تنازعہ شندور اور تاریخی دستاویزات


تعارف

شندور دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ کے طور پر مشہور ہے۔ جہاں ہر سال چترال اور گلگت کے ٹیموں کے درمیاں پولو کا میچ کھیلا جاتا ہے۔ اور اسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ تشریف لے آتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہر سال یہاں پر جشن کا سماں ہوتا ہے تو دوسری طرف دونوں فریقین یعنی چترال اور گلگت کا دعویٰ ہے کہ شندور اسی کے سر زمیں کا حصہ ہے۔

اگرچہ اس تنازعے کے اوپر کافی کچھ لکھا گیا ہے۔ اور دونوں اطراف سے اپنے اپنے دعوے درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن دونوں طرف سے کافی حد تک شندور کے تاریخی پس منظر کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے سب سے مشہور اور پرانے اخبار (ڈان) میں بھی اس بارے میں کالم چھپے ہیں مگر ان کالم میں بھی حقیقت سے زیادہ لکھاریوں کا جھکاؤ کسی خاص سمت میں نظر آتا ہے۔

آج کے اس کالم میں تنازعہ شندور کو تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی پہلوؤں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں کہ ہماری تحریر میں زیادہ تر ابتدائی ذرائع (primary sources) استعمال ہو۔

تاریخی پس منظر

روایت ہے کہ ریاست چترال اپنی تاریخ کے زیادہ تر اوقات میں دو حصوں پر منقسم تھی۔ یعنی کہ بالائی اور زیریں چترال۔ جسے اپر یا لوئر چترال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تقسیم کٹور وقت میں رائج العمل تھی۔ چترال کے بلائی حصے میں یعنی مستوج لاسپور اور شندور کے اس پار کے علاقے یعنی پھنڈر، غذر اور یاسین پر خوشوقت کی حکومت تھی۔

1880 ء کی بات ہے جب یاسین کا حکمران پہلوان بہادر خان، پونیال پر حملہ کرتا ہے جو اس وقت کشمیر کا حصہ تھا۔ اس حملے کی وجہ سے یاسین کے بہادر خان کا سامنا امان الملک سے ہوجاتا ہے۔ جو کہ لوئر چترال کا حکمران تھا۔ امان الملک کے کشمیر کی طرف داری کر کے بہادر خان کے خلاف کھڑے ہونے کی واحد وجہ کشمیر چترال معاہدہ تھا۔ جو کہ 1878 ء میں طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق مہتر چترال والی کشمیر کے دشمنوں کو اپنے دشمن اور مہاراجہ کے خیر خواہوں کو اپنے دوست ماننے پر پابند تھے۔ دیکھئے
( A collection of treaties and Sanads)

اس جھگڑے کے نتیجے میں امان الملک کو کامیابی مل جاتی ہے۔ اور خوشوقت کے علاقوں میں اس کا اثر رسوخ بڑھ جاتا ہے۔ دیکھئے
( Gazetteer of Eastern Hindukush 1888, Captain E.G.Barrow)

واحد یہی وجہ نہیں تھی جس کی وجہ سے خوشوقت کے حکمرانوں کو اپنے علاقے کھونے پڑے۔ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ خوشوقت اور کٹور حکمران آمنے سامنے ہوئے تھے۔

اس سے پہلے 1854 ء میں بھی اپر چترال کے حکمران گوہر امان نے پونیال پر حملہ کیا تو کشمیر کے مہاراجہ نے کٹور حکمران کا سہارا لیا تھا۔ اس وقت شاہ افضل لوئر چترال کا حکمران تھا۔ انھوں نے مستوج پر حملہ کر کے مستوج کا علاقہ اپنے قبضے میں لیا تھا۔ بعد میں گوہر امان نے یہ علاقہ واپس لیا تھا۔

خوشوقت اور کٹور کے درمیان ہمیشہ اونچ نیچ ہوتی رہتی تھی جس کی وجہ سے کشمیر کے مہاراجہ اور کٹور حکمرانوں کے درمیان تعلقات بنتے گئے۔ کیونکہ خوشوقت حکمرانوں سے کشمیر کے ڈوگروں کو بھی خطرہ ہوتا تھا۔

1895 ء تک اپر اور لوئر چترال دونوں میں کٹور خاندان کا اثر رسوخ اور حکمرانی کامیابی سے چلتے رہے۔

لیکن 1895 کے محاصرہ چترال کے بعد چترال پر برطانوی حکومت اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ اور محاصرہ چترال کے بعد چترال کی تقسیم کچھ اس طرح سے کی جاتی ہے۔ کہ ریاست چترال شندور کے اس پار کے علاقے پھنڈر، غذر اور یاسین کو ہمیشہ کے لئے کھو دیتی ہے۔ اور بعد میں شندور بھی ایک تنازعہ بن کے رہ جاتا ہے۔

