دباؤ تھا جس پر جسٹس شاہد وزیر صدیقی اور چیف جسٹس کے درمیان تلخی بھی ہوئی، جسٹس انور کاسی نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے دباؤ کا ذکر کیا، چیف جسٹس نے جسٹس شاہد عزیز صدیقی سے ان کی علالت کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں بیمار ہوں تو مجھے سنگل بنچ کے کیسز بھی نہ دیے جائیں جنرل فیض حمید نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو جلد چیف جسٹس ہائیکورٹ بنانے کی پیشکش بھی کی لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنا ضمیر گروی رکھنے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ اپنا ضمیر یا قلم اسٹیبلشمنٹ کے پاس گروی رکھنے کے بعد انصاف نہیں ہو سکتا۔
جسٹس شوکت صدیقی نے آرمی چیف کو اپنے آرڈر بھی بھجوائے کہ آپ کے لوگ میرے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے چیف جسٹس کو بھی اس بارے بتایا، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے تین دفعہ ملاقات کے لئے وقت مانگا مگر انہوں نے وقت نہیں دیا تو پھر ان کے پاس دو ہی راستے رہ گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر کے حقائق منظر عام پر لائیں دوسرا راولپنڈی بار ایسوسی ایشن تھی۔ جہاں سے انہوں نے اپنی وکالت کا آغاز کیا، بار ایسوسی ایشن نے انہیں خطاب کی دعوت دی تو انہوں وہ دھماکہ کر دیا جو ان کی برطرفی پر منتج ہوا جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کم و بیش 5 سال تک انصاف کے حصول کے لئے مختلف عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن جسٹس نثار ثاقب نے ان کو انصاف فراہم کیا اور نہ ہی ان کے بعد آنے والے چیف جسٹسز نے ان کی درخواستوں قابل در خور اعتنا سمجھا وہ برملا یہ بات کہتے رہے کہ میرے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں جھوٹا ثابت ہوں تو مجھے ڈی چوک پر پھانسی دے دی جائے بالآخر جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بینچ سے سرخرو ہوئے ان کے وکیل حامد خان نے ان کا کیس لڑنے کا حق ادا کر دیا شوکت عزیز صدیقی کا موقف ہے کہ میرے لیے سب سے اہم بات بریت تھی۔ مراعات وغیرہ ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ شوکت صدیقی جن کو پچھلے 5، 6 سال بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں ہمت نہیں ہاری اور انصاف کے حصول کے لئے جد و جہد جاری رکھی ان کا یہ موقف رہا ہے کہ ان ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جنہوں نے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ لیا ہو، اگر میں جھوٹا ثابت ہوں تو ڈی چوک پر پھانسی دے دی جائے۔
جسٹس شاہد عزیز صدیقی کو 5 سال بعد ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت سے انصاف مل گیا سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کر لیں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے ریٹائرڈ جج کے طور شوکت عزیز صدیقی کی تمام مراعات بحال کر دی ہیں۔ تاہم تاخیر سے کیس کی سماعت ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے۔ لہذا ان کو ان کے عہدے پر بحال نہیں کیا گیا شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریٹائرڈ جج ہوں گے۔
اگر شوکت عزیز صدیقی 6 سال قبل جبر کے دور میں برطرف نہ کیے جاتے تو وہ سینیارٹی کے لحاظ سے نہ صرف اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس تھے۔ ممکن ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے جج بن بھی جاتے لیکن ان کو قبل از وقت ملازمت سے نکال دیا گیا بلکہ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا لیکن یہ بہادر جج نے نہ صرف طاقت ور لوگوں کے سامنے ڈٹ گیا برطرفی قبول کر لی لیکن اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا انہوں نے نواز شریف کو جمہوری سسٹم سے باہر نکالنے کی سازش کو بروقت ایکسپوز کیا اپنے جرات مندانہ اقدام کی بھاری قیمت ادا کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے 23 صفحات پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا تو نہ صرف پارے ملک میں اس کی بازگشت سنی گئی بلکہ یہ فیصلہ ایک نظیر بن گیا ہے۔
