افسانہ، ایک انکہی بات


وہ خواب میں ڈر جایا کرتا تھا۔ عمر کا تقاضہ بھی کہہ لیتے یا شاید دوش پریشانیوں کے سر جاتا مگر یہ تو بہت ہی پرانی عادت تھی اسکی۔

انسان بھی کتنا لاچار ہے۔ پہلے اپنی خواہشات کے ہاتھوں جبر کرتا ہے خود پر ۔ انھیں مار کر یا ان کے لیے جدوجہد کر کے یا پھر کوئی ناجائز طریقہ اپنا کر ۔ پھر آنے والی نسل یعنی کے اولاد تو انسان کو کہیں کا چھوڑتی ہی نہیں ہے نا۔ ایک تو ان کے نیک ہونے کی پریشانی اور ذمہ اری انسان کے کاندھوں پہ آ گرتی ہے دوسرا ان کے مستقبل کے لیے بھی لکڑ کی سیڑھی بننا پڑتا ہے۔ پھر اس کی بچپن سے شخصیت میں گندھی ہوئی عادات اولاد کو ناگوار لگنے لگتی ہے۔ اور والدین منہ کھولے ششدر کھڑے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ کیا بک رہا ہے۔ مگر کہہ بھی نہیں پاتے۔

بلا شبہ تمام والدین ایسے نہیں ہوتے۔
اور نہ ہی تمام تر اولاد۔

تو اس کا بیٹا رات کو سوئے سوئے ڈر جاتا تھا۔ اچانک عجیب سی چیخ نما آواز میں بولنے لگتا تھا۔ اس کا باپ اسے جھنجوڑتا اور وہ اٹھ بیٹھتا تھا۔ یہ واقع تقریباً ہر دو تین دن بعد رونما ہوتا تھا۔ اور اس کا باپ ہر بار اس کے جاگ جانے کے بعد پوچھتا

”“ کی ہویا پٌت؟

دن میں اس کا بوڑھا باپ چوہدری کی زمینوں میں کام کر کے آتا اور پھر سارا دن اسے تانے اور گالیاں دیتا اور رات جب وہ ڈر کر اٹھتا تو اسے بہت پیار سے دوبارہ سو جانے کا کہہ دیتا۔ شاید پچھلے چھ سات سالوں میں وہی لمحہ ہوتا تھا جب اس کا باپ اسے شفقت سے کچھ کہتا تھا۔

اور اسی وجہ سے وہ ہر بار اپنے خواب سے پریشان ہونا چھوڑ کر پھر نیند کی گود میں جا لوٹتا تھا۔ سات سال پہلے اس کے باپ نے اس کی بے روزگاری اور کاہلی سے تنگ آ کر محلے کی ایک عورت سے اس کی شادی کر دی تھی۔ وہ عمر میں اس سے بڑی تھی اور شکل و صورت نہ ہونے کے باعث رشتہ بھی نہ ہوتا تھا۔ مگر شادی کے چند ماہ بعد ہی اس نے اسے بدشکل اور بدنصیب کہہ کر طلاق کی مہر اس کے متھے پر لگا دی تھی۔

اس کے بعد سے اس کا باپ اس سے بہت تلخ ہو گیا تھا۔ ماں جب زندہ تھی تو کچھ سہارا تھا۔ گھر گھر لگتا تھا مگر اب تو کچی دیواروں میں سے شام پڑتے ہی سفید چادروں والی چڑیلیں گھر کی طرف لپکتی محسوس ہوتی تھیں اور جیسے ہی شام رات میں بدلتی چادریں کالے رنگ میں ڈھل جاتیں اور منہ دبائے ان دونوں پہ ہنستی رہتی تھیں۔ وہ دونوں اپنے اپنے خوف میں سہمے صحن میں بیٹھے رہتے۔ جو اپنے جی سے پہلے ہار جاتا وہ اٹھ کر دیا روشن کر دیتا تھا۔