برطانوی حکومت محاصرہ چترال کے دوران اور بعد میں چترال کے ساتھ بھی Divide and Rule یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کرتی ہیں۔ یعنی خوشوقت اور کٹور کے آپس میں لڑائی جھگڑوں کا فائدہ اٹھا کر خوشوقت کے علاقوں کو علاقوں کو ہمیشہ سے خوشوقت کاؤنٹی کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ کٹور اور خوشوقت دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔

اس کے علاوہ 1895 کی محاصرہ چترال کے دوران جب چترال کی طرف سے شیر افضل اور عمرا خان کے حملے روکنے کے لیے چترال کے جنگجو گہریت کے مقام پر پڑاؤ ڈھال چکے ہوتے ہیں تو اس وقت خوشوقت کے لوگ شیر افضل کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔

اور محاصرہ چترال کے بعد بھی خوشوقت کے لوگوں نے کسی کٹور حکمران کو اپنا حکمران ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ دیکھئے
( An official Account of the Chitral Expedition 1895 Robertson )

اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر برطانوی افسروں نے چترال کو تقسیم کر کے خوشوقت کے علاقے گلگت ایجنسی کے حوالے کر دیے۔ اگر خوشوقت اور کٹور آپس میں اتفاق سے حکمرانی کرتے تو شاید چترال کو اپنے علاقے کھونے نہ پڑتے۔

شندور کا تنازعہ کیسے شروع ہوا۔

چترال میں برطانوی راج کی کامیابی کے بعد 2 ستمبر 1895 ء کو چترال کے شاہی قلعے میں ایک دربار منعقد کیا جاتا ہے۔ جس میں شجاع الملک کو انگریزوں کی طرف سے چترال کا مہتر بنایا جاتا ہے۔ اور تین مشیر مقامی انتظامات کے امور کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ دیکھئے
( Military report and Gazetteer on Chitral 1928)

شجاع الملک اپنے تخت نشینی کے وقت صرف پندرہ سال کا لڑکا تھا۔ اور انگریز افسر آپس میں اسے مذاق مذاق میں (شوگر ملک ) کہتے تھے۔ اس کی لڑکپن، کم عمری اور برطانوی راج اپنی پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چترال کے علاقوں کو انتظامی مقاصد کے لیے مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

لوئر چترال شجاع الملک کو دیا جاتا ہے۔
مستوج اور لاسپور کے علاقوں میں گورنر تعینات کیے جاتے ہیں۔

شندور کے اس پار علاقوں یعنی پھنڈر، غذر اور یاسین تک بھی گورنر تعینات کر کے انھیں گلگت ایجنسی کے کنٹرول میں دیے جاتے ہیں۔

دیکھئیے
(Military Report and Gazetteer on Chitral 1928)

1914 تک یہ تقسیم برقرار رہتی ہے۔ 1914 میں لاسپور اور مستوج کے علاقوں کو علاقوں کو دوبارہ چترال کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لیکن شندور کے پار علاقے پھنڈر، غذر اور یاسین ہزار کوششوں کے باوجود مہتر چترال کو نہیں دیے جاتے۔

چترال کے حکمرانوں کی طرف سے ان علاقوں کی واپسی کے لئے وقتاً فوقتاً درخواست گزاری کی جاتی ہے لیکن کہیں پر بھی سنوائی نہیں ہوتی۔ درخواست گزاری کا یہ سلسلہ 1914 سے 1947 تک جاری رہتا ہے۔

سال 1910 سے لے کر آگے دو دہائیوں تک پھنڈر، غذر اور یاسین کے علاقوں کے حوالے سے چترال کے حکمران اور برطانوی افسروں کے درمیاں خط و کتابت ہوتی رہتی ہے اس کے بعد شندور کا مسئلہ زور پکڑتا ہے۔ چونکہ ہمارا عنوان صرف شندور ہے اس لئے اسی کو ہی فوکس کریں گے۔

1933 ء میں یادداشت کی کاپی گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ کی طرف سے پولیٹیکل ایجنٹ مالاکنڈ کو بھیج دیس جاتا ہے۔ یہ یادداشت شندور کے تنازعے کے بارے میں تھی۔ اس یاداشت کے مطابق گلگت کی طرف سے شندور کے مسئلے کے اوپر اعتراضات اور سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ چترال کے مہتر گلگت کی حدود کے اندر پولو گراؤنڈ اور جھونپڑی ہٹس بنا چکے ہیں۔

گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ لکھتے ہیں کہ پولو گراؤنڈ میں جھونپڑی کی مرمت کا کام لاسپور کے لوگ مہتر کے کہنے پر کرتے ہیں۔ اور مہتر چترال کا بیٹا ابھی حال ہی میں موسم بہار کے دنوں وہاں ٹھہرا تھا۔

مزید یہ کہ گلگت کے سنگ میل T 14 اور T 15 کو گاؤں ٹیرو سے ہٹا کر ان کی جگہ L اور M میل سٹون کھڑا کیا گیا ہے۔ جن کا مطلب Lowari اور Mastuj بن جاتا ہے۔

( Memorandum, By Political Agent Gilgit to Malaknd, Archive Peshawer.)

