دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟


abdul ghaffar bugti dera bugti

دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ وہ جملہ ہے جو میں بچپن سے سنتے آرہا ہوں.صرف میں نہیں, میرے جیسا ہر وہ انسان جو کسی طبقاتی معاشرے میں پالا پڑا ہے. اور اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں تو ہمیں پتہ لگاتا ہے کہ اب تک جتنے دل سوز واقعات رونما ہوئے ہیں.ان کے پچھے کسی نہ کسی عقیدت مند انسان ہی پایا گیا ہے. وہ شخص کسی نہ کسی نظریے یہ عقیدے کی وجہ سے انسانیت کی تباہ کاریوں کا سبب بن گیا ہوتا ہے.ہمیں بچپن میں یہ سمجھا گیا کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں وہ سب انسان دوست ہوتے ہیں. مگر جتنی میرا مطالعہ اور تجربہ بڑھتا گیا. میں نے ان مذہبی لوگوں کو انسانوں کی تباہی کا وجہ پایا. جب میں عیسائیت کے پیروکاروں کی تاریخ کی جانب دیکھتا ہوں تو کیتھولک کو پروٹسٹنٹ کے سروں کا انبار لگتے دیکھتا ہوں اور اس طرح مسلمان  ہندو اور سکھوں کی لاشیں بچھاتے نظر اتے ہیں اور یہودیوں کو مسلمانون کی خون ریزی کرتے دیکھتا ہوں.مگر یہ سب کسی نہ کسی عقیدے کے پابند ہوتے ہیں.

انسان آج تک خدا کو پچانے کے لئے انسانیت کو روندتے آ رہے ہیں. اور پتہ نہیں کب تک روندتے جائیں گے.مگر اب بات حد سے بڑ گی ہے.ایک ہی مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی خون چوسنے پر تلے ہوے ہیں. ہمارے پیارے ملک پاکستان پر ایک نظر دوڑائیں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ کئی لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں. کبھی شیعہ، دیوبندی کے ہتھے چڑھ رہے ہیں اور کبھی دیوبندی شیعوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کے تمام عقائد سرمایہ داری نظام کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں . کسی جگہ دوسرے کا حق مار کر خدا کی مرضی کا درس دے جاتے ہیں. اور کبھی دنیا کی ماحولیاتی نظام کی بدحالی کا ذمہ دار خدا کو ٹھہراتے ہیں. اور عام انسان اتنا کم عقلی کا مظاہرہ کر کے ان سب چیزوں کو حقیقت مان لیتا ہے. مگر مزید کچھ عرصہ تک یہ ظاہر ہوجائے گا کہ اس سب کا زمہ دار خدا نہیں انسانوں کا ایک طبقہ تھا.
مگر ایک بات پر تو یقیں ہوجانا چاہے کہ دنیا میں کوئی بھی عقیدہ کل انسانیت کے لئے کارآمد نہیں ہے.

کیوں چاک پر وجود میں آئے عدم سے ہم
تنگ آ گئے فسانۂ دیر و حرم سے ہم
ہم سے لکھا پڑھا نہیں جاتا تو کس لیے
محروم کر دیے گئے کاغذ قلم سے ہم

Facebook Comments HS