مسلۂ یہاں آمدن کا نہیں تھا کیوں کہ وہ تو باپ کی اتنی تھی کے دونوں کا پیٹ پل جاتا۔ کشیدگی یہ تھی کہ دونوں تنہائی میں گرفتہ تھے اور ایک دوسرے سے ناآشنا تھے۔ دونوں پکی عمر میں داخل ہو چکے تھے مگر زندگی کا سبق ابھی تک کچا تھا۔ تختی گاچی بہت رگڑی تھی مگر لکھائی میں بہتری نہ ہوئی تھی کیونکہ توجہ بہتری کی طرف تھی ہی نہیں۔

ایک شام باپ کھیتوں سے دیر سے آیا تھا۔ وہ صبح جاتے وقت چند پیسے چابیوں کی کلی کے پاس رکھ جاتا تھا جس سے اس کا بیٹا دن بھر کا کھانا کھا لیتا تھا۔ اور شام کو بھی باپ کے آنے سے پہلے کھا چکتا تھا۔ پہلے پہل باپ اس کے لیے کھانا لایا کرتا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ ہر کام الگ ہو گیا۔ سردیوں کی آمد ہوا کی خنکی اور خاموشی سے واضح تھی۔ مغرب کی اذان ہوئے آدھا گھنٹا بیت چکا تھا۔ باپ اندر داخل ہوا تو بیٹا چارپائی پہ سو رہا رہا تھا۔

اس نے چارپائی باپ کی چارپائی سے اور دور کھسکا لی تھی۔ باپ نے نظر انداز کیا اور نل کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپر تھا جس میں چائے کی پتی اور کھلا دودھ تھا۔ اس نے شاپر نلکے کے مٹھ کے ساتھ لٹکایا اور ہاتھ دھونے لگا۔ پھر شاپر اتار کر اس جانب بڑھا جہاں صحن کے ایک کونے میں چولہا اور چند برتنوں کی ایک ٹوکری پڑی تھی۔ اس نے کالے پندے والی ایک گول دیگچی اٹھائی اور اس میں دودھ انڈیل دیا۔

وہ اپنے بیٹے کی موجودگی سے مکمل انکاری معلوم ہوتا تھا۔ اس نے چائے چولہے پر چڑھائی۔ اور آگ کو گھورنے لگا۔ چائے پینا یعنی دن کی معمول سے زیادہ تھکان کی علامت تھی۔ چائے کو ابال آیا تو اس نے آنچ ہلکی کر دی۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ اس نے چائے کو دوسرا ابال دلوایا اور پھر کپ میں انڈیل کر برتن نلکے کی جانب لے کر چل پڑا۔ چائے کے برتن دھو کر اس نے کپ اٹھایا اور اپنی چارپائی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹے کے پڑے ہوئے وجود پر ایک نظر دوڑائی اور اپنی چارپائی دور کرنے پر ہلکا سا کڑھا جیسے گرم چولہے کی سل پر پانی ڈالو تو ہلکی کی سریلی آواز آتی ہے اور پل بھر میں مر جاتی ہے۔

چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے کوئی بھی سوچ اس کے دماغ میں نہ آئی تھی۔ سپاٹ ذہن، ہر سوچ سے خالی دماغ کس قدر و ہشت ناک ہوتا ہو گا۔

چائے پی کر اس نے کپ چارپائی کے نیچے کھسکایا اور تھکان کے مارے سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔ اور اگلی ہی ساعت وہ نیند کے آغوش میں تھا۔

بیٹے نے کچی نیند میں کروٹ بدلی اور آنکھیں کھول کر باپ کو دیکھا اور پھر آنکھیں میچ لیں۔ یک دم باہر کے دروازے کی کنڈی کے سوراخ سے ایک ہلکی سی روشنی کی کرن نے اندر جھانکا اور فوراً چھپ گئی۔ اس کی نیند میں ہلکا سا خلل پیدا ہوا شاید ذرا سی آنکھیں بھی کھولیں اور پھر سو گیا۔