اس واقعے کے بعد 24 اکتوبر 1933 کو پولیٹیکل ایجنٹ مالاکنڈ کی طرف سے مہتر چترال کو ایک خط جاتا ہے۔ جس میں مہتر چترال کو مخاطب کر کے پولیٹیکل ایجنٹ مالاکنڈ لکھتے ہیں کہ

” چترال میں میرے قیام کے دوران میں نے آپ کو گلگت کی طرف سے کی گئی شکایات کے آگاہ کیا تھا۔ اس میں سے سب سے اہم مسئلہ ڈاک بنگلہ کا تھا جو کہ کیپٹن کوب کے زمانے میں گلگت کی حدود میں بنایا گیا تھا۔ 1928 میں اس جگے کا معائنہ سکاؤٹس کے تین بندوں نے کیا تھا جن میں سے دو چترال سے جبکہ ایک گلگت سے تھا۔ اور 1929 میں دوبارہ سروے آ فیسر کے ذریعے بھی اس جگے کا معائنہ کیا گیا تھا۔ دونوں ٹیمیں اس بات پر متفق تھیں کہ حقیقی واٹر شیڈ جھیل کے مغربی جانب واقع ہے۔ اسی لئے مستقبل میں اسی واٹر شیڈ کو ریاست کی حد تصور کریں گے۔ اور مہتر چترال اپنے کسی بیٹے یا عہدیدار کو اسے عبور کرنے نہیں دیں گے ہاں البتہ پولیٹیکل ایجنٹ گلگت کی رضامندی ہو تو اس علاقے میں جا سکتا ہے۔ اس سے ہارچن اور لاسپور کے علاقوں دوسرے گاؤں کی چرائی اور لکڑی کاٹنے کے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ باقی ڈاک بنگلہ کا مسئلہ گلگت کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ پھر اسے سلامت رکھیں پا پھر گرا دیں ”

( Letter from Political Agent Malaknd to Mehtar Chitral. Archive Peshawar)

اس خط کا سادہ مطلب یہ تھا کہ شندور جھیل کے مغربی طرف کا واٹر شیڈ ریاست چترال کی آخری حدود ہے۔ اس سے آگے چترال کا مہتر یا کوئی حاکم نہیں جاسکتا۔ ہاں البتہ گلگت کے حدود میں لاسپور کے لوگوں کو مال مویشیاں چرانے اور لکڑی کاٹنے کا حق حاصل ہے۔

24 اکتوبر کو ایک اور خط "رابرٹ ہے” پولیٹیکل ایجنٹ مالاکنڈ، صوبہ سرحد کے چیف سکریٹری کو بھیجتے ہیں۔ اس خط میں بھی اوپر والی تمام باتیں دہرائی گئی تھی اور شندور جھیل کی مغربی طرف کے واٹر شیڈ کو ریاست چترال کی آخری حدود قرار دی جاتی ہے۔

( Letter from Political Agent Malaknd to Chief Secretary of the Government of N.W.F.P. Archive Peshawer)

اسی طرح 29 اکتوبر 1933 کو مہتر چترال شجاع الملک، مالاکنڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ میجر ڈبلیو آر کو شندور کے حوالے سے ایک مفصل خط لکھتے ہیں۔

جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

1914 ء میں مستوج اور لاسپور کو واپس چترال منتقل کرنے کے دوران مہتر چترال اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ چترال اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ گلگت کے ساتھ شندور ٹاپ کے مقام پر ایک ہفتے کے لیے کیمپ لگا کر ٹھہرے تھے۔ اس وقت سرکاری طور پر باؤنڈری کا تعین کیا گیا تھا۔ جو کہ اب تک یعنی 1933 تک ٹھیک چلا آ رہا تھا۔ اور دوبارہ 1916 میں بھی کرنل سمتھ اور میجر ریلی نے دوبارہ باؤنڈری لائن کے اوپر بات کرتے ہوئے انہوں نے بھی پہلے والے حدود کو فائنل حدود قرار دیا تھا۔ اور اسی طرح مسٹر وڈ بولارڈز نے بھی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ چترال کے ساتھ 1928 ء میں شندور ٹاپ کے مقام پر مل کر ایک بار پھر ان حدود کی تصدیق کی تھی۔

