یوم علی کے دن شیعان علی پر ایف آئی آر

اے! شیعان علی ٔ، اے! عزا داران مظلوم کربلا تم پر ایک ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ یہ ایف آئی آر کسی تھانے یا کورٹ میں نہیں بلکہ سیدہ الکونین فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہ کی دربار میں داخل کی گئی ہے۔
فریادی ہیں معصوم پریا کماری کے والدین جنہوں نے 10 محرم ( 19 اگست) 2021 کے روز یوم عاشور کے ماتمی جلوس میں اپنی 5 سالہ معصوم بیٹی کو زندان شام کی قیدی ایک 4 سالہ معصومہ کا غلام بنا کر اس کے پیاسے صغیر بھائی علی اصغر ٔ کے عزاداروں کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کے کوزے دے کر بھیجا تھا۔
وہ معصوم بچی پریا کماری یوم عاشورہ کے ماتمی جلوس سے اغوا ہو گئی اور پچھلے 31 ماہ سے یزید وقت کے زندان میں قید ہے۔
اے شیعان علی، اے عزا داران حسین تم پر فریاد ہے کہ تم نے اس ننھی عزادار کی اغوا اور ننھے سے سن میں اس بچی کے قید و بند پر کوفیوں کی طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
عزاداروں کے جھرمٹ سے اس بچی کا اغوا شیعان علی اور عزا داران حسین کے دامن پر ایک داغ ہے اور یہ تم پر سیدہ زہرا کی دربار میں ایک ایف آئی آر ہے۔
اے زندان شام میں باپ کے سینے سے جدائی کے غم میں رونے والی معصومہ سکینہ کے نوحہ خوانوں تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ ایک چار سالہ معصومہ کے لئے قید تنہائی کیا ہوتی؟ تم تو شام کا وہ زندان بھی دیکھ کر آئے ہو اور وہاں پھوٹ پھوٹ کر روئے بھی ہو۔ پھر میں پریا کماری کی قید پر تمہاری خاموشی کو کیا سمجھوں؟
تم تو خود کو علی علیہ السلام کے شیعہ کہتے ہو نہ؟ یہ وہی علی ہیں نہ جن کے دروازے پر کوئی سائل آ گیا تھا دینے کے لئے گھر میں کچھ نہ تھا تو حسنین کریمین کو گروی رکھ دیا تھا۔ پریا کماری کے والدین تو کوئی سائل نہیں ہیں۔ ان ہندو ماں باپ اور اس ننھی پریا کماری کے سامنے میری شیعت تو شرمسار ہو گئی ہے۔ تم بھی ذرہ سوچنا کہ علی مولا کل تم سے کیا پوچھیں گے۔
اے پرسہ داران سیدہ صغریٰ تم تو اس راہب کے قضیے سے بھی واقف ہو کہ جس نے سر حسین کو اپنی حفاظت میں رکھنے کے لئے ایک ایک کر کے اپنے جوان بیٹوں کے سر قلم کر کے سپاہ یزید کے سپرد کیے تھے کہ یہ لے جاؤ۔ کیا بھول گئے سید سجاد کی بشارت، کیا بھول گئے اس راہب کے لئے سید زینب سلام اللہ علیہ کی دعائیں؟ پھر کیوں خاموش ہو معصوم پریا کماری کی اغوا اور قید پر؟
ذرا سوچ کر تو دیکھنا غم حسین سے سرشار ہندو ماں باپ نے نبی ﷺ کا گلشن اجڑنے کا غم منانے کے لئے جب اپنی بیٹی کو سجا کر سبیل اصغر کے کوزے ہاتھوں میں تھما کر بھیجا ہو گا اور جب معصوم ننھی سی بیٹی واپس گھر نہ لوٹی ہوگی تو ان ماں باپ نے علی مولا کے حضور سے کیا فریاد کی ہوگی؟
کل یوم علی کے جلوس میں اگر تم سکھر کے علاقے سنگرار سے یوم عاشور کے جلوس سے اغوا ہونے والی اس ہندو بچی پریا کماری کی بازیابی کے لئے آواز نہ اٹھا سکو، احتجاج نہ کر سکو یا دھرنا نہ دے پاؤ اور دنیا کو یہ نہ بتاؤ کہ تم کس طرف ہو تو تم مجرم ٹھہرو گے۔ یزید وقت کے حامی ٹھہرو گے۔
اسے جناب سیدہ کی عدالت کا ایک نوٹس سمجھنا ہاں مگر مرضی تمہاری ہے کہ کل کیا پیغام دیتے ہو۔
لیکن یاد رکھنا بروز محشر بیبی تم سے ضرور پوچھیں گیں کہ میرے حسین کے ماتمی جلوس میں ایک ہندو عزادار بچی پیاسے ماتم داروں کو سبیل پلاتے ہوئے اغوا ہو گئی تھی اور تم نے اس کے لئے آواز تک نہ اٹھائی تھی۔ تم تو معصوم بچی پریا کماری کے مقروض تھے۔