تھوڑی دیر بعد روشنی پھر سے گزری۔ جیسے کوئی ٹرین کا گارڈ ہاتھ میں ٹارچ تھامے گھپ اندھیرے میں پٹری کی چھان بھنک کر رہا ہو۔

اس کی آنکھیں بند رہیں مگر اوسان چکنا ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں دیے کی روشنی ہوئی۔ اس کی آنکھیں بند رہیں مگر طبق چاق و چوبند ہو گئے۔ ہمسائے کے درخت میں کوئی پرندہ پھڑپھڑایا۔ اس کے تمام کبوتر اڑ گئے مگر آنکھیں بند رہیں۔ کمرے میں جلتے دیے کی لو مسلسل ہلتی رہی جیسے کمرے میں تیز ہوا چل رہی ہو۔ پھر اچانک باہر کے دروازے سے تیز روشنی آنے لگی۔ پھر دروازے کے کواڑوں کے آگے کوئی بہت بڑے حجم کی شے آ کھڑی ہوئی جس کا عکس دروازے کے سامنے بن گیا۔ وہ انسان لگتا تھا کیونکہ اس کی بند آنکھیں اسے انسان بنانے پر تلی تھیں۔ مگر اس کے جسم کے پیچھے کچھ بہت بڑی شے کا سایا بھی تھا۔ جیسے کوئی فرشتہ ہو۔ پیشانی پسینے میں شرابور تھی۔ وہ لرز رہا تھا۔ شاید وہ اس کی موت کا پیام تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ دروازہ روشن تھا۔

وہ آنکھیں زور سے میچے ایک بار پھر خواب میں ڈر گیا تھا مگر باپ سے چارپائی دور کرنے کے باعث آج اس کا باپ بھی اسے جگا نہ پایا تھا۔ ایک دم اس نے چیخ مار کر خود کو جگایا تھا۔ وہ پہلے کبھی اس قدر خوف زدہ نہیں ہوا تھا۔ اسے لگا کہ موت اس کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس کا جی چاہا کہ وہ باپ کے بازوؤں میں پناہ لے لے۔ وہ ہمت کر کے چارپائی سے اترا اور دوڑ کر اپنے باپ کی چارپائی پر جا گرا۔ اسے امید تھی کہ اس کا باپ ہر بار کی طرح اسے شفقت سی سہلا کر سلا دے گا مگر اس کے باپ نے آنکھیں ہی نہ کھولیں شاید تھکان بہت زیادہ تھی۔ اس نے کئی سالوں میں پہلی بار پکارا

”ابا“
خاموشی۔
”ابا!“
اس نے اٹھ کر دیکھا۔
مگر سانس ساکن تھی
شاید تھکان بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔

اور یہی تو ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں۔ انسان رشتوں کی ڈور اتنا اکڑا لیتا ہے کہ اس کو سنبھالتے سنبھالتے انسان کے ہاتھ کٹنے لگتے ہیں مگر وہ ڈور جس کا مقصد درحقیقت ایک رابطہ تھا، انسان کے کیے ایک زحمت بن جاتی ہے۔ ہمیں رشتہ عطا کر دیا جاتا ہے مگر اسے نبھانا سکھایا ہی نہیں جاتا۔ ہم نسل در نسل چلی جانے والی ٹوٹی پگڈنڈی پہ چلتے رہتے ہیں بنا یہ سمجھے کہ جانا کہاں ہے۔ رشتے خدا کی عنایت ہیں لیکن ٹوٹا رابطہ اور بد گمانیاں انسان کے ہر حسین رشتے کو تیز دھار چاقو بنا دیتی ہیں جس سے زندگی اور اس کے ہر حسین رشتے کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

Facebook Comments HS