مزید مہتر چترال کا دعویٰ تھا کہ ”میرا بیٹا جب گورنر آف مستوج تھا تو اس نے ہمیشہ سے اسی جگہ کی سیر کی ہے۔ اس وقت کسی نے نہ کوئی اعتراض کیا نہ کسی کی طرف سے کوئی سوال تھا۔ حالانکہ اس وقت مستوج کی منتقلی بھی نہیں ہوئی تھی“ ۔

مزید یہ کہ 1895 ء سے لے کر لاسپور کا حاکم ہی پورے شندور ٹاپ کا انچارج رہ چکا تھا۔ اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شندور چترال کا حصہ ہے۔

اور ڈاک بنگلہ کے حوالے سے مہتر کا لکھنا تھا کہ وہ کافی عرصہ پہلے بذات خود اس کو اپنے نام پر تعمیر کیا تھا۔ اب تک اس کے اوپر کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا لیکن اسی سال اس ڈاک بنگلہ کو گلگت ایجنسی کو سونپنے کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ مہتر کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ جہاں پر ڈاک بنگلہ واقع ہے مجھے سیاسی حکام نے دیے تھے۔ اور ہارچن اور لاسپور کے لوگ اکثر گرمیوں میں اس جگہ منتقل ہوتے ہیں۔

( Letter from Mehtar Chitral to P.A .Malaknd)

اسی طرح 6 نومبر 1933 کو پولیٹیکل ایجنٹ مالاکنڈ کی طرف صوبہ سرحد کے چیف سکریٹری کو ایک خط بھیجا جاتا ہے۔ یہ خط بھی شندور کے مسئلے کے اوپر تھا۔ اس خط میں صرف اتنا لکھا گیا تھا کہ شندور جھیل کے دو واٹر شیڈ ہیں ایک مغرب کی طرف اور دوسرا مشرق کی طرف۔ اور مہتر کا ڈاک بنگلہ جھیل کے نزدیک دونوں واٹر شیڈ کے درمیان تھا۔

(Letter from Political Agent Malaknd to the Chief Secretary of the Government of N.W.F.P.)

مختصر یوں کہ شندور کے اوپر مہتر چترال کا دعویٰ تھا کہ شندور ٹاپ کا پورا علاقہ چترال کا ہے۔ جبکہ برطانوی افسران اس بات پر بضد تھے کہ شندور جھیل ساتھ والے واٹر شیڈز آخری حدود کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اس بات کو بھی برطانوی افسر بھی مانتے تھے کہ شندور کے مقام پر گلگت کی حدود میں لاسپور کے لوگوں کو مال مویشیوں چرانے کے لیے چراگاہیں اور لکڑیاں کاٹنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

چترال کے حکمران 1910 ء سے لے کر اگلے دو دہائیوں پھنڈر، غذر اور یاسین تک کے علاقوں کی واپسی کے لئے بھر پور جہدوجہد کر رہے تھے بالآخر 1930 کے بعد سے ان کے سارے توجہ ان علاقوں کو چھوڑ کر شندور پر مرکوز ہوتے ہیں۔ اسی طرح شندور کا تنازعہ تقسیم آزادی کے بعد بھی حل نہیں ہوتا اور شندور کا کوئی ایسا حل نہیں نکلتا ہے جو دونوں فریقین کو منظور ہو۔

لیکن پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی پھنڈر اور غذر کے دونوں دوبارہ سے دعویٰ کر کے مہتر چترال کی طرف سے جناح صاحب کو خط لکھا جاتا ہے۔ جس میں مہتر چترال نے جناح سے درخواست کی تھی کہ شندور کے دوسرے اطراف ہمارے علاقے زبردستی ہم سے چھین کر گلگت کے حوالے کیے گئے ہیں لہذا ان علاقوں کی واپسی کے لیے ہماری درخواست پر عمل کیا جائے۔

( Jinnah papers, volume V. Letter from Mehtar of Chitral to Jinnah)
حوالہ جات
1. A collection of treaties engagement and Sanads
2. Gazetteer of Eastern Hindukush 1888, Captain E.G.Barrow.
3. Military Report and Gazetteer on Chitral 1928.
4. An official Account of the Chitral expedition 1895, Robertson.
5. Memorandum By Political Agent Gilgit. National archive peshawer.
6. Letter from Political Agent Malaknd to Ruler of Chitral.
7. Letter from Political Agent Malaknd to the Chief Secretary of the Government of N.W.F.P.
8. Letter from the ruler of Chitral to political agent Malaknd.
9. Letter from ruler of Chitral to Jinnah.

Facebook Comments HS