فیصلے میں سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو کالعدم قرار دیدیا ہے۔ 23 جنوری 2024 ء کو سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے تھے کہ ہمیں محتاط چلنا ہو گا۔ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو یہی وجہ ہے۔ سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ 6 سال قبل ہونے والی زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی صرف شوکت عزیز کی جج کی حیثیت سے ریٹائر اور مراعات کو بحال کرنے کا فیصلہ دیا ہے جو شوکت عزیز صدیقی کی اخلاقی و قانونی فتح قرار دی جا سکتی ہے۔
شوکت عزیز ایک بہادر اور دباؤ قبول نہ کرنے والے جج کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں خطاب کرتے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے نواز شریف کو جمہوری سسٹم سے نکالے جانے کے منصوبہ کو ایکسپوز کیا تو پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی شوکت عزیز صدیقی زیر عتاب آ گئے بالآخر ان کی تقریر کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں لایا گیا اور ان کو آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عدلیہ سے نکال باہر کیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کو 11 اکتوبر 2018 کو خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں برطرف کیے گئے جج بحال کیے جانے کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو الزامات ثابت کرنے کا موقع دیا اور نہ ہی روبرو کروایا سپریم جوڈیشل کونسل پر لازم تھا کہ انکوائری کر واکر اس بات کا تعین کرتی کہ درخواست گزار جج اور جواب گزار جسٹس انور کاسی اور فیض حمید وغیرہ میں سے کون سچا، کون جھوٹا؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ ججوں کو محض سپریم جوڈیشل کونسل اور شکایت کنندگان کی پسند و نا پسند پر نہیں چھوڑا جاسکتا، حال ہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایات پر 14 شہادتیں قلمبند کی گئیں، فاضل عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو غیر آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے 11 اکتوبر 2018 کو اس وقت کے وزیراعظم (عمران خان) اور ان کی کابینہ کی سفارش پر صدر عارف علوی کی جانب سے جاری ان کی برطرفی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیدیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی جج سمیت ہر شہری کے ساتھ آئین میں درج بنیادی حقوق میں منصفانہ ٹرائل اور مناسب عمل کے مطابق صفائی کا موقع فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو منصفانہ ٹرائل اور مناسب کارروائی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو اس بات کی اجازت نہیں کہ اگر کسی جج پر کوئی الزام لگے تو اس کا تعین کرنے کے دوران اسے اس کے بنیادی حقوق سے ہی محروم کر دیا جائے، عدالت نے قرار دیا کہ اس سے قبل سپریم جوڈیشل کونسل میں جب بھی کسی جج کے خلاف کارروائی شروع کی گئی؟
تو پہلے اس کے خلاف الزامات سے متعلق شواہد اکٹھے کیے گئے اور ان کے نتیجہ میں الزامات ثابت ہو جانے کی بنیاد پر اس جج کو عہدے سے ہٹا یا جاتا تھا۔ عدالت نے جسٹس اخلاق حسین اور جسٹس شوکت علی کے خلاف شکایات کی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ انہیں ہٹانے سے قبل سپریم جوڈیشل کونسل نے شواہد قلمبند کیے تھے جب کہ حال ہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایات کی سماعت کے دوران 14 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی گئیں، ججوں کو محض سپریم جوڈیشل کونسل اور شکایات کنندگان کی پسند و ناپسند پر نہیں چھوڑا جاسکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ججوں کے ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے سنگین الزامات کو تو رپورٹ کا حصہ بنایا لیکن ان پر آزادانہ انکوائری نہیں کی، آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے اور ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ یا قانون میں ججوں کے لئے اظہار رائے کی آزادی کی کوئی ممانعت نہیں اور جب تک الزامات غلط ثابت نہ ہوں، اظہار رائے کی بنیاد پر کارروائی آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔


